صنفِ نو، ثلاثی غزل اورمحترمہ پروین سجلؔ – راشد منصور راشدؔ

خیال جب سُکھ کا سانس لینا چاہے تو وہ کسی شاعر کے ذہن سے اَلفاظ کا لُبادہ اوڑھ کر کاغذ پر اُتر آتا ہے اور اُس کی اِس شکل کو ہم شعر کہتے ہیں۔ کوئی بھی شعر، شاعر کی ذہنی پرواز اور سوچ کا پتہ دیتا ہے۔ آج میں جس شاعرہ کا ذکر کرنے جا رہا ہوں اُن کے اشعار میں جہاں خیالات کی فلک بوس اونچائی ہے وہاں جذبات کی اتھاہ گہرائی بھی ہے جو اُن کی فنی مہارت کی بڑی دلیل ہے۔ سخنورانِ جہاں انھیں پروین سجلؔ کے نام سے جانتے ہیں۔ حال ہی میں صنفِ نو ثلاثی غزلیات پر مشتمل آپ کا نیا شعری مجموعہ ’’تکیہ‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا جس پر مجھ ناچیز کو تبصرہ کا حکم ہوا ہے، اسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔
پروین سجلؔ کا اندازِ فکر با کمال اور اندازِ بیاں لا جواب ہے وہ اپنے خیالات کو خوب صورتی سے ترتیب دے کرالفاظ کا جامہ پہنا کے جب صفحہ قِرطاس پر منتقل کرتی ہیں تو وہ اشعار کا روپ دھار کر نہ صرف قاری کی توجہ حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے دل پر گہرا اثر بھی چھوڑتے ہیں۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:

چلو ہم دیں، ہاتھ اپنے، ہاتھ دریا
کہ ساتھ اپنے ہم سفر ہو، ساتھ دریا
لبِ دریا، چُپ کھڑی تھی میری حالت
عجب حیرت، کیسے کرتا، بات دریا
مُقابل میں کون ٹھہرا کب سجلؔ جی؟
عجب پھر بھی، مات دیتا، مات دریا

محترمہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو اِس عمدگی سے بیان کرتی ہیں کہ اُس ماحول کی تصویر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتی ہے اور قاری اس سے لطف اندوزہوتا ہے:

عجب مسند ہے تکیہ، عجب حجرہ گِرامی
ہم اپنے حال میں خوش، ارے قبلہ گرامی
ترے لہجے کی خوشبو اُڑائے جاں کو ایسے
عجب حالِ تمنا کو، ترا چہرہ گرامی
۔۔۔
سر پہ ٹھہرا آسماں کیا دور تک بستا ہوا
دیکھنے میں اک جہاں کیا دور تک بستا ہوا
سلسلہ درپیش دیکھو! حاصلی لا حاصلی
اک گماں سے ، اک گماں کیا دور تک بستا ہوا
شورشِ مجنوں و لیلیٰ کب بھلا ٹھہری سجلؔ
صرصرِ شوقِ بیاں کیا دور تک بستا ہوا

آپ کی شاعری میں اِظہار کی لطافت، خیال اور جذبے کی صداقت قابل توجہ ہے:

خوش جاں ہے تماشہ یہ خوابِ تکیہ
اے چشمِ گماں کیا سرابِ تکیہ
عالم ہے کہ اوراق اڑتے جائیں
ہے کوئی سنبھالے کتابِ تکیہ
کیا دھول سجلؔ پاؤں دھونے خاطر
کیا عمر نچوڑا ہے آبِ تکیہ

اپنے اشعارمیں داخلی و خارجی جذبات و احساسات کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتی ہیں:

وہ شخص دُوپ دسمبر طرح سے بولے ہے
غمِ دَروں کی وہ لکنت یقیں پہ تولے ہے
ہے آنکھ گیلی میں بے چین خواب مٹی کے
وہ کائنات کا تعویذ جاں میں گھولے ہے
وہ رُکنے والا غبارِ جہاں کا باسی نہیں
سجلؔ اُڑان لیے بال و پر کو کھولے ہے

ایک اور جگہ لکھتی ہیں کہ:

یہ حالت، گو مگو ہوتی، تو بس اتنی
کہ صورت ہو بہو ہوتی، تو بس اتنی
کہ بات اکثر ہی کر کے بھول جاتے ہم
ہماری گفتگو ہوتی، تو بس اتنی
سجلؔ پہلو کو شیشہ ہاتھ میں رکھا
جو صورت روبرو ہوتی، تو بس اتنی

استعارہ ہو، تشبیہہ ہو، تلمیح ہو یا منظر نگاری… قادر الکلامی پروین سجلؔ کا خاصہ ہے۔ آپ کا مشاہدہ بہت گہرا اور عمیق ہے اس لیے شاعری میں بھی ہر بات بہت گہری اور قیمتی ہے۔

آیتِ حق ہوں دیکھو! سنا جائے مجھ کو
یوں نہ دیوارِ جاں میں چُنا جائے مجھ کو
تکڑی انمول یوسف ؑ سجلؔ ہو کمال
ایسی اَٹّی کی صورت بنُا جائے مجھ کو

کسی بھی شاعر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ قاری اس کے کلام میں اپنے درد کو اسی شدت سے محسوس کرے، جس کا اِظہار خود شاعر نے کیا ہے اور یہ خوبی پروین سجلؔ کے ہاں میں بدجہ اُتم موجود ہے۔

عکسِ جاں کیا کتاب ٹھہری
زندگی ہی سراب ٹھہری
ہم تماشا سنبھالتے کیا
آنکھ اپنی ہی خواب ٹھہری
زیست اپنی سجلؔ جی دیکھو!
کیا سوال اور جواب ٹھہری

آپ کے کلام میں پختگی، رعنائی، زور بیاں اور فصاحت پائی جاتی ہے:

چلو باغِ رضواں کو
لیے جاں پریشاں کو
سمندر بھرا کیسے
نچوڑا ہے مژگاں کو
ہے یوسفؔ کِیا روشن
سجلؔ کیسے زنداں کو

تصوف آپ کی شاعری کا خاصہ ہے. ایک اور مقام پر یوں رقم طراز ہیں:

وحشتِ جاں صحرائی عجب ہے
بادِ صبا پُروائی عجب ہے
سرمۂ طور آنکھوں کی بصارت
اہلِ نظر بینائی عجب ہے
سبقِ سجلؔ، اے چشمِ تغافل
گنبدِ جاں مینائی عجب ہے

خیال کی چاشنی اور روحانیت کی جھلک دیکھنی ہو تو محترمہ کی یہ غزل دیکھیں:

جائے بس میں نہیں ہے لیکن، بس
آئے بس میں نہیں ہے لیکن، بس
اک سِرا آکے ہاتھ میں اُلجھا
ہائے بس میں نہیں ہے لیکن، بس
کیسے کھینچوں سجلؔ جی منزل کو
پائے بس میں نہیں ہے لیکن، بس

ایسے عمدہ کلام پر کوئی بھی شعر فَہم داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’رائے بس میں نہیں ہے لیکن، بس.‘‘
زیرِ نظر مجموعہ کلام خیال انگیزی اور مضمون آفرینی کے اعتبار سے بہت عمدہ کاوش ہے. ہر غزل کے نیچے بحرکا نام درج کر کے تشنگانِ ادب کے لیے سیکھنے اور سمجھنے کی راہ ہموار کی گئی ہے اور ناقدین کے لیے بھی غور وفکر کے در کھولے ہیں۔ اہلِ محبت کو یہ ’’تکیہ‘‘ میسر آئے تو اسے اپنے تکیے کے نیچے رکھیں اور فرصت کے لمحات میں استفادہ کریں۔
دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت پروین سجلؔ صاحبہ کے ذہنِ طبع اور قلم کو مذید جولانیوں اور تابانیوں سے نوازے، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں