ممتاز مفتی اور ’’لبیک‘‘ – محمد عمران اسحاق

جب سے میرا تعلق ادب سے جڑا ہے، سفر نامہ پڑھنے کا اتفاق پہلی مرتبہ ہوا۔ سفرنامہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کے دل میں ایسی امنگ پیدا کرتا ہے، جس کی بدولت قاری ان جگہوں پر جانے کی ٹھان لیتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بیٹھے بیٹھے عالمِ تصوّر میں ان مقامات کی سیر و سیاحت ضرور کرلیتا ہے جن کا ذکر قاری سفرنامے میں پڑھتا ہے۔ سفر نامہ میں مصنف ان جگہوں کا نقشہ ایسے انداز میں کھینچتا ہے، گویا پڑھنے والا الفاظ کی لہروں پر سوار ہو کر ادیب کے ساتھ ان مقامات پر گھومنے پھرنے لگتا ہے۔
زیرِ مطالعہ سفر نامہ ’’لبیک‘‘ کے مصنّف ممتاز مفتی مرحوم ہیں اور اس کتاب کے صفحات تین سو کے لگ بھگ ہیں۔ ان تین سو صفحات کی تحریروں میں قاری کو مفتی جی کی معصومیت، طبعیت، عقل و شعور اور منظر نگاری کی ایسی خوب صورت جھلک نظر آتی ہے کہ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے اور مفتی جی کا دیوانہ ہوئے بغیر رہ نہیں پاتا۔ ممتاز مفتی مرحوم مایہ ناز ادیب، دانشور اور اعلیٰ درجے کے افسانہ نگار تھے۔ ان کی بہت سی تصانیف موجود ہیں جن میں مختلف موضوعات پر تحاریر قاری کو پڑھنے کے لیے ملتی ہیں جو اس کے علم و فہم میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
کتاب ’’لبیک‘‘ کے نام کی نسبت سے، حج کے مبارک دن، مفتی جی کا سفرِ حج پڑھنے کا موقع ملا۔ جب کتاب کو پڑھنے کے لیے اٹھایا تو اس میں موجود خوب صورت الفاظ پر مشتمل تحریر نے اپنے سحر میں ایسا جکڑا کہ کتاب ختم ہونے کا اندازہ ہی نہ ہو سکا.
اس رودادِ سفر میں مفتی جی قاری کو کئی باتیں سمجھا گئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے بلاوا نہ آئے، اس وقت کوئی بھی اپنی بھرپور کوشش کے باوجود خانہ خدا (خانہ کعبہ) اور درِ رسولﷺ کی زیارت نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے وہ اپنے خوابوں میں حج کی بشارت اور قدرت اللّٰہ شہاب کی طرف سے کی گئی مسلسل جدو جہد کے باوجود کئی مرتبہ حج کا پروگرام بنتے بنتے کینسل ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔
قدرت اللّٰہ شہاب مفتی جی کے ساتھ اس سفر میں ایک روحانی پیشوا کی حیثیت رکھتے ہیں جو قدم قدم پر مفتی جی کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کے معصومانہ سوالات کے بڑے مختصر اور جامع جواب دیتے ہیں جو پڑھنے والے کے لیے بھی سنہری اقوال کا درجہ رکھتے ہیں۔ مفتی جی کے سوالات میں سے ایک کا قدرت اللّٰہ شہاب جواب دیتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں اللّٰہ اور عبد کا تعلق ہوتا ہے جب کہ مدینہ منورہ میں رسولﷺ اور اُمتی کا تعلق ہوتا ہے، ان کے علاوہ انسان کا کسی دوسرے سے تعلق اس سر زمین پر نہیں ہوتا۔
اس سفر نامے میں مفتی جی مسجدالحرام میں اپنے قیام کو اتنے دل چسپ اور خوب صورت انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس مقام پر محسوس کرتا ہے. تحریر میں کھوکر پڑھنے والا خود کو مفتی جی کے ساتھ خانہ کعبہ کے مالک کے ساتھ آنکھ مچولی کرنے کا مزہ چکھتا ہے۔ ایسی محبت اور عقیدت کہ پڑھنے والا اگر خالصتاً مذہبی ہوا تو مفتی جی پر ہزار فتوے لگا کر خود کو اس کتاب سے الگ کر لے، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اس سفر نامے کو پڑھتے ہوئے خود کو محبتِ خدا میں غرق ہو جانے اور ان کی گفتگو سے لطف اندوز ہونے میں دلچسپی رکھے۔
سنگِ اسود کے بوسے کے منظر نامے کو بیان کرتے ہوئے مفتی جی لکھتے ہیں کہ حاجی اس مقدس پتھر کو بوسہ دینے کی خاطر اس کے تقدس کو پامال کر رہے تھے اور بوسے کے دوران شدید بھگڈر مچا دی جاتی ہے. مفتی جی حطیم میں اپنی کیفیت لکھتے ہیں کہ وہاں جاکر ایسا محسوس ہوا جیسے میرے سابقہ گناہوں کی بدولت میرے جسم سے گندگی کی بو نکل رہی ہے اور میں لاکھ کوششوں کے باوجود سجدے کی سعادت سے محروم ہوں اور اپنے گناہوں پر نادم ہوکر اپنے ربّ سے معافی کا طلب گار ہوتا ہوں۔ یہ ساری کیفیت پڑھنے والے کے لیے بہترین سبق ہیں۔
ممتاز مفتی اس سفرِ نامے میں ایک انتہائی اہم نقطہ لکھتے ہیں کہ حرم شریف ایک ایسی مقدس جگہ ہے جہاں اسلام کو خطرہ نہ تھا، مسلک، رسم و رواج، گناہ و ثواب کی قید نہ تھی، ہر انسان آزاد تھا. وہ جیسے چاہے عبادت کرے اور جیسے چاہے خانہ کعبہ کا طواف کرے اور بدلے میں اس گھر کا مالک اپنے بندوں کو دیکھ رہا تھا اور اُن کی موجودگی پر مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔
مفتی جی اللّٰہ پاک سے مخاطب ہو کر معصومیت میں سوال کرتے ہیں کہ اتنے لوگوں کے ہجوم میں صرف تیری ذات خاطر تیرے در پہ کون آیا ہے جو تجھ سے تجارت نہیں کرتا بلکہ تیرے در پہ خالصتاً تیری محبت میں آیا ہے؟
مصنف حج کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ حج داخلی تبدیلی کا نام ہے، خارجی پہلو تو پہلے جیسا ہی ہے. اس کی تفصیل پڑھنے سے اندازہ ہوگا کہ اپنے حج کو کس قدر عظیم تر بنایا ہے. ممتاز مفتی منٰی کے مقام کی کفیت کو بیان کرنے میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں. میدانِ عرفات اور پاس کے بازار میں حاجیوں کی خریداری کے بارے میں منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہاں موجود لوگوں کو احساس تک نہ تھا کہ وہ کہاں آئے ہیں۔
شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے حاجیوں کی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ کنکریاں مارنے والے تمام افراد غصہ وہاں بندھے ہوئے شیطان پر نکال رہے تھے اور اسے اپنے سابقہ گناہوں کا مجرم مانتے تھے۔ اس کے ساتھ اپنی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ پتھر ریورس ہوکر مجھے لگے ہیں اور شیطان مجھ پر ہنس رہا ہے۔ یہ تمام منظر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آج کے دور کی اہم بیماری (کیمرے کا بے تحاشا استعمال) مفتی جی 1968ء کے حج میں بیان کرتے ہیں کہ اس مقدس سر زمین پر کچھ لوگ حج سے زیادہ تصویریں بنانے پر توجہ دیتے ہیں اور واپس لوٹتے ہوئے ثواب کی گٹھڑیاں، رشتہ داروں کے لیے تحائف تو حرم شریف سے ساتھ لاتے ہیں مگر اس کعبہ کے والی کو وہیں تہنا چھوڑ کر دنیاوی مال، اسباب اور ثواب کی تجارت کرکے واپس لوٹ آتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں روزہ رسولﷺ پر حاضری کی کیفیت کو مصنف انتہائی محبت، عقیدت اور احترام کے ساتھ بیان کرتے ہیں.
اس سفر نامے کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری کی طلب پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں کہ یہ سعادت ہم سب کے نصیب میں لکھ دے، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں