بریگیڈیئر محمد صدیق سالک مرحوم کی کتاب ”ہمہ یاراں دوزح‘‘، ایک جائزہ – محمد عمران اسحاق

جب سے کتب بینی کا مشغلہ اپنایا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں لیکن کسی بھی کتاب پر تبصرہ پہلی مرتبہ کررہا ہوں. میرے زیرِ مطالعہ کتاب کا نام ”ہمہ یاراں دوزح‘‘ ہے. یہ کتاب بریگیڈیئر محمد صدیق سالک، سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے قلم کی مرہون منّت ہے جس میں انہوں نے اپنی ہندوستانی قید (اسیری) کے واقعات کو قلمبند ہے۔ اس کتاب کے واقعات ان دو سالوں پر مشتمل ہیں جو 1971ء کی جنگ ہارنے کے بعد ہمارے نوے ہزار قیدیوں کے ساتھ بھارتی جیلوں میں پیش آئے۔ چوں کہ اس کتاب کے مصنف ایک فوجی افسر ہیں تو اس میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس میں ایسا مواد بھی ملتا ہے جو اُس وقت کی فوج کے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کتاب کا انداز بیان بہت ہی خوب صورت اور رواں ہے۔ یہ دوسری کتاب ہے صدیق سالک مرحوم کی جِسے میں نے چند دنوں میں پڑھا ہے، اس سے پہلے میں نے ان کی کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ پڑھی تھی جس میں مصنف نے اپنی آنکھوں سے بنگلہ دیش بنتے اور پاکستان ٹوٹتے دیکھا. مصنّف کو اردو پر کو خوب عبور حاصل ہے۔ آپ نے اپنی اسیری کے لمحات کو کس طرح قید میں رہ کر اپنے قلم سے قید کیا اور کس طرح ان کو محفوظ کرکے پاکستان لائے اور پھر اس کتاب میں کس انداز سے، موقع کی مناسبت سے شعروں کے ساتھ لفظوں میں اتارا، یہ بھی ان ہی کا کمال ہے۔ آپ نے اپنی اسیری کی ایک ایک واردات، ایک ایک لمحہ اتنا خوب صورت بیان کیا ہے کہ تمام واقعات قاری کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ اس قید میں سالک مرحوم کو زیرِ زمین ایک ایسے سیل میں رکھا گیا تھا جہاں رات تو کیا دن میں بھی روشنی کے آثار نہ تھے۔ قبر نما یہ سیل جو چھ مربع فٹ کی ایک ایسی کال کوٹھری تھی جس میں انسان بیٹھ تو سکتا ہے، لیکن پوری طرح لیٹ نا سکتا۔
صدیق سالک نے اس پورے مرحلے کے واقعات جس طرح بیان کیے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک عام قاری کے لیے یہ قوموں کی دشمنی، جنگوں کی ہولناکی اور قید کے احوال کے اعتبار سے ایک پُراثر تحریر ہوگی، مگر ایک بندہ مومن کی نظر سے یہ دوزخ کے عذاب کا ایک تعارف ہے۔ قرآن مجید میں دوزخ کی جو سزائیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے سب سے ہلکی سزا وہ ہے جو سورہ فرقان (13:25) میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ اہل جہنم دوزخ میں کسی تنگ جگہ پر باندھ کر پھینک دیے جائیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور جب یہ اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت کو پکاریں گے۔ آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔‘‘
سالک صاحب کی تحریر پڑھ کر ان آیات کی ایک بہترین تشریح سامنے آتی ہے۔ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ دوزخ کا بظاہر کم نظر آنے والا عذاب بھی انسانی برداشت کے لیے اتنا زیادہ ہے کہ کوئی انسان اس کو جھیلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ قرآن مجید اس عذاب ہی کو واضح نہیں کرتا بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ عذاب ناشکری کے بدترین جرم کی سزا ہیں۔ یہ ناشکری کیا ہوتی ہے، اس کی بڑی خوب صورت وضاحت بھی صدیق سالک کی اس کتاب میں ملتی ہے۔ وہ اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ اس قید سے ذرا دیر کی رہائی میں انہیں وہ مناظرِ فطرت بھی اس قدر قیمتی محسوس ہوتے تھے جن کے درمیان ہمارے صبح و شام گزرتے ہیں اور ہم کبھی ان پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ اس بیان کو ذرا ان ہی کی زبانی سنیے:
’’آدھ گھنٹے بعد مجھے پھر روئے زمین پر آنے کی دعوت ملی۔ میں نے پھر مناظر قدرت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ پیپل کے پتے جھڑتے دیکھے۔ اس پر جنگلی چوہے چڑھتے دیکھے۔ غسل خانے کی منڈیر پر کبوتروں کو مصروفِ غٹرغوں پایا۔۔۔ صحن سے ایک فاختہ کو فکر آشیاں بندی میں تنکے اکٹھے کرتے دیکھا۔ غلاظت کے ڈھیروں سے کوؤں کو چاول اور چیلوں کو تلاشِ گوشت میں اس پر جھپٹتے دیکھا۔ بس کچھ نہ پوچھیے ان عیاش آنکھوں نے کیا کیا ضیافت نہ اڑائی۔ رستی بستی دنیا کی ایک جھلک دیکھ لی اور پھر چوبیس گھنٹے کے لیے زیر زمین دفن!‘‘
فطرت کی حسین دنیا کا یہ نظارہ جو آسمان سے زمین تک پھیلے ہوئے رنگوں، روشنیوں اور مناظر پر مشتمل ہے، ان اربوں کھربوں نعمتوں میں سے صرف ایک نعمت ہے جس میں ہم جیتے ہیں۔ وگرنہ زندگی، اس کی بقا اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے جو ساز و سامان اس کائنات میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے دے رکھے ہیں، ان کی کوئی قیمت نہیں چکائی جا سکتی۔ یہ سب کچھ ہمیں مفت میں ملتا ہے۔ ہوا، پانی، غذا، صحت، طاقت، رشتے ناتے، مال و اسباب، غرض ہر جگہ یہ نعمتیں بے حساب بکھری ہوئی ہیں۔ مگر ہم دینے والے کو بھول کر جیتے ہیں۔ اس کی پکار کا جواب نہیں دیتے۔ اس کی یاد کو اپنی زندگی نہیں بناتے۔ یہی نہیں ہم اس مہربان رب کی نافرمانی میں جیتے ہیں۔ اس کی عبادت میں غیراللہ کو شریک کرتے ہیں۔ اس کے بندوں پر ظلم کرتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کے بغیر ایک لمحہ بھی جی نہیں سکتے، کوئی محرومی برداشت نہیں کرسکتے۔ مگر ہمارا حوصلہ دیکھیے کہ ہم اس عجز کے باوجود ایسی غفلت اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جہنم کی ابدی قید ایسی ہی ناشکری اور سرکشی کا بدلہ ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کو یاد کر کے اور اس شکر گزاری میں جیتے ہیں تو ان کا بدلہ اسی آیت کے ساتھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
”ان سے پوچھو کیا یہ (انجام) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ نیک لوگوں سے کیا جارہا ہے۔ وہ ان کی جزا اور ان کا ٹھکانہ ہوگی۔ اس میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے رب کا وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس کی حتمی ذمہ داری ہے۔‘‘
(الفرقان14-16:25)
تنگی و تنہائی اور تاریکی و وحشت کے اس ماحول میں صدیق سالک اور ان کے ساتھیوں کا ساتھ دینے کے لیے اس قبر نما سیل میں کوئی تھا تو وہ موسمِ سرما کی شدید ٹھنڈ تھی یا پھر مچھر، کھٹمل اور پسوؤں کی ایک بڑی تعداد ان کا لہو پینے کے لیے وہاں موجود تھی۔ یا پھر ان کے اندر سے ابلتی بلکتی بھوک اور نیند کی جبلتیں تھیں جن کی تسکین کے لیے حالات آخری درجے میں ناسازگار تھے۔ وہاں اگر کوئی انسان تھا تو باہر تعینات وہ سنتری تھا جو انہیں اس کال کوٹھری میں لیٹے یا دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے دیکھتا تو گندی گالیوں سے ان کی خبر گیری کرتا اور انہیں بیٹھے رہنے کا حکم جاری کرتا۔
اس کے علاوہ جو چیز پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے وہ انسانی نفسیات ہے جو ان دو سالوں میں دیکھنے میں آئی ہیں۔ انسان کو جب اتنی تکلیف دہ اور سخت حالات سے گزرنا پڑتا ہے، تب اس کی وہ تمام اندرونی خوبیاں ظاہر ہوتی ہیں جو عام حالات میں شاید کبھی سامنے نہ آ سکیں۔ اگر ایک طرف جذبہ حب الوطنی پورے جوبن پر نظر آتا ہے تو دوسری طرف دشمن ملک سے نفرت اپنے عروج پر دکھتی ہے۔ اگر ایک طرف ایثار کا جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے تو دوسری طرف سب کچھ جھپٹ لینے کی خصلت دیکھنےمیں آتی تھی۔ کبھی قیدی اتنا پر امید جیسے کل ہی گھر کو روانہ ہو جائے گا اور کبھی اتنا ناامید جیسے ساری زندگی اسی جگہ بسر کرنی پڑے گی۔ کبھی دوسروں کا درد اپنے اندر محسوس کرتا ہے تو کبھی اپنوں سے بھی بیگانہ محسوس ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں فوجی جوانوں کی شہادت کے رُلا دینے والے واقعات ہیں کہ کس طرح دورانِ قید انہیں بے دردی سے شہید کیا گیا. جن میں کیپٹن شجاعت اپنے نام کی طرح شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چلتی ٹرین سے پھلانگ کر قید سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت زیادہ خون کے بہاؤ کے سبب بے ہوش ہو کر گرتے ہیں اور دوبارہ اسیری ان کا مقدر بنتی ہے. اسی وقت میجر نصیب اللہ نماز کی تیاری میں مگن گارڈ کی گولیوں سے شہید ہوتا ہے۔ اسی طرح کتابی چہرہ اور شتابی چال رکھنے والے سیکنڈ لیفٹینٹ اعجاز حسین رضوی کی شہادت کے بارے میں پڑھ کر قاری کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھری چل پڑتی ہے.
مصنف نے اسیری کے دوران مختلف کیمپوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیغام رسانی کا جو نظام متعارف کروایا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے. اس نظام کے ذریعے بغیر کسی شک و شبہ کے وہ اپنے ساتھیوں سے خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔
رہائی پانے کے بعد واہگہ بارڈر پر شہادت پانے والے جوانوں کے والدین کی آنکھوں میں بیٹوں کے آنے کی چمک اور ان کی شہادت کا سن کر ان کی آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کی تڑپ بھی قاری کے دل میں گہرے زخم چھوڑ جاتی ہے۔ مصنف خود بھی اپنی والدہ کے انتقال کا سن کر کس طرح بے اختیار رونے اور دل کو قرار دینے کے لیے لاہور کے مشہور مقامات پر جاتے ہیں اور اپنے ادیب دوستوں کی موت کا سن کر کس طرح قید سے شکوہ کرتے ہیں. اس طرح مصنف ایک رلا دینے والا منظر پیش کرتے ہیں۔
کتاب ”ہمہ یاراں دوزح‘‘ کو پڑھتے پڑھتے جس ایک چیز نے مجھے چونکا کر رکھ دیا وہ تھی ہماری فوج کا معیار۔ مطلب کتنی ہی جگہوں پر مصنف نے خود کو دشمن فوج سے برتر پایا۔ جب ان کو گاڑی میں بٹھا کر لے جانے لگے تو ہندوستان کی بوسیدہ گاڑیوں کی نسبت ان کو اپنی سرکاری چمچماتی گاڑیاں یاد آ گئیں، بھارتی فوجیوں کو وہ افسردہ، نکھٹو اور نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ دیکھتے جب کہ اپنے فوجیوں کو ہشاش بشاش اور ول پرسنلٹی… بھارت کو تنگ دل تنگ نظر اور اپنے آپ کو وسیع القلب اور وسیع النظر، مجموعی طور پر مصنف کے نزدیک پاکستانی فوج ڈسپلن، پروفیشنلزم، انٹیلیجنس غرض ہر شعبہ میں بھارتی فوج سے بہتر تھی۔
مصنف نے 1972ء کا بھارت ہمیں فاقہ کش اور غربت زدہ دکھایا ہے۔ خوش ہو کر یہ بات بتائی ہے کہ پاکستان کا روپیہ بھارت سے تگڑا تھا۔ فخر سے یہ باتیں بھی بتائی ہیں کہ بھارت اپنے ملک کی چیزیں استعمال کرتا ہے جب کہ پاکستان ”امپورٹڈ‘‘ چیزیں استعمال کرتا ہے۔ آج جب 2023ء میں ان سب باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھارت پر نظر ڈالی جائے تو یہ تمام باتیں پاکستان کے لیے لمحہ فکر ہیں۔ بھارت نے اس خطہ میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نہ صرف خطہ میں بھارت کا راج ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر پوری دنیا پر حکومت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان سے آج تک کیا سیکھا؟ یہ ایک اہم سوال بدستور قائم ہے۔


کتاب دوست محمد عمران اسحاق کا تعلق تلمبہ شہر، تحصیل میاں چنوں، ضلع خانیوال سے ہے. آپ کی تعلیم ایم ایس سی فزکس ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں