”لبیک، اللھم لبیک‘‘، کاشف صدیقی کے محبتوں اور عقیدتوں کے سفر – ثاقب محمود بٹ

جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

روایتی سفرنامہ ہمیں مقاماتِ سفر سے متعارف کراتا ہے اور غیر روایتی سفرنامہ، کیفیتِ سفر سے. ممتاز سفرنامہ نگار کاشف صدیقی صاحب کے نئے شائع ہونے والے سفرنامہ ”لبیک، اللھم لبیک‘‘ میں ہمیں یہ دونوں‌ خصوصیات پڑھنے کو ملتی ہیں.
کاشف صدیقی کو حکومتِ پاکستان، پاک فوج، تدریسی شعبے اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ 30 سال سے زیادہ کا پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔ آپ نے پاکستان کے علاوہ ایران، چین، برطانیہ، فلپائن، یمن، اُردن، قازقستان، جنوبی سوڈان، ترکی، شام، لیبیا اور سعودی عرب میں مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ نے ملٹری کالج آف انجینئرنگ، رسالپور سے سول انجینئرنگ کی ڈگری اور یونیورسٹی آف لیڈز، انگلینڈ سے جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ متعدد تحقیقی مقالات اور کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ قبل ازیں گزشتہ سال (2023ء) کے مارچ میں کاشف صدیقی صاحب کی 25 مختلف ممالک کے سفر کی داستان، ”دیس پردیس کا مسافر‘‘ کے عنوان سے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد حاصل کر چکی ہے۔ حال ہی میں اس کا ایک ایڈیشن ”دیس پردیس کا سفر‘‘ کے نام سے نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام بھی شائع ہوا ہے.

جیسا میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ سفرنامہ میں دو خوبیاں ضرور ہونی چاہیں: ایک تو قاری کے دل میں سیر و سیاحت کا شوق پیدا کر دے اور اگر پہلے سے موجود ہے تو سفرنامہ آتشِ شوق کو تیز تر کر دے، دوسری یہ کہ منظر کشی ایسی مکمل اور جاندار ہو کہ ہر منظر کی صحیح اور سچی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جائے. جناب کاشف صدیقی کے پہلے سفرنامہ کی طرح اس دوسری کتاب میں بھی یہ دونوں خوبیاں محسوس کی جا سکتی ہیں.
کتاب ”لبیک، اللھم لبیک‘‘ کاشف صدیقی کے عمرے، حج اور مدینہ کے سفر کے بارے میں ہے. یوں یہ کتاب بیک وقت حجاز نامہ بھی ہے اور سفرنامہ بھی، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف ایک حساس اور صاحبِ بصیرت لکھاری ہیں.
مصنف نے اپنا پہلا عمرہ یمن کی اسائنمنٹ کے دوران ادا کیا جب وہ سن 2011ء میں‌، یونیسیف میں ملازمت کر رہے تھے. اس عمرہ کو انہوں نے ”کتاب‘‘ کا عمرہ کہا ہے. اس حوالہ سے انہوں‌ نے کتاب میں ایک باب کا عنوان ”پہلا عمرہ-کتاب کے چنگل میں‘‘ بھی تحریر کیا ہے.
دوسرا عمرہ سفرنامہ نگار نے اپنے قیامِ سعودی عرب کے دوران 2022ء میں کیا. مصنف کے مطابق یہ دوسرا عمرہ ”سکون‘‘ کا تھا جب کہ تیسرا عمرہ مصنف نے اپنی بیٹی کے ہمراہ 2023ء میں کیا اور اس عمرہ کو ”پہچان‘‘ کا نام دیا. اس حجاز نامہ کی انفرادیت دراصل اس کا سادہ، عام فہم اور کیفیات سے بھرپور اسلوب ہے یعنی اس کتاب میں مصنف نے اپنی دلی کیفیات کھل کر بیان کی ہیں.
ٹائیٹل کا سیاہ رنگ دیکھ کر ممتاز مفتی کا سفرنامہ حجازِ مقدس، ”لبیک‘‘ یاد آ گیا، گو کہ دونوں کتابوں کے عنوانات میں بھی کسی حد تک مماثلت ہے. لیکن مفتی جی کی کتاب کا سرورق سیاہ و سفید نہیں تھا. میری کاشف صدیقی صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس ”سیاہ و سفید‘‘ کی وجہ پوچھی تھی. خیر بات ہو رہی تھی مفتی جی کے سفرنامہ کی، تو جن احباب نے ”لبیک‘‘ کا مطالعہ کر رکھا ہے، وہ بخوبی جان جائیں گے کہ میں‌ نے سیاہ رنگ کا بطورِ خاص ذکر کیوں کیا. ویسے کاشف صدیقی کی اس کتاب کے مطالعہ سے مجھے اس بات پر حیرت ضرور ہوئی کہ مصنف نے اس کتاب میں پہلے سفر نامہ ”دیس پردیس کا مسافر‘‘ کا ذکر تک نہیں کیا اور یہ وجہ میں نے مصنف سے ملاقات میں بھی پوچھی تھی.
جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہ حجاز نامہ صرف سفرنامہ نہیں بلکہ جذبوں کی ایک دل آویز دستاویز بھی ہے. مصنف خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے کی پہلی کیفیت کچھ یوں‌ بیان کرتے ہیں کہ:
”جب میں خانہ کعبہ کے سامنے پہنچا، میرا دماغ جیسے خالی ہو چکا تھا. مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں‌ کیا دعا مانگوں؟ بہت دیر مَیں اسی کیفیت میں رہا. سب کہتے ہیں کہ پہلی نگاہ جب خانہ کعبہ پر پڑتی ہے اور اس وقت کوئی دعا مانگیں، وہ قبول ہو جاتی ہے. مجھ جیسے شخص کو تو توفیق ہی نہیں ہو رہی تھی کچھ دعا مانگنے کی. بہت زور لگانے کے بعد بھی کچھ یاد نہ آیا. میں ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہو چکا تھا جس میں مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا. سامنے خانہ کعبہ نظر آ رہا تھا. بس ایک گہرے سناٹے کا احساس تھا اور ایک تنہائی کا عالم تھا، جیسے طوفان سے پہلے آنے کی خاموشی ہوتی ہے. بمشکل کچھ ہلکی پھلکی دعائیں یاد آئیں…‘‘
اگلے روز کی کیفیت مصنف نے یوں بیان کی ہے:
”مسجد الحرام کے آس پاس کی چند گلیاں دیکھیں اور پھر عصر کی نماز پڑھنے مَیں خانہ کعبہ پہنچ گیا. اس وقت میرے پاس بہت ٹائم تھا. ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر مَیں بیٹھ گیا اور خانہ کعبہ کو دیکھنے لگا. آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک ایسی لڑی شروع ہوئی جو بہت دیر تک جاری رہی… کعبہ میں موجودگی کا احساس اب ہو رہا تھا. وہ تمام احساسات جو کل نہیں تھے، آج امڈ امڈ کر آ رہے تھے. آج لگ رہا تھا کہ میں اللہ کے حضور حاضر ہوں اور اپنی وقعت سمجھ آ رہی تھی. ایسی جگہ جہاں پر کسی انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی. جہاں پر دین کو مکمل کر دیا گیا تھا. ایسی جگہ جہاں پر دعائیں کم پڑ جاتی ہیں لیکن دینے والے کا ہاتھ بھرا رہتا ہے. اس وقت میں نے ہر طرح کی دعا مانگی… زم زم کے گلاس بھر بھر کر پیے. رات تک کا وقت میں نے خانہ کعبہ میں‌ گزارا. جب بھی بھوک کا احساس ہوتا، کوئی نہ کوئی آ کر کچھ کھانے پینے کو دے جاتا تھا. اللہ کے گھر میں آنے والا ہر شخص اللہ کا مہمان ہوتا ہے اور ہر مہمان پر اللہ کا کرم مختلف طریقے سے نازل ہوتا ہے.‘‘
سفرنامہ میں مدینہ شریف کے سفر کے حوالہ سے بھی مصنف نے اپنے پُر لطیف تاثرات درج کیے ہیں:
”میں نے کہیں‌ پڑھا تھا یا سنا تھا کہ مکہ کے ماحول میں شدت ہے اور مدینہ میں سکون. شاید اسی وجہ سے میں نے مدینہ کی حدود کے اندر داخل ہوتے ہوئے وہ سکون محسوس کیا. ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی میں ایک ٹھہراؤ سا آ گیا ہے. اس کا احساس سانسوں کے مدہم اور خیالات میں ایک غیر معمولی بے چینی کے ختم ہونے سے ہوا.‘‘
آگے بڑھ کر کتاب میں کاشف صدیقی نے مدینہ منورہ کی مختلف مقدس جگہوں اور وہاں سر انجام دی گئی عبادات کا ذکر کیا ہے.

دکھا دے یا الہٰی! وہ مدینہ کیسی بستی ہے
جہاں دن رات تیری رحمت برستی ہے

مصنف نے ایک جگہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی دینی حالتِ زار اور اسلام سے دُوری کا افسوس بھرا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
”قرونِ اولیٰ کے مسلمان، لیڈر بھی تھے اور امام بھی. دین اور دنیا ساتھ لے کر چلتے تھے. رفتہ رفتہ ہم نے روزمرہ کی زندگی سے دین کو نکال کر ملاؤں کے سپرد کر دیا اور انہیں صرف مسجد اور مدرسوں تک محدود کر دیا. عام آدمی اب دین سے اتنا دور ہو چکا ہے کہ نہ وہ اپنے مُردوں کا جنازہ پڑھا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کا نکاح. حتیٰ کہ قرآن خوانی کے لیے بھی (مدرسہ کے) بچوں کو بلانا پڑتا ہے.‘‘
ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے ہوائی اڈے ہی اُس ملک کے بارے وہ پہلا تاثر ہوتے ہیں جس سے مسافروں کو واسطہ پڑتا ہے اور ہم دنیا کو پہلا تاثر ہی یہ دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم کیا ہیں. اس سفرِحجاز سے واپسی پر اپنے وطن کے ہوائی اڈے کا حال لکھتے ہوئے مصنف کا بیان ملاحظہ ہو:
”اگلے دن میں مدینہ ایئرپورٹ پہنچ گیا… سامان اور زم زم کے جیری کین چیک اِن کر دیے تھے اور واپس پاکستان کی طرف عازمِ سفر ہوا. پاکستان پہنچ کر سامان لینے کے لیے کھڑا ہوا تو زم زم کے جیری کین نظر نہ آئے. بہت دیر انتظار کے بعد ایک صاحب نے آ کر بتایا کہ زم زم کے جیری کین وہاں سے لوڈ نہیں ہوئے تھے. آپ کل لینے آ جائیے گا. باہر کاؤنٹر سے رسید لے لیں. اس کاؤنٹر کے باہر ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی. ایک صاحب نے بتایا کہ ان لوگوں نے یہ پیسے کمانے کا طریقہ بنایا ہوا ہے. میں نے زم زم کے اوپر فاتحہ پڑھی اور گھر روانہ ہو گیا.‘‘
کتاب میں مزید کاشف صدیقی صاحب نے اپنے دوسرے سفر کے بارے میں قارئین کو آگاہ کیا ہے اور روحانی کیفیات کے ساتھ ساتھ خود پر طاری دنیاوی کیفیات کو بھی بیان کرنا ضروری سمجھا ہے. لکھتے ہیں:
”احرام میں ملبوس ایئرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھ کر میں اپنے اوپر روحانی، نورانی اور ہر طرح کی دینی کیفیات طاری کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہر تھوڑی دیر کے بعد کوئی نہ کوئی دنیاوی کشش سامنے نظر آ جاتی تھی. لاحول ولا قوۃ پڑھ کر پھر اپنی کیفیت میں جانے کی کوشش کرتا جو کہ تھوڑی دیر تو کامیاب ہوتی مگر اس کے بعد پھر ذہن بھٹک کے کسی اور طرف نکل جاتا. اور تو اور سامنے والی لائن میں آ کے ایک خاتون کرسی پر تشریف فرما ہو گئیں. اوپر تو مکمل عبایا پہنا ہوا تھا لیکن جب وہ پہلو بدلتیں تو اندر تک کی چیزیں نمایاں ہو جاتیں. تھوڑی دیر کے بعد مسکرا کر دیکھتیں تو ایسا لگتا تھا کہ مجھ سے کچھ کہنے کی کوشش کر ہی ہوں… تھوڑی دیر تک تو دین اور ایمان خطرے میں رہا پھر میں نے بادلِ نخواستہ اپنی سیٹ بدل لی.‘‘
جدہ ایئرپورٹ اتر کر وہاں کے ریلوے سٹیشن سے ٹرین کے سفر کا ذکر ہے:
”وہی خاتون ایک بار پھر مجھے آتی ہوئی نظر آئیں. اللہ تعالیٰ کا اپنے کمزور بندے کا امتحان جاری تھا. شکر ہے اس بار وہ میرے ڈبے میں تشریف نہ لائیں اور یہ امتحان ختم ہوا…‘‘
کتاب میں مصنف نے مدینہ کے اُس سفر کا حال بھی لکھا ہے جو انہوں نے والدہ کے ساتھ سرانجام دیا. اس حصہ میں مصنف نے اپنے خاندانی شجرہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک جا ملتا ہے. کتاب میں مزید، مصنف نے اپنے فریضہ حج کی ادائیگی کے بارے میں بھی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کیسے کوشش کے باجود وہ یہ فریضہ ادا نہ کر سکے لیکن یہ تمنا دل میں مچلتی رہی اور آخر کار اس نیک خواہش کی تکمیل کا وہ مقدس دن آ ہی پہنچا.

جو دعا دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

مصنف نے کتاب میں مکہ کی مختصر تاریخ کے ساتھ ساتھ اس مقدس فرض کی فضیلت و دینی فرائض کی ادائیگی کے لیے ہر روز کی مناسبت سے راہنمائی بھی فراہم کی ہے. یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نثری خوبیوں اور فنی محاسن کے ساتھ ساتھ ”لبیک، اللھم لبیک‘‘ میں عمرہ و حج سے متعلق آداب اور معلومات کا ایسا ذخیرہ موجود ہے جو عازمینِ عمرہ و حج کے لیے راہ نمائی کا سبب بن سکتا ہے. گویا قارئین اور اہلِ ذوق کے لیے اس کتاب میں وافر سامان موجود ہے.
کتاب کے آخری باب کے طور پر کاشف صدیقی نے ماضی کے واقعات کی روشنی میں تب کی سفری مشکلات کا دورِ حاضر کی آسانیوں سے موازنہ کر کے قاری کو جھنجھوڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور باب کا عنوان ”یادِ ماضی عذاب ہے یا رب‘‘درج کیا ہے.
یوں تو سفرِ حجاز پر مشتمل لاتعداد سفرنامے طبع ہو کر منظرِ عام پر آ چکے ہیں لیکن اس سفرنامہ کا اپنا ہی انداز ہے جسے یقیناً ہر قاری پسند کرے گا. کیوں کہ یہ کتاب سفرِ حجاز کی روداد بھی ہے اور باطنی کیفیات کا مرقع بھی، جسے کاشف صدیقی نے اپنے منفرد اور دل نشین طرزِ نگارش سے دل و دماغ کی ترجمان بنا دیا ہے. اس مناسبت سے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کاشف صدیقی کی کتاب منفرد اور قابلِ ستائش کاوش ہے جس میں انہوں نے حجازِ مقدس کے اپنے تاریخی اور یادگار اسفار کو اس طرح قلم بند کیا ہے کہ قاری مکمل مطالعہ کیے بغیر کتاب ہاتھ سے نہیں رکھتا.
سچ ہے کہ دربارِ رسالتﷺ اور حرم شریف کی زیارت کی سعادت اور اپنے جذبوں‌ کی تسکین کو قلم بند کر کے مصنف نے قلم کا حق ادا کیا ہے اور سفرِ حجاز کی سعادت حاصل کر کے اپنے تاثرات کا غیر مصنوعی طور پر من و عن اظہار کیا ہے.
مصنف کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی لائقِ ستائش ہے کہ وہ کسی قسم کی ادبی گروہ بندی اور تنظیمات کے سہارے کے بغیر صرف اپنے منفرد اندازِ تحریر اور سچے جذبوں کے ساتھ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں. اگر مصنف کی کتب کے حوالہ سے بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ مطالعہ کتب کی عادت نے مصنف کو نہ صرف لکھنے کی ہمت فراہم کی بلکہ اپنے تجربات، افکار اور یادداشت کو ترتیب سے جمع کرکے سہولت سے مرتب کر کے پیش کرنے میں معاونت فراہم کی.
کاشف صدیقی کا شمار انہی خوش نصیبوں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک مذہبی فریضہ، عشق کی پوری نزاکت اور لطافت کے ساتھ ادا کیا اور یوں ان کے جذبہء عقیدت کی ایک ایک تفصیل اپنی ساری جزیات کے ساتھ تحریر میں در آئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں