بریگیڈیئر عبدالرحمٰن تارڑ کی بین الاقوامی سیاست اور چین فہمی کا احاطہ کرتی تصنیف ”چینامی‘‘ – محمد اکبر خان اکبر

جو کچھ بھی ہم دیکھتے ہیں اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں، حقیقت یا فریب. ضروری نہیں کہ ہر وہ چیز جو ہمیں دکھائی دے، اس کی اصلیت بھی وہی ہو جیسے کہ دکھائی دیتی ہے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ہمارے سامنے چیزیں پیش کی جاتی ہیں، وہ بعینہ اسی طرح ہوں. چین کو ایک عالمی عفریت کی صورت میں ہمیں دکھایا جاتا ہے، اس کی کی حیقیت و ماہیت ہے، ان سوالوں کا جواب آپ کو ”چینامی‘‘ میں مل سکتا ہے.
چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں نہایت تیزی سے ترقی کی ہے. کچھ عالمی طاقتیں چین کی اس تیز رفتار ترقی سے خائف ہو کر اپنے ذرائع ابلاغ سے ایسی تصویر ہمارے سامنے رکھتی ہیں کہ ہم شش و پنج میں مبتلا ہو جاتے ہیں. بریگیڈیر عبدالرحمٰن تارڑ نے اپنے وسیع تجربات، علم و دانش اور تحقیق کو بروئے کار لا کر ایک ایسی کتاب تخلیق کی ہے جو چین کو سمجھنے کے لیے بہت ہی کارآمد ہے. انھوں نے اس نہایت اہم موضوع پر نہ صرف قلم اٹھایا ہے بلکہ اپنی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کارلا کر اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے.
مصنف نے قدیم چین کی تاریخ سے اس کتاب کا آغاز کیا ہے. اس کے بعد چین کے خلاف بُنے جانے والے شازشوں کے جال سے اپنے قارئین کو روشناس کروایا ہے. ایک تو ہمارے ہاں چین کے بارے کوئی مصدقہ تحقیقی مواد موجود نہیں اور اگر کچھ ہے بھی تو وہ زبان فرنگ میں ہے. محترم عبدالرحمٰن تارڑ نے قومی زبان میں ”چینامی‘‘ لکھ کر اُردو کو اس کا وہ جائز مقام دینے کے کوشش کی ہے جس کا ذکر قائداعظم کے فرامین میں ملتا ہے. وہ اردو کے انتخاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”چینامی کے لیے اُردو کے انتخاب کی ایک وجہ بالکل ذاتی نوعیت کی ہے. مجھے اکثر یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ پاکستانی 22 کروڑ سے زیادہ کی ایک بہت بڑی اور آزاد قوم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اُردو بولنے اور لکھنے پر فخر کرنے کے بجائے شرمندہ ہوتے ہیں. یہ بھی سچ ہے کہ آزادی کے وقت سے ایک ہی طبقے سے تعلق رکھنے والی، پاکستان پر راج کرتی اشرافیہ، انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں کہی اور لکھی ہوئی کسی بات کو بھی معتبر نہیں سمجھتی. یہ چھوٹی سی لیکن بہت باثر اقلیت دوسرے بہت سے معاملات کے علاوہ قومی زبان کی اہمیت سے متعلق بھی اپنے نقطہ نظر نہ صرف اکثریت پر مسلط کرنے میں کامیاب ہے بلکہ اس سے کسی صورت دستبردار ہونے کو بھی تیار نہیں. ان کی ہٹ دھرمی اور بے پناہ اثر و رسوخ کی کئی وجوہات ہیں جس میں معاشرے کی تقسیم، قومی زبان کی سرکاری سرپرستی کا نہ ہونا، اُردو بولنے اور لکھنے والوں کا اپنے آپ کو کمتر اور بے بس سمجھنا، لیکن ان سب سے اہم اور بڑی وجہ ان کا اردو کے نفاذ کے متعدد عدالتی فیصلوں کے باوجود بھی اس کے اطلاق میں کسی پیشرفت کا نہ ہونے دینا ہے تاکہ ان کی تھانیداری قائم رہے.‘‘
جناب عبدالرحمٰن تارڑ نے اردو زبان میں کتاب لکھ کر اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ قومی زبان کو ذریعہ اظہار بنا کر اعلٰی تحقیقی فن پارہ تخلیق کرنا مشکل ہے. ان کی اس کتاب کا ایک اہم باب پاکستان اور چین کے بارے میں ہے، جس میں انھوں نے پاکستان اور چین کی مثالی اور دیرپا دوستی اور چین پاکستان معاشی راہداری (سی پیک) کے بارے میں تحقیقی نکتہ نظر بیان کیا ہے. وہ بجا طور پر لکھتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی گریٹ گیم کا مقصد چین کو عالمی طاقت بننے سے روکنا ہے جس کی کامیابی کے لیے وطن عزیز پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور اسے بدامنی، سیاسی اور معاشی عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کی ہر ایک کوشش کی جا رہی ہے.
افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کی گواہی دیتے دکھائی دیتے ہیں. مصنف کا طرزِ تحریر سادہ اور پر اثر ہے. انھوں نے اپنی کتاب میں مفروضات کے بجائے حقائق اور دلائل پر توجہ دی ہے جس سے کتاب کی اثر پذیری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے. اس کتاب میں تجزیاتی اور تحقیقی انداز ملتا ہے. متعلقہ موضوع کی مناسبت سے بہت ضروری تھا کہ اسی اسلوب کی پابندی کی جائے. سوالات کی آماجگاہ انسانی ذہن ہے میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ کتاب چین کے بارے میں تمام سوالات کے جوابات فراہم کرتی ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چین کے متعلق پیدا ہونے والے کئی سوالات کا شافی جواب اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہو جاتا ہے.
بریگیڈیئرعبدالرحمٰن تارڑ کی اس کتاب میں شامل نقشہ جات اور تصاویر سے کتاب کی اہمیت اور قدر و قیمت کافی بڑھ گئی ہے. بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی سیاست سے متعلقہ افراد کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے.

اپنا تبصرہ بھیجیں