جہیز سے گریز، کیسے؟ – عبد الرحیم عزمؔ

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارتا ہے۔ باہمی تعاون اور میل جول کے بغیر اس کی زندگی بے معنی ہے۔ اس سلسلہ میں انسان نے معاشرے میں خاندان، قبیلہ ، قوم اور ملک کی بہت سی اکائیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان میں سے سب سے بنیادی اکائی، ستون اور رکن خاندان ہے۔ خاندان میں مزید اکائیاں اور رشتے ہیں جن کی وجہ سے یہ باہم مربوط رہتا ہے۔ ان میں سے میاں بیوی کا رشتہ یعنی رشتہ ازدواج سب سے اہم ہے۔ اس رشتہ کو قائم کرنے کا ہر مذہب و ملت اور معاشرے میں ایک خاص طریقہ یا اسلوب مقررہے جسے شادی کہا جاتا ہے۔ اس شادی کے بندھن یعنی رشتہ کو قائم کرنے کے کچھ رواج، روایات اور رسوم ہر خطے، ملک یا معاشرے میں مقرر ہیں۔ ان رسوم و روایات میں سے کچھ کا تعلق مذہب سے، جب کہ کچھ کا تعلق صرف معاشرتی اقدار و روایات سے ہے مگر بعض رسوم یا رواج ایسے بھی ہیں جن کا معاشرے اور مذہب دونوں سے تعلق نہیں کیوں کہ وہ معاشرت و مذہب ہر دو لحاظ سے ناپسندیدہ ہیں مگر انسانی روایت اور رواج پرستی کی صفت سے وہ معاشرہ میں سرایت کر گئے ہیں ان میں سے ایک شادی کے موقع پر جہیز دینا یا لینا ہے۔
جہیز عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ج، ھ،ز ہے ۔ یہ لفظ باب تفعیل سے جھاز، جھز، یجھز، تجھیزا سے مصدر ہے. اس کا معنیٰ، سامان تیار کرنا، سامان مہیا کرنا ہے (1)۔ اس کے معنیٰ کا اطلاق ساز و سامان پر ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ کس کا سامان ہے؟ یہ لوگوں، میت، مسافر، دلھن کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔ جھازکا مطلب وہ سامان جو کسی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اسی سے لفظ تجھیز ہے جس کے معنی سامان اٹھانا یا بھیجنا ہے۔ یہ لفظ قرآن کی سورۃ یوسف کی آیت نمبر59 میں بھی آیا ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو سامان فراہم کرنے کا ذکر ہے:
”ولما جھز ھم بجھازھم‘‘ اور جب ان کا سامان مہیا کر دیا (2) اس آیت میں اس کا معنی سامان مہیا کرنا مراد لیا گیا ہے۔
عام طور پر جہیز سے مراد وہ ساز وسامان ہے جو لڑکی کو نکاح کے بعد اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے، یعنی شادی کے موقع پر دلھن کے خاندان کی طرف سے دولھا کے خاندان کو نقد رقم، زیور، فرنیچر، جائیداد یا دیگر قیمتی سامان دینا جہیز کہلاتا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے. یہ انسان کی زندگی کو آسان تر بنانے کے لیے زندگی کے جملہ معاملات کے بارے میں راہنمائی فراہم کر تا ہے۔ رشتہ ازواج یعنی شادی انسان کی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے کیوں کہ اس کی بنیاد پر نسل انسانی کی بقا ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ رشتہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے اس بارے میں کامل راہنمائی کی گئی ہے۔ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لیے بنیادی شرط اور جزو نکاح ہے۔ اسلام میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کو ”احصان‘‘ قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے ”قلعہ بند ہو کر محفوظ ہو جانا‘‘ یعنی یہ رشتہ انسان کے لیے معاشرتی برائیوں سے بچنے کی ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔ (3)
انسان کو نکاح کی ترغیب دینے کے لیے اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ احادیث کے مطابق نکاح کرنا سنتِ رسولﷺ ہے بلکہ یہ انبیا ؑ کی سنت ہے۔ مزید یہ کہ نکاح سے انکار کا مطلب ہے کہ آپ مسلمانوں میں سے نہیں. حضور ﷺ نے فرمایا: ”النکاح من السنتی ۔۔۔‘‘(4) نکاح میری سنت ہے جس نے اسے اختیار نہ کیا وہ مجھ سے نہیں یعنی مسلمانوں سے نہیں.‘‘
اسلام میں نکاح کو جملہ معاشرتی رسوم و روایات اور رواجوں سے آزاد، آسان اور سادہ بنایا گیا ہے تاکہ انسان اس کے ذریعے بہت سی معاشرتی برائیوں اور گناہوں سے محفوظ رہے۔ اسی بات کے پیش نظر سب سے آسان اور کم خرچ نکاح کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی ایک حدیث ہے: ”ان اعظم النکاح برکۃ ایسرۃ مئونہ ‘‘(5)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سب سے زیادہ باعث برکت وہ نکاح ہے جس میں خرچ کم ہو۔
حدیث کے مطابق حکم تو یہ ہے کہ آسان ترین نکاح ہی سب سے اچھا ہے اور ہمیں بحیثیت مسلمان اس پر عمل کرنا چاہیے لیکن ہمارے معاشرے میں فضول رسوم و رواج نے نکاح جیسی افضل ترین سنت پر عمل کرنے کو بھی آج مشکل ترین بنا دیا ہے۔ اس مشکل کے پیدا کرنے میں سب سے زیادہ حصہ ایک غیر اسلامی رواج ”جہیز‘‘ کا ہے۔ نکاح اور ولیمہ کے سوا شادی میں مختلف رسوم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لڑکی کے ہاں بارات لے کر جانے کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ان بے جا رسوم و رواج پر فضول خرچہ کیا جاتا ہے، اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کہ قرآن میں اسراف سے بچنے کا واضح حکم ہے اور اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے
”ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین.‘‘
بے شک فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں (6)
اسی طرح سے نکاح یعنی شادی کا اہتمام نہ کرسکنے والے بے کس، بے آسرا اور غریب افراد جن کے پاس اپنا گھر بسانے کے لیے گھر، مکان نہیں ہے، اپنا کوئی کاروبار نہیں ہے، روز گار کا کوئی ذریعہ نہیں وہ دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے پوری کر رہے ہیں جو شادی کے لیے انتظام و اہتمام نہیں کر سکتے یعنی شادی کی طاقت نہیں رکھتے، کو پاک دامن رہنے اور اللہ کے فضل کا انتظار کرنے کا حکم ہے تاکہ وہ معاشرتی برائیوں سے بچ کر زندگی گزاریں۔ سورۃ النور میں ہے:
”ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحاً حتیٰ یغنیھم اللہ من فضلہ‘‘
”اور چاہیے کہ بچے رہیں جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کر دے اپنے فضل سے.‘‘ (7)
احادیث میں بھی نکاح کی ہمت طاقت نہ رکھنے والوں کو برائی سے بچنے اور پاک دامن زندگی گزارنے کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ وہ پرہیز گاری اختیار کریں ، روزے رکھیں نماز پڑھیں تا کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے گناہوں اور برائیوں سے بچے رہیں۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کر لے بے شک یہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے بے شک روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے.‘‘ (8)
احادیث نبوی اور تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کی زندگیوں سے یہ ثابت ہے کہ جہیز دینا یعنی گھر کا سامان دینا لڑکی کے والدین کی ذمہ داری نہیں۔ البتہ اگر والدین اپنی خوشی سے، اپنی مرضی سے بیٹی کو رخصتی کے وقت بطور تحفہ کچھ دیں تو وہ لڑکی کی ملکیت ہو گا اور اسے جہیز کہنا غلط ہے ۔بیٹی کو تحفہ دینے کی اسلامی شریعت میں اجازت ہے لیکن رخصتی کے وقت اس طرح کچھ دینے کرنے کو لازم کر لینا یا رواج بنا لینا غلط ہے۔
اسلامی قوانین شریعت کے مطابق مرد کو عورت پر فضیلت دی ہی اس لیے گئی ہے کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے ضروری سامان کا انتظام کرے۔ قرآن میں مرد کی فضیلت کے بارے میںارشاد ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ’’الرجال قوٰمون علی النسا بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم‘‘
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔(9)
اسلام کے مطابق شادی کے مکمل خرچ کی ذمہ داری مرد کی ہے جس میں حق مہر، ولیمہ اور دلھن کا نان و نفقہ اور رہن سہن کا انتظام، گھر کا ضروری سامان مرد نے فراہم کرنا ہے۔ شریعت کی رو سے نکاح یا شادی کا کوئی بھی کسی بھی قسم کا خرچ لڑکی یا اس کے والدین کی ذمہ داری نہیں ہے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں جہیز کو سمجھا جاتا ہے۔ نکاح کے بعد شرعی قانون کے تحت گھر داری کے سامان کے لیے لڑکی کے والدین کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ میاں بیوی دونوں نے مل کر زندگی گزارنی ہے لیکن مرد کو عورت پر فضیلت کی وجہ سے عورت کو لوازمات زندگی کے انتظام و فراہمی سے مبرا کیا گیا ہے۔
جب اسلام نے گھر کے اخراجات اور ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری مرد کو دی ہے تو پھرہم جہیز یعنی گھر کے سامان کا سارا بوجھ دلھن کے گھر والوں پر ہی کیوں ڈالتے ہیں، پھر لڑکی ہی سامان کیوں لے کر آئے۔ اس طرح سے تو ہم کھلم کھلا اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور کہلوانا بھی مسلمان چاہتے ہیں۔ اسلام کی مرد کو دی ہوئی فضیلت اور مردانگی تو اس صورت میں قائم رہتی ہے جب وہ اپنی فضیلت اور مردانگی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنا گھر بسانے کے لیے جملہ سامان کا خود اہتمام کرے ۔جب کہ لڑکی نے نکاح کے بعد اپنے شوہر کے اس گھر کو حسن سلوک اور تدبر سے احسن انداز میں اس طرح چلانا ہے کہ اس کا شوہر اس سے خوش رہے اس کی نسل بھی اچھی تربیت و پرورش پائے اور سنور جائے۔ اس لیے لڑکی کا سب سے بڑا جہیز گھر داری اور بچوں کی تربیت و پرورش کی تعلیم و تربیت ہے۔ اس لیے اسلام کی نظر میں ”عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے.‘‘ (10)
کیوں کہ مرد کے لائے سامان سے خاندان کی زندگی آسان ہوتی ہے جب کہ عورت کے لائے سامان یعنی اچھی تربیت سے اس کاگھر، اس کا آنگن جنت جیسا بن جاتا ہے اور اس مرد کی نسل اچھے انداز میں تربیت و پرورش پا جائے گی زندگی پر سکون اور معاشرتی برائیوں اور آلائشوں سے پاک گزرے گی۔
نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ میں سے کوئی بھی جہیز ساتھ نہیں لائی۔ سوائے حضرت ام حبیبہ ؓ کے جن کا نکاح شاہ حبشہ نجاشی نے حضور ﷺسے پڑھایا اور حق مہر کی رقم دی نیز حبشہ کی روایات کے مطابق کچھ سامان اور تحائف ساتھ دیے. چوں کہ وہ سامان شاہ حبشہ نے دیا نا کہ ام حبیبہؓ کے والدین نے دیا اور نا ہی حضورﷺ کی طرف سے اس کی کوئی فرمائش تھی اور وہ سامان، تحائف حضرت ام حبیبہ ؓ کی ملکیت رہے (11) اس لیے اس سامان یا تحائف کو ہمارے موجودہ معاشرتی رواج ”جہیز‘‘ کے لیے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی چاروں بیٹیوں کو بھی جہیز نہیں دیا۔ اس بارے میں کتب سیر میں سے طبقات ابن سعد میں صرف ایک روایت ملتی ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت زینب ؓ کو حضرت خدیجہؓ نے رخصتی کے وقت ہار بطور تحفہ دیا تھا اور یہ ہار تا حیات حضرت زینبؓ کے پاس رہا (12) اس لیے اس کو بھی جہیز قرار دینا سراسر غلط ہے۔
بعض لوگ جہیز کے جواز کے لیے حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علیؓ کے نکاح کے بارے میں احادیث نبویہ میں دی معلومات کو پیش کرتے ہیں لیکن وہ بھی شریعت و سنت پر جھوٹ اور بہتان باندھنے کی غلطی کرتے ہیں کیوں کہ وہ حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح کے وقت کے سامان کی حقیقت جانے بغیر اسے بطور جواز پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ حضرت فاطمہ ؓ کو نکاح کے وقت دیا جانے والا سامان یہ تھا۔
”دو تین چادریں، ایک چارپائی، بستر،چمڑے کاتکیہ(کھجور کی چھال سے بھرا)،ایک چھاگل، ایک مشک، دو چکیاں ،مٹی کے برتن (پیالہ اور گھڑا)‘‘ (13)
حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓکے نکاح کے وقت جو سامان حضور ﷺ نے لے کر دیا گیا اس کی حقیقت کچھ یوں ہے:
حضرت علیؓ کو حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سے (بچوں میں سے) اولیت حاصل ہے ۔آپ ؓ کی عمر اس وقت بارہ سال تھی جب آپؓ نے سارے خاندان میں سے آپﷺ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ نیز آپ ؓکے والد کثیر العیال تھے اور آقا نبی کریم ﷺ کی پرورش آپ ؓ کے والد نے کی تھی اس لیے آپ ﷺ نے آپؓ کی کم سنی سے ہی آپ ؓ کی کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ آپ ؓ حضور نبی کریمﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے، آپؓ کا اپنا علیحدہ گھر بار سامان وغیرہ نہیں تھا۔ آپ ؓ نے حضرت فاطمہؓ سے نکاح کے بعد اپنا علیحدہ گھر بسا نا تھا اس لیے آپؓ کو سامان اور گھر کی ضرورت تھی۔ چوں کہ حضور نبی کریم ﷺ آپ ؓکے کفیل تھے اور حضرت فاطمہؓ کے باپ بھی ۔ تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے کفیل کی حیثیت سے ان کی ہی رقم سے گھر کے سامان کا بندوبست کروا دیا ناکہ حضرت فاطمہؓ کے باپ کی حیثیت سے۔
حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے نکاح سے پہلے پوچھا تمھارے پاس نکاح کا انتظام کرنے کے لیے کیا کچھ ہے تو جناب علیؓ نے فرمایا ایک گھوڑا اور ایک زرہ۔ آپ نے فرمایا گھوڑا تمھاری ضرورت ہے اس لیے زرہ بیچ دو۔ حضرت علیؓ نے حضورﷺ کے حکم سے وہ زرہ حضرت عثمان ؓ کو 480 درہم میں بیچی اور یہ رقم لا کر حضور ﷺ کو دی. آپ نے اس میں سے کچھ سے رقم حضرت بلال ؓ کو دی کہ وہ اس سے چند گھریلو چیزوں کا انتظام کریں اس لیے وہ یہ سامان خرید لائے. (14)
حضرت علیؓ کے لیے علیحدہ گھر اور سامان ایک لازمی ضرورت تھا تاکہ آپؓ نکاح کے بعد اپنی بیوی کو لے کر علیحدہ رہتے۔ اس لیے حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کے سر پرست کے طور پر اس سامان کے خریدنے میں دل چسپی لی۔ ایک صحابی حارثہ ؓبن نعمان نے اپنا مکان پیش کیا اور یوں اس پاکیزہ جوڑے کو حضورﷺ نے گھر آباد کرنے کا انتظام کر کے دیا ناکہ جہیز دیا۔ اس لیے موجود دور میں جہیز کے لیے حضرت فاطمہؓ کو دیے جانے والے سامان کو جواز بنانا کہ جی حضور ﷺ نے بھی تو اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا، اس چیز کو بطور ثبوت، سند یا جواز پیش کرنا سراسر غلط ہے۔ اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے والے سامان یعنی جہیز کا انتظام کرتے ہیں نہ کہ لڑکی والے۔ ہمارے ہاں جو رواج ہے کہ لڑکی کے ماں باپ اپنی رقم سے سامان یعنی جہیز کا بندوبست کر کے دیں یہ بالکل غیر شرعی اورغلط ہے۔
رسول اللہ ﷺکے دور میں صحابہ کرام ؓ کی شادیاں ہوئیں۔ انھوں نے انتہائی سادگی سے شادی کی۔ اس دور میں کسی قسم کے جہیز کا کوئی رواج نہ تھا۔ اس لیے صحابہ کرام ؓکے زمانے میں کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ انھوں نے لڑکی کے والدین سے فرمائشی جہیز مانگا ہو یا لڑکی والوںنے جہیز دیا ہو نہ ہی انھوں نے کسی کے سامان کو اپنا حق سمجھ کر اسے رکھا۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓکی شادی سادگی سے ہوئی حتیٰ کہ رسول اللہﷺ کو ان کی شادی کے اگلے دن علم ہوا تو آپ نے حضرت عبدالرحمٰنؓ کو حکم دیا کہ بیوی کا حق مہر ادا کر دو اور ولیمہ بھی کرو. (15)
جنوبی ایشیا یعنی برصغیر میں جہیز کا تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو جہیز کا یہاں صدیوں سے رواج ہے۔ شادی بیاہ پہ لڑکیوں کو جہیز دینا ہندوؤں کی رسم ہے۔ وہ لڑکیوں کو جائیداد و وراثت میں سے حصہ نہیں دیتے تھے لیکن ان کی شادی پہ انھیں مالی طور پر مدد دینے کے لیے کافی سامان دے دیا جاتا جو جہیز یا دان کہلاتا ہے۔
برصغیر میں اسلام کی آمد اسلام کے ابتدائی ادوار میں مسلمان فاتحین سے کافی عرصہ قبل ہو چکی تھی مسلمان تاجروں اور صوفیاکے ہاتھوں بہت سے مقامی لوگ اسلام لائے، ان کی تعداد میںخاطرخواہ اضافہ ہوتا رہا حتیٰ کہ 712ء میں محمد بن قاسم کی فتوحات نے برصغیر میں اسلامی سلطنت قائم کرنے کی راہ ہموار کردی۔ اس وقت سے ایک ہی معاشرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت کا اثر لیا۔ مسلمانوں نے بعض ہندوانہ رسوم و رواج اپنائے جب کہ ہندوؤں نے بعض اسلامی اقدار و روایات کو اختیار کیا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ مقامی آبادی جو مسلمان ہوئی چوں کہ ان کے اجداد ہندو تھے اس لیے ان میں ہندوانہ طور طریقے پوری طرح ختم نہ ہو سکے اور وہ ہندوانہ طرز زندگی سے ابھی بھی شدید متاثر تھے اس لیے ان نو مسلموں کے ہاں شادی بیاہ پہ اکثر رسوم ہندوانہ برقرار رہیں۔
اس کے علاوہ تبلیغ اسلام سے جو لوگ اسلام لائے ان میں سے اکثر دینی تعلیم و تربیت سے محروم رہے۔ اس لیے وہ اصل دین سے دوررہے دین کا مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاں غیر اسلامی رسوم ختم نہ ہوئیں اور بعض جگہوں پہ ان مبلغین نے بھی وقتی طور پر تالیف قلب کے لیے ان کو ان کی قدیم معاشرتی رسوم سے منع نہ کیا تاکہ اسلام کی طرف رغبت کا سلسلہ بر قرار رہے ان میں بیساکھی بسنت، شادی پہ منگنی، تیل، منہدی سہرا، باجے بجانا، رسم حنا، گانے بجانا، بری، تیل ڈالنا، رت جگا، مانجھا، اور بیٹیوں کو جائیداد کے بجائے دان، داج، جہیز دینے کی رسم وغیرہ شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ آج بھی معاشرتی رسوم کے طور پر جاری و ساری ہیں۔ حتیٰ کہ آج بھی بعض گھرانوں میں ہندوانہ رسوم کی تقلید اس قدر زیادہ ہے کے شادی بیاہ پہ ہندو مسلم شادی کی پہچان صرف نکاح اور ولیمہ سے ہوتی ہے۔
بعض اسلامی تربیت یافتہ مسلم گھرانوں نے بھی صدیوں اکٹھا رہنے کی وجہ سے ہندوؤں کے اثر سے اس رسم کو قبول کیا پھر اس رسم کو قبول عام دینے میں برصغیر کے بعض مسلم حکمرانوں کی بے جارواداری اور ہندوؤں سے تعلق نیز ہندو مسلم اتحاد، قومی یک جہتی پیداکرنے کی کوششوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا جیسا کہ برصغیر پر سب سے زیادہ حکومت کرنے والے مغل بادشاہ اکبر (16) کی بے جا رواداری اور نئے دین، دین اکبری کے پر چار کے لیے ہندو مسلم اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح محمد قلی قطب شاہ کی ہندوؤں میں دل چسپی اور رواداری نے بھی اس سلسلہ میں مدد دی اور مسلم معاشرے میں اسلامی شرعی رسوم شادی یعنی نکاح اور ولیمہ کے ساتھ غیر اسلامی رسوم نے بھی جگہ پا لی۔ انھی میں سے ایک شادی پر لڑکی کو جہیز دینا ہمارے معاشرے میں سرایت کر کے اس کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے۔
ہماری ایسی ہی عادات کی وجہ سے علامہ اقبال نے اپنی نظم ”جواب شکوہ‘‘ میں کہا ہے”
؎ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود (17)
ہمارے ملک میں اکثر دیہات میں اور عموماً شہروں میں بھی لڑکیوں کو ہندوانہ اثر کی وجہ سے وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا یا لڑکیاں خود اپنا حق چھوڑ دیتی ہیں یعنی ہندوؤں کی دیکھا دیکھی لڑکیوں کو وراثت جو ان کا بنیادی اور جائز انسانی حق ہے، سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن جہیز کی رسم کو خوش دلی سے پورا کر رہے ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بیٹی کو خوش کر دیا یہی اس کے لیے کافی ہے۔ اکثر اوقات لڑکیاں بھی والدین اور بھائیوں کو خودکہہ دیتی ہیں کہ ہم نے جائیداد سے حصہ نہیں لینا کیوں کہ والدین نے انھیں پہلے ہی جہیز کے نام پر کافی کچھ دے دیا ہے ان کے پاس کون سی زیادہ جائیداد یا زمین وغیرہ ہے۔ یوں جہیزکا وراثت کا متبادل بننا شرعی اور معاشرتی لحاظ سے غلط ہے ۔شاید اسی وجہ سے پاکستان میں خواتین کے نام جائیداد کی شرح خوف ناک حد تک کم ہے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں کل زمین کی ملکیت کا صرف ایک فی صد حصہ خواتین کے نام ہے. (18)
جہیز کی رسم کی ابتدا امرا کی طرف سے اپنی لڑکی کو مالی طور پر مدد دینے سے ہوئی تاکہ وہ سسرال جا کر بھی اسی طرح ناز و نعم سے زندگی گزارے اسے میکے کی طرح ہر آسائش ملے، کسی قسم کی چیز کی کمی محسوس نہ ہو لیکن اس مدد نے بعد میں ایک خوفناک معاشرتی رسم کی صورت اختیار کر لی جس کا وجود دنیا کے بہت سے ممالک میں ہے یعنی جہیز پوری دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں دیا جاتا ہے۔ پرانی تہذیبوں میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ ماضی میں چین، امریکہ، افریقہ میں جہیز دینے کا رواج رہا ہے۔ جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں، افریقی ممالک میں یہ ابھی بھی جاری ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ کہیں لڑکا جہیز دیتا ہے اور کہیں لڑکی مگرپاکستان میں اکثر علاقوں میں لڑکی ہی جہیز لاتی ہے البتہ مغرب والوں نے کسی حد تک جہیز سے چھٹکارا پا لیا ہے۔
بعض لوگ جہیز کی رسم کے برقرار رہنے کی وجہ جہالت کو قرار دیتے ہیں لیکن اب پڑھے لکھے جاہلوں کی کمی نہیں ہے بل کہ اب تو پڑھے لکھے خاندانوں میں اس بات کا زیادہ رواج ہے۔ ہم مسلمان فاتحین و مبلغین کی کوششوں سے اسلام تو لے آئے اوراسلام لانے کے بعد ہمیں بحیثیت مسلمان اپنی الگ شناخت، تشخض بر قرار رکھنا ضروری اور لازم تھا لیکن ہم اندھی تقلید اور ہندوانہ معاشرتی رسوم و رواج کی قید سے نہ نکل سکے جس کی وجہ سے بہت سی غیر اسلامی رسومات و روایات عادات ہمارے معاشرے میں اسی طرح موجود ہیں۔
بحییثت مسلمان جہیز سمیت ایسی تما م رسوم کو ترک کرنا ہم پر فرض ہے جو اسلام کے احکامات یعنی شریعت کے خلاف ہیں. جو شخص شریعت پر عمل نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کے بھیجے گئے احکامات کو زبانی تو مانتا ہے لیکن عمل سے عاری ہے تو اس کا ایمان نامکمل ہوتا ہے بل کہ قرآن کی رو سے ایسے لوگوں کو کافر کہا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں ہے کہ ”جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کرے ایسے ہی لوگ در اصل کافر ہیں۔ (19)
ایک سچا مسلمان اللہ کے نازل کردہ احکامات کے خلاف ورزی نہیں کر سکتا اس کے تمام معاملات زندگی شریعت کے مطابق ہوتے ہیں اور شریعت قرآن و سنت کے احکامات ہیں۔ اسلامی شریعت میں کہیں بھی جہیز کی گنجائش نہیں اس لحاظ سے لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ یا دباؤ ڈالنا غیر شرعی ہے۔ شادی کے موقع پر لڑکی کو نکاح کے وقت حق مہر دینا ایک اسلامی حکم ہے لیکن معاشرے میں اس کی جانب کم توجہ دی جاتی ہے جب کہ جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہے، اس پر دیکھا دیکھی سب سے زیادہ توجہ ہے۔
اسلام دین فطرت ہے وہ انسان کی ہر طرح سے بھلائی چاہتا ہے اس میں جہیز سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ بہت سے معاشی و معاشرتی نقصانات کی بنیاد اور وجہ بنتا ہے۔ذیل میں جہیز کے نقصانات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔
جہیز کے بہت سے دینی نقصانات بھی ہیں جیسا کہ جہیز سے ریاکاری، غرور و تکبر، انا اورجھوٹی شان کا اظہار ہوتا ہے، یہ رسم لالچ و حرص پیدا کرتی ہے، دولت مند لوگ دولت کا دکھا وا کر تے ہیں، اس سے دوسروں کے لیے مشکلات پیش آتی ہیں اور دوسروں کے لیے مشکل کی وجہ بننا بھی گناہ ہے۔ نکاح زنا جیسے قبیح فعل سے بچنے کا ایک قدرتی، فطری طریقہ ہے لیکن جہیز نے اس فطری سلسلے کو بھی مشکل بنا دیا ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ زنا مختلف صورتوں میں عام ہو رہاہے، بھاگ کر شادی کرنے کا قصد اسی کی وجہ سے عام ہوا ہے۔ جہیز نے نکاح جیسے ثواب کے کام کو ناقابل تسخیر پہاڑ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
بچی کے پیدا ہوتے ہی والدین کو جہیز کا تصور ہر وقت پریشان کیے رکھتا ہے وہ اس کے نصیب کے بارے فکر مند رہنے لگتے ہیں کیوں کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بچی جو نہی بالغ ہو وہ اس کی شادی کر کے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوں اور وہ بھاری جہیز دے کر بھی رخصت کر کے خود کو پر سکون پاتے ہیں۔ اس لیے یہ غریب والدین کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں۔ حتیٰ کہ بعض والدین قرض لے کر بھی اس معاشرتی برائی کو پورا کر تے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جن کے پاس صرف لڑکیاں ہیں وہ ہر بیٹی کی شادی کے لیے جہیز بناتے ہیں تو یوں وہ پھرساری زندگی فکروں اور قرضوں کے بوجھ تلے گزار دیتے ہیں ۔بعض لوگ اس قبیح رسم کو پورا کرنے کے لیے اپنے اصل ذریعہ آمدن سے ہٹ کر دیگر ذرائع تلاش کرتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کی خاطر بددیانتی اور ناجائز ذرائع سے بھی آمدن حاصل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ وہ ہر حلال حرام طریقے سے رقم اکٹھی کر کے بچی کا جہیز پورا کرتے ہیں اور معاشرے میں اپنی ناک کٹنے سے بچاتے ہیں۔ یوں معاشرے کو ایک اور برائی بد عنوانی، بد دیانتی (جو ناسور کی طرح اندر سے کھا ئے جا رہی ہے)، دینے کا سبب بھی جہیز ہے۔
جہیز کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سسرال میں اکثر لڑکی کے جہیز کو محلے کی دیگر دلھنوں کے سامان سے موازنہ کے لیے جواز بنا کر ساسیں، نندیں بہو، بھابھی کا جینا حرام کر دیتی ہیں۔ اس پر طنز و طعن کے تیر و نشتر چلائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات کمزور ہمت و جذبات رکھنے والی لڑکیاں جذباتی ہو کر غلط اور انتہائی قدم اٹھا لیتی ہیں یا پھر مسلسل ذہنی دباؤ اور تناؤ سے ذہنی مریضہ بن جاتی ہیں۔
جہیز کی وجہ سے لڑکی کو ذہنی جسمانی و روحانی ہر لحاظ سے تنگ کیا جاتا ہے۔ اسے گھر، گلی، محلے یا دوسروں کے سامنے بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا اور اس معاملے میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے کیوں کہ اس طرح کی طعن و تشنیع زیادہ تر عورتوں کی جانب سے ہی ہوتی ہے حتیٰ کہ بعض ظالم سا س، نندیں تو جسمانی تشدد بھی کرتی ہیں اور اکثر اوقات لڑکی کا گھر اسی جہیز کی وجہ سے اجڑ جاتا، برباد ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لالچی طبع اور شدت پسند گھرانوں کی طرف سے جہیز کی وجہ سے نئی نویلی دلھنوں کا قتل ہونا اور بچیوں کو جان سے مار دینے کے واقعات اب عام بات ہے ایسے واقعات کی خبریں اخبارات میں آنا روز کا معمول بن گیا ہے جو کہ معاشرے کے نظام کی تباہی کی ایک نشانی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ آج تمام تر ترقی کے باوجود اصل جاہلیت سے نہیں نکل سکا ہے یوں کہہ لیجیے کہ یہ تعلیم یافتہ لوگوں کا دور جاہلیت ہے ۔بچیوں کو یوں مار دینا تو عرب کے زمانہ جاہلیت سے کئی درجے مشابہ نظر آتا ہے۔ یعنی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے آج بھی ویسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ بچیاں قیامت کے دن سوال کریں گی کہ ہمارا کیا قصور تھا ؟ ہم کس جرم کی پاداش میں ماری گئیں؟ کیا ہمارا یہی قصور تھا کہ ہم غریب ماں باپ کی بیٹیاں تھیں؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”و اذا المئودۃ سئلت، ای ذنب قتلت‘‘ (20) ”جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے گا تو کہے گی ہم کس غلطی پر خطا پر ماری گئیں۔‘‘ (یعنی کہ ہم کس جرم کی پاداش میں ماری گئی کہ ہم لڑکیا ں تھیں اس لیے یا ہمارے والدین غریب تھے۔)
انڈین نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ایک سال میں چار ہزار سے زیادہ نوجوان خواتین جہیز نہ لانے یا کم لانے کی وجہ سے تشدد سے موت کا شکار ہوئیں۔ ہماری مشرقی خواتین انتہائی صابرہ، شاکرہ اور فرماں بردار ہوتی ہیں وہ اپنا گھر بنانے کے لیے سب کچھ برداشت کر لیتی ہیں حتیٰ کہ سسرال کا تشدد بھی۔ ایک جائزے کے مطابق 90 فی صد خواتین کو سسرالیوں کے طعنے اور جسمانی تشدد جہیز نہ ہونے کی وجہ سے سہنا پڑتا ہے (21) جہیز نا دینے سے لڑکی کے دل میں اپنی نا قدری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ سسرال میں مشکلات اور طعن و تشنیع کی وجہ سے لڑکیوں میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے. پاکستان میں تقریبا ہر سال دو ہزار خواتین جہیز کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔ (22)
والدین بچی کو جہیز بظاہر اس نظریے سے دیتے ہیں کہ اس سے اسے گھر بسانے میں مدد ملے گی لیکن دلھن کے خاندان کی معاشی حیثیت اور معاشرتی وقار کو جہیز سے جوڑا جاتا ہے۔ اس رسم کے نقصانات ، معاشرے میں پیدا ہوتی بد ترین صورت حال کے باجودلوگ روایات کی اندھی تقلید کی وجہ سے ان سے انحراف کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتے ۔ جہیز کی لالچ نے شادی کو کاروبار بنا دیا ہے۔ اس معاشرتی رسم کو پورا کرتے کرتے لڑکیوں کی عمر ڈھل جاتی ہے، وہ بن بیاہے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک لڑکی کی عزت سسرال میں اس بات سے ہے کہ وہ کتنا زیادہ جہیز لاتی ہے، وہ زیادہ عزت و وقار، شان سے سسرال میں رہتی ہے ایسا کرنا امرا کے لیے تو بہت آسان ہے مگر وہ لوگ جو ایسی کوئی معاشی سہولت نہیں رکھتے، دو وقت کی روٹی مشکل سے پوری کرتے ہیں وہ اپنی بچیوں کے لیے کیا کریں ان کی بچیوں کے لیے تو یہ سامان وبال جان بن جاتا ہے کیوں کہ ان کے والدین غربت کی بنا پر بچی کو کچھ دے نہیں پاتے اور لڑکی کو ساری عمر طعنے سنتے گزر جاتی ہے۔ یا پھر والدین کے گھر بیٹھے بیٹھے سر میں سفید بالوں کی چاندی چمکنے لگتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جہیز کے نقصانات کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً ہم سب ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔ہر ذمہ دار فرد قصور وار نظر آتا ہے کیوں کہ اس کی جانب سے جہیز نہ دینے کی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی کہیں کسی سے اس رسم کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے (کوئی کہے کہ میں نہ جہیز لوں گا، نہ دوں گا) کہ جس سے معاشرے میں کچھ حوصلہ افزا اور اطمینان بخش رویے سامنے آنا شروع ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی رویے ایسا کرنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے سبھی اس زہر کا کڑوا گھونٹ خاموشی سے پیے جا رہے ہیں بس میں ہونے کے باوجود بے بس ہیں اورکچھ نہیں کر پا رہے۔
اگرچہ جہیز کو معاشرے میں مہلک اور خطر ناک صورت حال اختیار کرنے کی وجہ سے برا سمجھا جاتا ہے، اسے ایک لعنت کہا اور مانا جاتا ہے۔ یہ ناسور ہمارے معاشرتی اور خاندانی نظام کو بری طرح تباہ کر رہا ہے لیکن اس کے باجود یہ پورے زور شور سے جاری ہے کیوں کہ معاشرے کے اکثرلوگ اسے بہت اہم قرار دیکر جہیز دینے کے کام پر عمل پیرا ہے یعنی یہ وہ کام ہے جسے ہم سب برا سمجھنے کے باوجود کیے جا رہے ہیں۔
ہمارے بڑے بڑے سیانے لوگ جہیز کیخلاف باتیں کرتے نظر آئیں گے لیکن عمل کوئی نہیں جب ان سے کہا جائے کہ یہ کیا تو پھر جہیز کے بارے کوئی جواز، سند یا دلیل پیش کرنے لگتے ہیں، اسے سنت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالاں کہ یہ ان کی کم علمی کے سوا کچھ نہیں ۔ہم دوسروں کو کہنے کے لیے ہوشیار نظر آتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو کوئی نہ کوئی جواز تلا ش کرنے لگتے ہیں۔ سب باتوں کے سامنے آنے کے باوجود اگر جہیز کی لعنت ہم لیے جا رہے ہیں تو اس کی وجہ بھی ہم ہیں کیوں کہ ہمارے معاشرتی رویے کافی بدل چکے ہیں ہم رشتوں سے، سیرت و کردار سے زیادہ اہمیت مال و دولت کو دینے لگے ہیں۔ ہم نے دینی احکام کو پس پشت ڈال رکھا ہے اگر کوئی اس پر عمل کرتا ہے تو معاشرے میں اس کا اور اس کی بیٹی کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔
جہیز کی وجہ سے اب گھر آباد کرنا، زنا جیسے گناہ کبیرہ سے بچنا نہ صرف مشکل ہو رہا ہے بل کہ اس کی وجہ سے بچیوں کے گھر آباد ہونے کی ابتدا میں ہی اجڑ جاتے ہیں۔ ملک میں ہونے والی طلاقوں میں سب سے زیادہ حصہ جہیزکا ہے، کیوں کہ وجہ یہ بنتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 40 فی صد طلاقوں میں جہیز کی وجہ کار فرما ہوتی ہے (23) جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ایشیا میں کنواری لڑکیوں کی تعداد ( شرح ) خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے یہ زیادہ تر بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہے جب کہ بھارت میں یہ صورت حال سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔
شادی کے بعد میاں بیوی (دلھا دلھن) کی آپس میں نہ بننے کی وجہ سے جہیز ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے کیوں کہ طلاق ہونے پر دلھن تو اپنے میکے آجاتی ہے لیکن اس کا جہیز سسرال میں ہوتا ہے۔ پھر اس کی واپسی کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس میں سسرال والے ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں جو ایک المیہ کی صورت اختیار کر جاتا ہے کیوں کہ ایک تو لڑکی کا گھر اجڑ گیا دوسرا غریب والدین کا کثیر سرمایہ بھی سسرال کے پاس رہ گیا جو کہ تقریبا ضائع ہونے والی بات ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات زیر التوا و زیر غور ہوتے ہیںوہاں والدین ذلیل و خوار ہورہے ہوتے ہیں ۔ والدین کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں بعض خوش آئند باتیں بھی سامنے آئی ہیں مثلاًلڑکی کے جہیز کی واپسی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے (24) جس میں پنجاب حکومت کو یہ بل پاس کرنے کی تجویز دی گئی ہے کہ وہ نکاح کے وقت دلھن کو دیے جانے والے سامان کی فہرست بھی نکاح نامے میں شامل کرے تاکہ مستقبل میں کوئی مسئلہ در پیش آنے کی صورت میں دلھن کے والدین کو کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ عدالت کا یہ ایک مستحسن قدم ہے اگرہماری حکومتیں اس پر عمل کر وا لیتی ہیں تو اس سے کافی سارے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
اگر معاشرتی بھلائی کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو لڑکی والوں سے جہیز کی فرمائش کرنا ,جہیز مانگنا ظلم ہے ۔جہیز کی رسم کی جڑیں گہری اور مضبوط ہونے کی وجہ سے اب تو معاشرے میں خاندانوں کے درمیان مقابلے کی سی فضا پیدا ہو چکی ہے کہ کون اپنی بیٹی کو کتنا سامان دیتا ہے کتنا بڑھ چڑھ کر دیتا ہے اور پھر دوسرے سے زیادہ دینا ان کی معاشرے میں عزت کا سوال بن جاتا ہے۔
جہیز کی رسم کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے رویے بدلنا ہوں گے ، اپنے خیالات میں تبدیلی لانا ہو گی ۔ معاشرتی سطح پر یہ سوچ لانا ہوگی کہ لڑکی والوں کا ہم پر احسان ہے اس لیے لڑکے والوں کو لڑکی کے والدین کا شکر گزار اور احسان مند ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بچی کو پال پوس کر تعلیم و تربیت کر کے اپنے دل کا ٹکڑا آپ کے سپرد کر رہے ہیں کہ نسل انسانی کی بقا کا ذریعہ بنے۔ اس لحاظ سے لڑکی کے والدین لڑکے والوں پر احسان عظیم کر رہے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ لڑکے کا لڑکی والوں سے جہیز لینا مرد کی مردانگی کے خلاف ہے یہ تو مرد کو فقیر بنانے، مانگنے والا بنانے کی سی کیفیت ہے وہ مرد کیسا ہے جو عورت کے لائے سامان پر زندگی گزارے اس کی مردانگی کہاں گئی ؟ ایسا کرنے سے قرآن کے مطابق بتائی گئی اس کی فضیلت سوالیہ نشان بنتی ہے۔
جہیز کی روک تھام کے حوالے سے حکومتی سطح پر کچھ اقدامات کیے گئے ہیں لیکن ان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ۔قوانین کا عملی نفاذ بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق جہیز دینا، لینا قابل سزا جرم ہے. پاکستان میں 1967ء میں قانون میں جہیز کی ممانعت کے بارے کچھ شقیں شامل کی گئیں پھر ان کو 1976ء میں جہیز کی ممانعت ایکٹ کے نام پر نافذ کیا گیا جس کے تحت جہیز کی ایک حد مقرر کی گئی کہ اس کی مالیت 5000 روپے سے زیادہ نہ ہو اور شادی پر کل اخراجات 2500 روپے سے زائد نہ ہوں. نیز جہیز کے مطالبہ کو جرم قرار دیا گیا بعد میں اس میں ترامیم بھی ہوئیں۔
2005ء میں پاکستان کی سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چئیر مین مولانا سمیع الحق نے جہیز کی حد بندی کے لیے بل کی منظوری دی جس کے تحت 50 ہزار روپے سے زائد مالیت کا جہیز دینے پر پابندی لگائی گئی اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایک سال قید اور جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی لیکن افسوس اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ (25)
2017ء میں خیبر پختون خواہ اسمبلی نے ایک قانون منظور کیا (26) جس کے تحت جہیز کے مطالبے پر تین لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، دو ماہ قید بھی ہو سکتی ہے، شادی پر پچھتر ہزار روپے سے زیادہ خرچ کرنا جرم ہو گا، لڑکی کو والدین یاان کے رشتہ دار دس ہزار سے زائد کے تحائف نہیں دے سکتے۔
یہ بل مہر تاج روغانی اور راشدہ رفعت نے پیش کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
2020ء میں اس میں مزید ترامیم کر کے جہیز کی مالیت موجودہ حالات کے مطابق چار تولے سونے کی قیمت کے برابر مقرر کی گئی (27) یعنی اس سے زیادہ نہ ہو لیکن اس سے بھی عوام کو ایک جواز مل گیا کہ جہیز دیا جا سکتا ہے یوں یہ قانون بھی صحیح عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے جہیز کو ترک کرنے یا ختم کرنے میں خاص مدد نہیں دے سکا۔
سرکاری سطح پر تحفظ نسواں ایکٹ بھی خواتین کے کافی سارے مسائل حل کرنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس میں بھی ہماری دینی اور مشرقی روایات کے مطابق کافی ترامیم کی ضرورت ہے ۔ اسی ایکٹ میں جہیز کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
ہمارے ملک میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے خواتین کے حقوق کے بارے لوگوں میں آگاہی و شعور بیدار کرنے سے خاصی شہرت حاصل کر رکھی ہے لیکن جہیز کی رسم کو ختم کرنے یا اسے ترک کرنے کے بارے میں ان کا کردار بھی نہ ہونے کے برابر ہے وہ اس سلسلہ میں معاشرے میں آگاہی دینے میں بری طرح ناکام رہی ہیں ۔قومی سطح پر جہیز لینے دینے کے خلاف تحریک چلانے کی ضرورت ہے تاکہ مثبت رویے پروان چڑھ سکیں۔
ہمارے ملک میں خانقاہی نظام کا سیاسی و معاشرتی سطح پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ ہماری آبادی کی ایک غالب اکثریت کسی نہ کسی سلسلہ ہائے طریقت سے وابستہ ہے اور ان سے عقیدت کی بنا پر ان کے احکامات پر آنکھیں بند کر کے بھی عمل کرنے کو تیار ہوتے ہیں. ان پیرانِ کرام کا اپنے مریدوں کی معاشرتی زندگی میں بھی کافی اثر ہے. ان کے اکثر معاملات یہ حل کرتے ہیں اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ جہیز کے خلاف مریدین میں شعور بیدار کریں کہ لڑکی کا اصل جہیز اس کی سیرت، کردار تعلیم اور اخلاق ہے، رشتہ کرتے وقت ان باتوں کو مد نظر رکھیں نا کہ جہیز کو۔ وہ مریدین سے کہیں کہ جہیز لینا غیر شرعی ہے لہذا اس پر عمل نہ کریں یعنی کہ جہیز نہ لو، نہ دو۔ ان کی اس دینی بیداری سے جہیز کی رسم کو ترک کرنے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
مغربی معاشرے میں جہیز کی رسم تقریبا ختم ہو گئی ہے کیوں کہ وہاں تعلیم عام ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر دینی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے رویوں میں مثبت تبدیلی آئے۔ اور ہم دولت، جائیدا د، مال اسباب کو ترجیح نہ دیں بل کہ انسانیت کو اولیت دینے والے بن جائیں۔ اس کے علاوہ معاشرے میں پائے جائے والے دوہرے معیارات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں معاشرے کے ذمہ دار افراد یعنی صاحبان اقتدار و اختیار اور صاحبان علم و دانش کو دوسروں کو نصیحت و تلقین کے ساتھ خود بھی عمل کر کے دکھانا چاہیے۔
طلبا کسی بھی ملک و قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ مستقبل کے معمار اور وارث ہیں۔ یہ قوم میں جہیز کے خلاف شعور بیدار کرنے کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ ان کی ذہنی، اخلاقی و معاشرتی تربیت اس طرح کی کریں کہ جہیز کو مرد کی مردانگی کے خلاف سمجھیں، اس سے نفرت کریں اورجہیز جیسی غیر شرعی اور بری رسم سے چھٹکارا پانے کا شعور رکھتے ہوں، تاکہ مستقبل میں اس لعنت سے نجات مل سکے۔

حوالہ جات:
1۔ لویس معلوف :مترجم (مولانا ابوالفضل عبدلحفیظ) ”المنجد ‘‘ خزینہ علم و ادب ، لاہور، ص 126
2۔ القرآن :سورۃ یوسف، آیت نمبر 59
3۔ لویس معلوف :مترجم (مولانا ابوالفضل عبدلحفیظ ) ”المنجد ‘‘ خزینہ علم و ادب ، لاہور، ص159
4۔ الحدیث: المسلم 3403
5۔ الحدیث :مشکوٰۃ المصابیح 3097
6۔ القرآن :سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر 27
7۔القرآن :سورۃ النور، آیت نمبر 33
8۔الحدیث :مسند احمد 6829
9۔القرآن :سورۃ النساء آیت نمبر 34
10۔www.Jang.com.pk
11۔الحدیث:سنن نسائی9433،سنن ترمذی7111
12۔ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری:’’خیر البشر‘‘حق پبلی کیشنز لاہور،ص160(بحوالہ طبقات ابن سعد)
13۔محولہ بالا:ص194
14۔محولہ بالا:ص194
15۔الحدیث: البخاری 3780
16۔اردو ریسرچ جرنل(آن لائن)،جنوری 2020ء
17۔علامہ محمد اقبال : ’’بانگ درا‘‘فرخ پبلشرز لاہور ،ص 260
18۔www.mirrat.com
19۔ القرآن :سورۃ المائدہ آیت نمبر 44
20۔ القرآن :سورۃ التکویر آیت نمبر 9,8
21۔ www.express.com
22۔ www.mirrat.com
23۔ www.express.com
24۔ www.mazamin.com
25۔ www.amp.dw.com
26۔ www.mirrat.com
28۔ www.mirrat.com

اپنا تبصرہ بھیجیں