’’دیوار چین کے سائے تلے‘‘، ایک سیاح کےمشاہدات – محمد اکبر خان اکبر

یہ میری خوش طالعی ہے کہ حسنین اصغر ہاشمی قریشی المعروف بہ حسنین نازشؔ میرے قریبی کرم فرماؤں میں شامل ہیں. گزشتہ چند دوروں میں جب بھی اسلام آباد جانا ہوا، انہیں نگاہیں فرشِ راہ کیے پایا. ان کی معیت میں کئی اہلِ علم و دانش کی صحبت میں بھی کچھ لمحات زیست گزارنے کا موقعہ ملا. ان کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں وہ ماہر تعلیم، صحافی، محقق، مترجم اور بے مثل سیاح ہیں.
میں سب سے پہلے ان کی شاعری سے متعارف ہوا تھا. مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اکادمی ادبیات، کوئیٹہ مرکز میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں ان کےخوب صورت اشعار سننے کا موقع ملا. اس کے بعد ان کے دیگر ادبی فن پاروں سے آگاہی ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی شہرت کے کئی معتبر حوالے ہیں.
”قاردیش‘‘ ان کا اولین سفرنامہ تھا جو طبع ہوتے ہی وطن عزیز کے ادبی افق پر خوب جگمگانے لگا. اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اردو کے منفرد سفرنامہ نگار کے طور پر جانے پہچانے لگے. دوسرا سفرنامہ ”دیوار چین کے سائے تلے‘‘ نے طبع ہوکر ادبی حلقوں میں خوب ہلچل پیدا کی. ابھی اس کا تموج کم بھی نہیں ہوا تھا کہ ”امریکہ میرے آگے‘‘ آگے آیا اور ایک بار پھر خنجراب سے کراچی تک دھوم مچ گئی جس کی گونجیں یورپ تک جا پہنچیں. ابھی وہ گونج باقی تھی کہ قارئین کو ”پہلی جھلک یورپ کی‘‘ کے اشاعت پذیر ہونے کا معلوم ہوا.
اس وقت بھی متحرک سیاح محو سفر ہیں اور یورپ کے بعد ایک بار پھر امریکہ کے شہروں کی خاک چھاننے میں مصروف ہیں.
فی الوقت ان کی کتاب ”دیوار چین کے سائے تلے‘‘ زیرِ تبصرہ ہے. ان کا یہ سفرنامہ بھی قارئین کی توجہ کا مرکز ہے. انھوں نے نہایت ہی دلنیش انداز نگارش اپنایا ہے اور چین جیسے عظیم الشان اور ہمارے بہترین دوست ملک میں گزرے ایام کا تذکرہ حسن خوبی، سلاست روی اور ندرت خیال سے قلم بند فرمایا ہے.
میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ان کے دستخط سے مزین یہ سفرنامہ ان کے پرخلوص تحفے کی صورت میں میسر آیا. سفرنامہ نگاری ایک ایسی صنف ادب ہے جس میں سوانح، روداد، تاریخ، مکالمہ، کہانی اور آپ بیتی کا رنگ بھی شامل کیا جا سکتا ہے بلکہ ان اصناف ادب کے رنگوں سے ایک پرلطف مرقع تخلیق پاتا ہے. حسنین نازشؔ کا کمال یہ ہے کہ وہ ان سب رنگوں کو حسب ضرورت برتتے جاتے ہیں اور قرطاس ابیض پر الفاظ کے بیل بوٹے کاڑھتے چلے جاتے ہیں. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسنین نازشؔ نے چین کے طرزِ معاشرت اور طرزِ حیات کا گہرا مشاہدہ کیا ہے وہ ثقافتی و عمرانی علوم میں کافی شد بد رکھتے ہی،ں جن کے نمونے جا بجا ان کے اس سفرنامے میں دکھائی دیتے ہیں. یہ چین کا پر لطف اور معنی خیز سفرنامہ ہے جو قارئین کو ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے رہن سہن، رسم و رواج قدرتی مناظر اور بے پناہ وسائل سے بھی آگاہ کرتا ہے. ان کا یہ سفر نامہ مصنف کے ذاتی احساسات، مدرکات اور تجربات کا دل آویز اور معطر مرقع ہےسان لی تن میں خان بابا ریسٹورنٹ جانے کا تذکرہ سفرنامہ نگار کی باکمال منظر کشی بے مثال ثبوت ہے.بیجنگ انٹرنیشنل سٹڈیز یونیورسٹی کی مسلمان طالبہ فاطمہ سے سر راہ ملاقات جس انداز سے مصنف نے قلمبند کی ہے اس سے ان کی قادر التسوید ہونے کی قوی شہادت ملتی ہے.
تیان من اسکوائر اور جامعہ مسجد نوجیہ کا تذکرہ نہایت خوبصورتی سے زیب قرطاس کیا گیا ہے. ان کا یہ دوسرا سفرنامہ بھی ان کی اعلٰی قوت مخترعہ اور تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار نمونہ ہے. ان کا قلم رواں اور جواں ہے ان کی تحریر زیبائی اور رعنائیوں سے لبریز ہے ان کی کتاب میں حسن تحریر کے کئی معطر پھول کھلے دکھائی دیتے ہیں جو قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں. مجھے یقین ہے کہ ان کے آنے والے دیگر سفرنامے بھی قارئین کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہیں گے.


• ”دیوارِ چین کے سائے تلے‘‘ کے ایک کردار کے نام، نوجوان شاعر اور ادیب نوید ملک کی خوب صورت شاعری:
”آؤ ہم رقص کریں…‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں