”مسافرانِ شوق“ کی کہانی – ذیشان رشید

سیاحت، ثقافت، فوٹوگرافی اور تاریخ و ادب کے فروغ اور ترویج کے لیے قائم گروپ ”مسافرانِ شوق“ کے پانچ سال مکمل ہو گئے. آج کے دن کی مناسبت سے بقیہ تمام احباب کے ساتھ ساتھ میں کچھ دوستوں کا خصوصی تذکرہ کرنا چاہوں گا، جن کی موجودگی گروپ کے پھلنے پھولنے اور یہاں تک آنے کا سبب بنی۔

سب سے پہلا نام مکرمی و محترمی جناب حافظ شہزاد اسلم کا ہے۔ میرے الفاظ سکڑ جاتے ہیں جب شہزاد بھائی کا ذکر آتا ہے۔ میں کیا کہوں ان کے بارے میں؟ شہزاد بھائی ایک کائنات ہیں۔ اتنا علم، اتنی گہری نظر، اتنا اخلاص، اتنی توجہ، اتنا وقت کوئی کسی کو کیسے دے سکتا ہے جیسے شہزاد بھائی نے ہمارے لیے کیا اور دیا۔ شہزاد بھائی سچ مچ ایک زندہ پیر ہیں۔ زندوں میں زندہ۔ اس گروپ کی ترویج و ترقی میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

عمران احسان وہ نام جو میرادیرینہ ہمدم، ہمراز، غمگسار و ہمنشیں۔۔۔سفر سکردو سے شروع ہونے والے یہ ساتھ تادم تحریر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے۔ عمران بھائی ایک مرنجاں مرنج شخصیت ہیں۔ ہم نے بہت سے اسفار اکٹھے کیے اور بہت سا اتار چڑھاؤ بھی اکٹحے دیکھا لیکن آج تک کبھی میں نے ان کے ماتھے پہ شکن نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی طرح کی ناگواری۔ اس گروپ میں جتنا بھرپور حصہ عمران بھائی کا ہے، شاید کم ہی کسی اور دوست کا ہو گا سو آج کے دن کی مناسبت سے دل کی اتھاہ گہرایئوں سے عمران بھائی کا شکریہ۔

شعیب رضا ویر جی ایک ایسا نام جو سیاحت اور فوٹو گرافی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اتنا کام ہم نے دیکھا نہیں ہو گا جتنا انھوں نے کر چھوڑا ہے۔ اس گروپ کے ڈسپلن کو قائم و دائم رکھنے میں شعیب بھائی کی شبانہ روز محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایک بار کرنل عبدالجبار بھٹی صاحب نے گروپ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ کے گروپ کی کامیابی کی بڑی وجہ گروپ کے منشور کے مطابق ساری پوسٹس کا آنا ہے تو میں نے عرض کیا تھا کہ اس کا سب سے بڑا سبب ویر جی ہیں۔ ان کی بروقت کاروائیاں وقتی طور پہ شاید کچھ دوستوں کو بری بھی لگتی ہوں لیکن وہ اگر ڈسپلن کا چابک نہ لہرائیں تو ہم سب ماسٹر دانی کے پھینکے ہوئے دانے چگنے میں لگ جائیں اور گروپ کہاں سے کہاں نکل جائے۔

بھائی واجد ڈہرکی والا سے میری ملاقات ان کی رعل ٹاپ کی ایک تصویر کے ذریعے ہوئی۔ واجد بھائی ایک ایسے ہمہ جہتی فنکار ہیں جن کے فن کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ واجد بھائی اتنی گہری باتیں کرتے ہیں کہ جواب دینے کے بعد بھی بندہ کنفیوز رہتا ہے کہ انھوں نے پوچھا کیا تھا اور میں نے بتایا کیا ہے۔ واجد بھائی سے میں نے زندگی کی فوٹو گرافی کرنی سیکھی۔ واجد بھائی سے میں نے اپنے اردگرد دیکھنا سیکھا۔ ان کی گروپ میں شمولیت میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

~ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری اتنی کم عمری میں سیاحت کے میدان میں تقریبا ہر سنگ میل عبور کرنے والے سیاح بن چکے ہیں۔ نہایت پر اثر تحریر کار ہیں اور بہت کم وقت میں بہت شاندار تحاریر اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس گروپ میں ڈاکٹر صاحب کی شمولیت اور اس کو پروان چڑھانے میں ڈاکٹر صاحب کی کاوشیں نہایت قابل تعریف ہیں۔

عدنان اقبال، ایک باغ و بہار شخصیت کہ جن کے چہرے پہ ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے۔ جو کبھی اپنی شاعری، کبھی بذلہ سنجی اور کبھی اپنی خوبصورت خفیہ فوٹو گرافی سے ہم سب کا دل موہتے رہتے ہیں۔ بہت عمدہ کام کرتے ہیں بھابھی کے ظلم و ستم کا شکار ہونے کے باوجود گروپ میں اپنی حاضری یقینی بنائے رکھتے ہیں۔

بھائی تنویر ملک یوں تو عمران بھائی کے یار غار ہیں لیکن فوٹو گرافی کی دنیا میں اپنے منفرد زاویوں اور کم روشنی میں فوٹو گرافی کرنے کے حوالے سے خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ تنویر بھائی کی حالیہ دورہ مری کی تصاویر بھی سیکوئنس فوٹوگرافی کی عمدہ مثال ہیں۔ گروپ میں ان کی شمولیت ایک نعمت ہے۔

شجاعت علی بھائی نے پاکستان کے تاریخی ہیریٹیج کو جتنے اچھے انداز میں کور کیا ہے، اس بہت کم مظاہرہ کہیں اور دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسافران شوق میں شجاعت بھائی کا گراں قدر کام یقینا قابل تعریف ہے۔

بھائی عابد رانا ایک منجھے ہوئے بائیکر اور بہت پرجوش سیاح ہیں۔ سیاحت اور فوٹو گرافی کا بہت عمدہ ذوق رکھتے ہیں اور ہمیشہ بھرپور تفریحی اقدامات کو فروغ دیتے ہیں۔ عابد بھائی کی مشاورت بھی اس گروپ کی ترقی و ترویج میں نمایان رہی ہے۔

بھائی علی حسین بخاری یاروں کے یار مہربان قدردان دوست ہیں۔ گروپ کے حوالے سے میں ان کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اپنی خوبصورت پوسٹس سے گروپ کا ماحول بنائے رکھتے ہیں۔

احسان بلوچ، ڈاکٹر کاشف علی، ڈاکٹر شاہد اقبال، انعام کبیر، ثاقب بٹ، سلمان قمر، تاثیر ترین، میدان سیاحت کے درخشندہ ستارے ہیں لیکن گروپ میں ان کی مزید شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوان گروپ ممبرز میں سے سلمان ملک صاحب، فرحان راجہ صاحب، ارباب کیانی صاحب بہت ہی پر اثر پوسٹس کرنے والے ممبرز ہیں۔ طلحہ ظفر صاحب کچھ عرصے سے غائب ہیں لیکن ان کا کام بھی نہایت شاندار رہا ہے۔ ان احباب کے علاوہ بھی باقی سب دوستوں کا کام قابل تعریف ہے۔ آج کے دن کی مناسبت سے سب کا بے حد شکریہ
گروپ ”مسافرانِ شوق“ کی تخلیق کے پانچ سال مکمل ہونے پر تمام ممبران کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ گروہ واقعی ایک کہکشاں کی طرح ہے، جس میں ہر ستارہ اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ یہاں ہر شخص ایک دوسرے سے سیکھتا ہے، ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے، اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ میں اس گروپ کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ یہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے اور بہت سے اچھے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ گروپ ہمیشہ ترقی کرتا رہے اور اس کی روشنی پوری دنیا میں پھیلتی رہے، آمین۔

معزز گروپ ممبران گروپ کے نام پیغام:
میں آپ سب کو اس گروپ کو سرگرم رکھنے کے لیے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ گروپ واقعی ایک ایسی کہکشاں ہے جس میں ہر شخص اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ آپ سب کی کاوشوں اور محنت کی بدولت یہ گروپ آج پانچ سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ یہ آپ کی کامیابی ہے، اور اس پر آپ کو بہت مبارک باد۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ سب ہمیشہ کامیاب رہیں اور آپ کی یہ کاوشیں جاری رہیں، آمین۔
تمام مسافرانِ شوق کو ایک بار پھر سالگرہ مبارک ہو!

”مسافرانِ شوق“ کی کہانی – ذیشان رشید” ایک تبصرہ

  1. ایک بہترین اور منظم گروپ کیلئے بہت دعائیں اور مبارکباد ۔۔۔یونہی پھلتے پھولتے رہیں اور دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھاتے رہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں