’’اقبالؒ اور اصحابِ رسولﷺ‘‘، پروفیسر تفاخر محمود گوندل کی تازہ تصنیف – محمد اکبر خان اکبر

پروفیسر تفاخر محمود گوندل صاحبِ طرز ادیب، منفرد اور کہنہ مشق شاعر اور لاجواب محقق ہیں. ان کے اثاثہ قلم کو دیکھیں تو ان کی ادبی نگارشات کی ایک دل ربا کہکشاں دکھائی دیتی ہے. وہ بیک وقت سیرت نگار، سفرنامہ نویس، کالم نگار، محقق اور نعت و غزل کے بہترین شاعر ہیں. اب تک درج بالا مختلف ادبی اصناف میں ان کی 12 کتابیں شایع ہو چکی ہیں. موجودہ دور میں جب کتاب اور قاری کا رشتہ کمزور پڑتا محسوس ہوتا ہے، چند گنے چنے اربابِ قلم ایسے دکھائی دیتے ہیں جو مستقل مزاجی سے نہ صرف تحریر سے رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنے قلم سے گوہر ہائے آبدار تخلیق کیے جارہے ہیں. تفاخر محمود گوندل کا شمار ایسے ہی مصنفین میں کیا جاتا ہے ان کی نئی تخلیق ’’اقبالؒ اور اصحابِ رسولﷺ‘‘ ان کی جاں سوز محنت، فکر انگیز تحقیق، عمیق نگاہی اور عرق ریزی کی عمدہ ترین مثال ہے.
ان کی تحریر کردہ عبارات سادہ و پر اثر اسلوب سے آراستہ اور دلوں کو چھو لینے والی ہیں. انھوں نے نہایت محنت سے شاعر مشرق کے کلام میں اصحابِ رسولﷺ کے تذکروں کو اجاگر کیا ہے.
جناب تفاخر محمود گوندل کی یہ کتاب منفرد موضوع کی حامل ہے جس میں انھوں نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے کلام میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کو جمع فرمایا ہے.
شاعر مشرق حکیم الامت کے فارسی اور اردو کلام میں ان مبارک ہستیوں کا جو تذکرہ پایا جاتا ہے اسے نہایت مشقت، عقیدت اور محبت سے پیش کرکے یہ خوب صورت کتاب تخلیق کی ہے.
تفاخر محمود اس کتاب سے پہلے ایک اور اعلٰی تحقیقی شاہکار ”اقبالؒ، اہل بیت کے حضور‘‘ پیش کر چکے ہیں. عشق رسولﷺ کا تقاضا تھا کہ کلام اقبالؒ میں موجود اصحابِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کے روح پرور تذکرے کو بھی موضوع تحقیق بنایا جائے. میں نے اقبالؒ اور اہل بیت کے بارے میں کئی کتابیں دیکھی ہیں البتہ کسی اقبال شناس کی اس موضوع پر کوئی تحقیقی تصنیف کم از کم میری نگاہ سے نہیں گزری.
اقبال فرماتے ہیں:

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

اقبالؒ کی اس عقیدت کے بارے میں تفاخر محمود گوندل صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حکیم الامت حضور سید المرسلینﷺ کے اعزہ اور آپ کے اصحاب دونوں کے احترام کو جزو ایمان تصور کرتے تھے. ان کے نزدیک کسی ایک کی محبت میں غلو یا کسی ایک سے اظہار نفرت ایمان و وقت کا ضیاع اور حرمت رسولﷺ متاثر ہوجانے کا اندیشہ نظر آتا ہے. اسی لیے تقابل اصحاب و اہل بیت کی بحثوں میں الجھنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے اقبال نے فرمایا تھا:

اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

مصنف نے کلام اقبالؒ میں صحابہ کرام ر سے متعلق اشعار اور تلمیحات کی بہترین تشریح تحریر فرمائی ہے. ان کی عقیدت اور وارفتگی اس کتاب کے حرف حرف سے نمایاں ہے. ان کی اس کتاب میں میں ان کی گیارہ نعتیں بھی شامل ہیں جو پروفیسر صاحب کے عشقِ رسولﷺ کی غمازی کرتی ہیں. انھوں نے عشقِ مصطفیٰﷺ سے اپنے دل کو حکیم الامت کی طرح آباد کر رکھا ہے. دعا ہے کہ ان کے قلم سے علم و حکمت کی کرنیں یونہی سدا پھوٹتی رہیں. آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں