میرے بستے سے کہانیوں کی کتابیں نکل آئی تھیں۔
ماسٹر عبد الشکور نے اسمبلی میں پورے اسکول کے سامنے مرغا بنا دیا۔
سب کتابیں میری پشت پر رکھ دیں۔
پھر وہ بید رسید کر کے بھول گئے۔
سب اپنے اپنے کلاس روم میں چلے گئے۔ مجھے اجازت نہیں ملی۔
مرغا بنے بنے میرے پاؤں سوج گئے۔
رو رو کے آنکھیں بھی سوج گئیں۔
مسعود احمد برکاتی اور اشتیاق احمد مجھے بچانے نہیں آئے۔
وقت کی برف باری سے میرے بال سفید ہو گئے ہیں۔
اذانیں دے دے کر حلق خشک ہو گیا ہے۔
جھکے جھکے میرا قد رہ گیا ہے۔
ماسٹرجی!
اب کھڑا ہو جاؤں؟
”دبستانِ بولان، کوئٹہ‘‘ کی ماہانہ محفلِ مسالمہ – رپورٹ: پروفیسر صدف چنگیزی
”منکر نکیر‘‘، سید معین اختر نقوی کا اعلٰی و منفرد مزاحیہ شعری مجموعہ – محمد اکبر خان اکبر
تھا سراپا روح تو بزمِ سخن پیکر ترا – محمد اکبر خان اکبر
حکومت اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی
ثقافت – آمنہ سعید
”صنعتِ تلمیح، کل اور آج‘‘، ادبِ اردو کا ایک اہم موضوع – محمد اکبر خان اکبر
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر











