”چراغ تلے روشنی“، معروف ادیب و صحافی ظہیر احمد سلہری کی اثر انگیز تحریریں – محمد اکبر خان اکبر

ظہیر احمد سلہری ایک نوجوان تخلیق کار ہیں. ان کی اعلٰی تحریروں پر مبنی کتاب ”چراغ تلے روشنی“ ایک ایسی کتاب ہے کہ مطالعے کا شوقین قاری اس کی قوس قزح میں کھو جاتا ہے. یہ کتاب 56 مختلف تحاریر کا مجموعہ ہے. مصنف نے ایک ماہر صحافی کی طرح مختلف النوع موضوعات پر اپنے منفرد انداز میں اظہارِ خیال کیا ہے. ان کا اسلوبِ تحریر سادہ اور پروقار ہے. وہ لگی لپٹی کہنے کے بجائے سیدھے سادے انداز میں اپنا نکتہ نظر واضح کرتے چلے جاتے ہیں. ان کے قلم میں روانی اور جولانی اپنے جوبن پر دکھائی دیتی ہے. وہ ہمارے معاشرتی و ثقافتی رنگوں کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ توہمات اور ضعیف الاعتقادی کی بھی ہلکے پھلکے انداز میں نشاندہی کرتے چلے جاتے ہیں. ان کی تمام تر تحریریں اس بات کا مصدقہ ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ان کا مشاہدہ گہرا، اظہاریہ جاندار جب کہ حافظہ شاندار ہے. اس کے ساتھ ساتھ ان کی منکسرالمزاجی جگہ جگہ واضح طور پر محسوس ہوتی ہے حالاں کہ کہ وہ ان معدودے چند نوجوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت کم عمری میں بڑے بڑے معرکے سر کیے ہیں اور عظیم کامیابیاں سمیٹ کر اپنے والدین کا نام روشن کیا ہے مگر وہ خود اپنے بارے میں کیا لکھتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں:
”لفظ میرے ہمزاد ہیں، ایسا ہمزاد جس کی زیارت کی انوکھی تمنا برسوں سے پنپ رہی ہے. جو کبھی بچے کے روپ میں تو کبھی مسیحا بن کر عمر بھر مجھ سے ملتا رہا، خوشی میں خوش اور دکھ میں جس کی سانجھ تھی، اپنے ہمزاد کو بوڑھا ہونے سے پہلے میں ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا، تصور کے بند کواڑ کھولے. انگلی پکڑ کر چلنے سے زمانے کی ریس میں دوڑنے تک ساری باتیں اکٹھی کیں، بہت منتر پھونکے، بڑے جتن کیے، مگر اس پراسرار ساتھی کو متشکل نہ کر سکا. یہ عجوبہ ہی تو ہے کہ کیسے بے جان لکیریں الفاظ کی صورت انسان کی زندگی کے ہر پل کو سمت دیتی ہیں. الفاظ کے خمیر سے میں کوئی انسان نما تخلیق کرنا چاہتا تھا تا کہ اس کا شکریہ ادا کروں. عمر بھر تنہائی بانٹنے والے اس پارٹنر کا ماتھا چوم سکوں، خدا کا ناب نائب ہونے کے زعم میں “کن” کہہ بیٹھا. مجھ سے محض ایک کتاب تخلیق ہو سکی، کاغذ پر بکھرے یہ الفاظ سانس لیتے ہیں ان کے اندر زمانے قرینے سے رکھے ہیں، ان کو غور سے دیکھیں تو یہ مسکرا دیتے ہیں. ان کو سینے سے لگائیں تو یہ نم ہو سکتے ہیں. یہ کوئی کتاب نہیں، یہ میرے ہمزاد کی ممکنہ شبیہ ہے.“
ظہیر احمد سلہری اپنے منفرد مزاحیہ انداز میں معاشرتی توہمات اور خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں. ”دیہات میں فیوچر پلاننگ کا ارتقاء“ تعلیم کی اہمیت سے بیگانگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے بجائے ہمارے الل ٹپ رویوں کی عکاسی کرتا ہے. ”اللہ کے خود ساختہ سفیروں سے ملاقاتیں“ اذہان کے بند دریچے کھولنے والی تحریر ہے. اس تحریر میں انھوں نے توحید مطلق کو نہاتے ہی سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کر دیا ہے، لکھتے ہیں: ”محلے میں مسجد کے ساتھ دفن بزرگ کے عرس کے لیے چندہ جمع کیا، اس کو ہم مقدس رقم سمجھتے تھے مگر جب منتظم نے بابے کے عرس کے پیسوں میں سے سگریٹ کا پیکٹ منگوایا تو سارا طلسم ٹوٹ گیا… خیال آیا کہ جو بزرگ اپنے چندے کی حفاظت نہیں کر سکا اس نے لوگوں کا کیا بھلا کرنا ہے.“ ہم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں سے حاجات طلب کرنا وتیرہ بنا لیا ہے جب کہ ثابت بنانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی ضرورت اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ نمک اور اپنے جوتے کا ٹوٹا ہوا تسمہ بھی اسی سے طلب کرے.“
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ روایت قطن کی مذکورہ روایت سے جسے وہ جعفر بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے (یعنی: اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے.) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3604M]
افسوس ناک امر یہ کہ موجودہ دور میں نبی کریمﷺ کا فرمان عالی شان کا ذکر کرنا بھی اعتراض کا موجب ہوتا ہے اور لوگ خود ساختہ تاویلات پیش کرکے اپنے غلط طرزِ عمل کو درست قرار دینے کی سعی لاحاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں. ان کے مضامین ”بد اخلاق معاشرے کی تشکیل“ اور ”دقیانوسیوں کے حقوق“ پڑھ کر مصنف کی حسِ مزاح اور فنِ مزاح نویسی کا قائل ہونا پڑتا ہے. ان کی تحریر میں طنز کی کاٹ بھی جان دار ہے. ظہیر احمد سلہری کی اس کتاب کا ہر مضمون پڑھنے کے لائق ہے. مصنف نے اپنے منفرد انداز میں اپنی دلچسپ یادوں کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی بھی نشاندہی فرمائی ہے. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتاب میں شامل ان کی تحریریں مختلف اخبارات میں شایع ہوچکی ہیں. بہتر ہوتا اگر وہ ہر تحریر کے آخر میں مقام و تاریخ اشاعت لکھ دیتے. ظہیر احمد سلہری کی ہر تحریر جاندار اور اسلوب تحریر خاصا شاندار ہے، ان کی مزید اثر انگیز تحاریر کا ہر قاری یقیناً منتظر رہے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں