معروف ادیب اختر رضا سلیمی کا ناول ”جندر‘‘ – محمد عمران اسحاق

اختر رضا سلیمی صاحب سے میرا تعارف اِسی شان دار ناول ”جندر‘‘ سے ہوا. کیا خوب‌ صورت ناول تحریر کیا ہے جو معدوم ہوتی تہذیب و ثقافت اور جدید دور میں داخل ہونے والی نسل کی لاپروائی کو درد بھرے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ یہ ناول اُسی ایک ختم ہوتی تہذیب کا نوحہ ہے۔ کوئی بھی نئی تہذیب سب سے پہلے حملہ اُن پہ کرتی ہے جو پیشہ ور ہوتے ہیں۔ یہاں ولی خان (جندروئی) جس نے اپنی سانسیں جندر کی سریلی آواز سے وابستہ کر رکھی تھی۔ جندر کی آواز اس کے لیے ایک دوا کا کام کرتی ہے جو اس کی روح کو سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے دھیرے دھیرے نیند کے آغوش میں لپیٹ دیتی ہے.
”جندر‘‘ بہتے ہوئے پانی سے چلنے والی ایک ایسی چَکّی ہے جو پہلے زمانے میں گندم اور مکئی کو پیسنے کے لیے استعمال ہوتی تھی، جو اب پہاڑی علاقوں میں چشموں اور ندیوں کے کناروں پر شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ یہ ناول جندر کی ختم ہوئی تہذیب کا عکاس ہے۔ اس میں جندر کا مالک جندروئی بسترِ مرگ پر ہے اور اِس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ اُس کے مرنے کے بعد اس کی چکی پر آنے والا پہلا شخص کون ہو گا جو اس کے مرنے کی اطلاع اس کے بیٹے اور گاؤں والوں کو دے گا۔
”ولی خان‘‘ جو اُس جندر کا مالک ہے، یہ چکی اُسے اُس کے آباؤ اجداد سے وراثت ملی اور اس کا بیٹا شہر میں بڑا آفیسر ہونے کی وجہ سے اس وراثت کو باعثِ شرم سمجھتا ہے اور اپنے والد کو یہ پیشہ چھوڑنے کا بارہا کہتا ہے مگر ولی خان جندر کی محبت میں مگن ہے اور اس سے علیحدگی کو موت تصور کرتا ہے۔
اختر رضا سلیمی کے اِس ناول میں یہ کہانی بھی بیان کی گئی ہے کہ ولی خان کے دادا کے دادا اور اُس کے چھوٹے بھائی نے کیسے بہادری اور شجاعت سے علاقے کے راجہ سے شرط جیت کر اِس جندر کو تعمیر کیا تھا۔ آپ یہ کہانی پڑھتے ہوئے لازماً محظوظ ہوں گے۔
ولی خان ایک ایسا شخص ہے، جو ساری زندگی جندر کے پتھریلے پاٹوں کے آپس میں ملنے سے پیدا ہونے والی خمار بھری سریلی گونج (کُوک) سننے کا عادی رہا ہے۔ اس سریلی گونج کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ ”ایک ایسا شخص جس نے زندگی بھر کبھی کوئل کی کوک نہ سنی ہو، صرف اس کے بارے میں کتابوں میں پڑھا ہو، کبھی نہیں جان سکتا کہ اس کی ماہیت کیا ہے۔‘‘
جندروئی کو صرف اُس وقت نیند آتی جب جندر کے چلنے کی سریلی گونج (کوک) اُسے سنائی دیتی۔ جب چکی کے پاٹ میں سے دانے ختم ہو جاتے تو ایک سریلی کوک ایک ہولناک ہوک میں تبدیل ہو جاتی جو اسے بے چین کر دیتی اور وہ گہری نیند سے جاگ کر دوبارہ اس میں دانے انڈیلتا تاکہ چکی کی کوک جاری رہے اور وہ سکون سے نیند پوری کرے۔ جندر کی سریلی آواز اُس کی مجبوری بن چکی تھی، جس کو سنے بغیر وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ جندر کی اسی کُوک کی محبت کی وجہ سے ولی خان سے اِس کے خونی رشتے بھی (بیٹا اور بیوی) محض اِسی لیے علیحدہ ہو گئے.
نئی دریافتیں جہاں انسان کے لیے آسانیاں فراہم کرتی ہیں اور اسے بے جا کی مشقت اور محنت سے بچاتی ہیں وہیں انتہائی خاموشی سے انسانی معاشرے کی بہت سی خوب صورت اور محبت سے بھرپور روایتیں بھی ختم کررہی ہیں۔ اب جب کہ دیہاتوں میں بیلوں کی جگہ ٹریکٹر نے اور جندر کی جگہ بجلی سے چلنے والی چکی نے لے لی ہے اور اس کے ساتھ ہی گاؤں کی متنوع ثقافت کو مٹا کر رکھ دیا ہے. ایک وقت ایسا تھا کہ گاؤں کا مولوی شاید آپ سے نماز کے بارے تو نہ پوچھے لیکن گاؤں اور گاؤں والوں کے اجتماعی کاموں میں عدم شرکت اس کے نزدیک کفر جیسا گناہ ہوتا۔
بجلی کی چکی کے آنے سے ولی خان جو پہلے ہی گاؤں بہت کم جاتا تھا اور گاؤں سے دور ندی کنارے جندر پر ہی رہتا تھا، اب مکمل طور پر گاؤں سے کٹ چکا تھا۔ اس کی موت کے وقت جندر اپنی آخری چونگ پیس چکی تھی۔ پینتالیس دن ہوئے جندر کو کچھ پیسے ہوئے… تو ولی کو یقین ہوگیا کہ اب اس کا بھی اس دینا سے روانگی کا وقت قریب آگیا ہے۔
ناول سے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

”مجھے یقین ہے کہ جب پو پھٹے گی اور روشنی کی کرنیں دروازے کی درزوں سے اندر جھانکیں گی تو پانی سر سے گزر چکا ہوگا اور میری سانسوں کا زیرو بم، جو اس وقت جندر کی کوک اور ندی کے شور سے مل کے ایک کرب آمیز سماں باندھ رہا ہے، کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو چکا ہوگا اور پیچھے صرف بہتے پانی کا شور اور جندر کی اداس کوک ہی رہ جائے گی؛ جو اس وقت تک سنائی دیتی رہے گی جب تک جندر کے پچھواڑے موجود، معدوم ہوتے راستے پر سے گزرتے ہوئے، کسی شخص کو اچانک میرا خیال نہ آجائے اور وہ یوں ہی بغیر کسی پیشگی منصوبے کے، محض میرا اتا پتا کرنے جندر کے صحن کو اس اجاڑ راستے سے ملانے والے، سات قدمی زینے پر سے اترتا ہوا جندر کے دروازے تک نہ آجائے۔‘‘

”میں نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ موت آتی ہے تو انسان مر جاتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں موت کہیں باہر سے وارد نہیں ہوتی. وہ زندگی کی سرشت میں شامل ہوتی ہے۔ جوں ہی کسی وجود میں زندگی ترتیب پاتی ہے، موت بھی اس میں پناہ حاصل کرلیتی ہے اور زندگی کو اس کے وجود سے باہر دھکیلنے کا عمل شروع کردیتی ہے۔ جس وجود کی زندگی جتنی طاقت ور ہوتی ہے وہ اتنے ہی طویل عرصے تک وہاں قدم جمائے رکھتی ہے مگر کب تک؟ آخری فتح تو موت ہی کی ہوتی ہے۔ یہ میری موت، جو، اب میری زندگی پر فتح پانے والی ہے، اس نے کوششوں کا آغاز اسی وقت کردیا تھا جب میں نے پہلا سانس لیا تھا۔ یوں میرا پہلا سانس اپنی موت کی طرف میرا پہلا قدم بھی تھا۔ شاید میری موت کو ابھی پندرہ بیس سال مزید تگ و دو کرنا پڑتی لیکن میرے بیٹے نے نہ صرف اس کا کام آسان کردیا بلکہ ایک تہذیب کے انہدام میں بھی اپنا حصہ ڈال دیا۔‘‘

”زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے؛ سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا۔میں نے موت کے سیاہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا۔‘‘

”زندگی کے بارے میں میرا زیادہ تر علم کتابی ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی میں میں ایک ناکام آدمی رہا.‘‘

”آخر مرنے والے کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا، زندگی گزارنے کے کیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے.‘‘

بطور قاری جب میں نے ”جندر‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو اِسے مکمل کیے بغیر نہ رہ سکا. یہ ناول شروع سے ہی ذہن پر ایسا طاری ہوا کہ چاہ کر بھی اس سے نظریں نہ ہٹا سکا اور تین چار روز میں اس کتاب کا آخری صفحہ بھی پڑھ ڈالا۔ بلاشبہ اس ناول کو پڑھ کر زمانے کی گردشوں میں غرق ہوتی تہذیب کو جاننے کا موقع ملا۔
ہری پور سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب اختر رضا سلیمی کا یہ ناول ”جندر‘‘ 2017ء میں پہلی بار شائع ہوا اور اسے یو بی ایل ایوارڈ (فکشن) سے بھی نوازا گیا بعد ازاں تُرک حکومت نے اس ناول کو اپنے نصاب میں شامل کرلیا جو کہ ایک اعزاز کی بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں