مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول، ”پیار کا پہلا شہر‘‘ – محمد عمران اسحاق

آج بہت دنوں کے بعد ایک بہترین، دل فریب اور پرکشش کتابوں میں سے ایک ناول جو سفر نامہ کی طرز پر لکھا گیا ہے اپنے اختتام کو پہنچا۔ کب اس کے صفحات مکمل ہوئے اور کہانی ختم ہوئی، خبر ہی نہ ہوئی. کچھ دن پہلے مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول ”پیار کا پہلا شہر‘‘ پڑھنے بیٹھا تھا تو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب کتاب شروع کی اور کب ختم ہوئی. کتاب ایسی کہ چار، پانچ دنوں میں مکمل پڑھ لی۔
مستنصر حسین تارڑ صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں. 80 سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں. جن میں زیادہ تر کتابیں سفر ناموں، ناول، افسانوں اور ڈراموں پر مشتمل ہیں. میرا مستنصر حسین تارڑ صاحب سے بطور قاری تعارف اسی ناول کے ذریعے ہوا. اس سے قبل میں نے ان کا صرف نام سنا تھا، ان کا لکھا پڑھا نہیں تھا۔
اس ناول میں تارڑ‌صاحب نے جو خوب صورت اسلوب اپنایا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ خود پیرس کا ”مسافر‘‘ ہے اور آپ کے ساتھ وہاں کی سیر میں مگن ہے۔ یہ کتاب ماسکو یونیورسٹی روس کے شعبہ اُردو کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب کے شروع میں اس یونیورسٹی کی پروفیسر گالینا ڈشنکو کا بیان درج ہے:
”جس دن اس کتاب کا پریڈ ہوتا ہے اس دن کوئی طالب علم بیماری، کسی رشتہ دار کی آمد، یا دوست کی شادی کا بہانہ کرکے غیر حاضر نہیں ہوتا اور اگلے دن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سارے روس میں کوئی وبا پھیل گئی ہو، یا سب طالب علم شادیاں کرنے والے ہیں۔‘‘
”پیار کا پہلا شہر‘‘ ایک ایسا ناول ہے جس کا ایک ایک لفظ قاری کو اپنی گرفت میں لے کر محبت، احساس، دلجوئی کا درس دیتا ہے اور پھر دنیا بھر میں، خاص طور پر پیرس میں گھومنے کی دعوت دیتا ہے۔ ناول کے بنیادی کردار ”پاسکل‘‘ (ہیروئین)، ”سنان‘‘ ( ہیرو) اور آخر میں دونوں کی جدائی ہے، ان کے علاوہ ”جینی‘‘ جو حالات کی ستم ظریفی سے مجبور ہوکر طوائف کے پیشے سے منسلک ہے اور سنان کی شرافت و کردار سے متاثر اس گندے دھندے سے جان چھڑا لیتی ہے اور پیرس سے باہر دوسرے ملک میں معلمہ کا مقدس پیش اختیار کرلیتی ہے۔
”پاسکل‘‘ جو ایک کار ایکسیڈنٹ میں معذور ہوچکی ہوتی ہے اور چال میں لنگڑا پن آجاتا ہے. اس لنگڑے پن کی وجہ سے وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اپنے گھر کے کمرے میں ہی بند رہنے کی عادی ہوچکی ہے۔ ”سنان‘‘ ایک پاکستانی ہے جو سیرو سیاحت کا ذوق رکھتا ہے اور یورپ کے سفر پر نکلا ہوا ہوتا ہے. دونوں کی ملاقات سٹیمر میں ہوتی ہے، جو لندن سے پیرس جارہا ہوتا ہے. وہیں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے. ملاقات آگے چل کر محبت میں بدل جاتی ہے اور یہ محبت پاسکل کو زندگی جینے کا ایک نیا ہنر فراہم کرتی ہے جس کی بدولت وہ اپنی احساسِ کمتری کو بھلا کر جینا سیکھتی ہے اور آخر میں سنان کی مجبوریوں کی بدولت، دونوں میں قائم ہونے والی یہ محبت ”جدائی‘‘ سے داغ دار ہو جاتی ہے.
درحقیقت ناول میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کوئی بھی ذی روح انسان جسمانی طور پر معذور نہیں ہوتا بلکہ ہمارے رویے، بے جا ہمدردی، لمحہ بہ لمحہ رحم، افسوس کسی دوسرے شخص کو معذور بنا دیتا ہے… جو آگے جا کر اسے مایوسی تک پہنچا دیتا ہے.
مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں:
”بدصورت لوگوں کو بھی محبت جیسے جذبے کی چاہت ہوتی ہے مگر ان کا دل اس بات کو نہیں مانتا.‘‘
مصنف نے ناول میں اور بھی بہت سے پیغام دینے کی کوشش کی ہے، جیسے اپاہج پن صرف جسم کا نہیں ہوتا۔ محبت ہر کسی کا حق ہے۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اس نے پیرس میں گندے اور غلیظ گھروں کا بھی ذکر کیا ہے، غربت اور افلاس کا بھی.
اس کے علاوہ تارڑ صاحب نے فرانس کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیتا ہے کہ قاری کو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اس نے کبھی پیرس نہیں دیکھا. فرانس کے خوب صورت گھر، قہوہ خانے، شاپنگ سنٹر، ایفل ٹاور، دریائے سین، شانزے لیزے، شراب خانے، نپولین کا مقبرہ، پھولوں کا بازار، دریائے سین کے پل، فرانس کے مصّور، عجائب گھر میں پڑی مونالیزا کی پینٹنگ… پڑھنے والے کو لگتا ہے وہ بڑے بڑے پتھروں سے بنی ہوئی پیرس کی صاف شفاف گلیوں میں خود بھی گھوم رہا ہے.
انتہائی دلچسپ اور خوب صورت انداز میں مصنف نے ہمیں معاشرے میں رہنے والے معذور افراد کے ساتھ اپنائے جانے والے رویے کو سمجھنے کے لیے ایک عظیم نصیحت کی ہے۔ ”پیار کا پہلا شہر‘‘ اگر چہ ناول ہے لیکن اس کو سفرنامہ کے انداز میں لکھا گیا ہے. وہ افراد جو بیک وقت ناول اور سفرنامہ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس خوب صورت کتاب سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں