ممتاز صحافی اور ادیب رؤف کلاسرا کی دلچسپ کتاب، ”جونا گڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی“ – اسد اللہ

رؤف کلاسرا ایک پاکستانی صحافی، کالم نگار اور ادیب ہیں۔ وہ اخبار اور ٹیلی وژن، دونوں کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں۔ رؤف کلاسرا کا تعلق ضلع لیہ سے ہے۔ کلاسرا کا لفظ ان کے گاؤں جیسل کلاسرا سے آیا ہے۔ انہوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان اور گولڈ سمتھ یونیورسٹی آف لندن سے انگریزی ادب میں گریجویشن مکمل کی. اس کتاب سے قبل کلاسرا صاحب ”تاریک راہوں کے مسافر“، ”سنہری آنکھوں والی لڑکی“، ”گمنام گاؤں کا آخری مزار“، ”شاہ جمال کا مجاور“، ”ایک قتل جو نہ ہو سکا“، ”ایک سیاست کئی کہانیاں“ اور ”آخر کیوں“ کے عنوانات سے کتابیں تصنیف اور ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ”دی گاڈ فادر“ کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ وہ اکثر تمام مقامی ٹیلی وژن چینلز پر ایک سیاسی تجزیہ کار کے طور پر نظر آتے ہیں اور پیچیدہ مسائل پر جرات مندانہ، منفرد اور غیر مقبول موقف بیان کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ کلاسرا کئی بار اے پی این ایس کے بہترین رپورٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔
ادبی ذوق رکھنے والے اکثر قاری یہ سوال کرتے نظر آتے ہے کہ کون سی کتاب پڑھی جائے؟ نیا قاری جب کتابیں خریدنے جائے تو اس بات کو لے کر کشمش میں نظر آتا ہے کہ کون سی کتاب خریدی جائے؟ اس مسئلہ کا حل رؤف کلاسرا کی اس کتاب ”جونا گڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی“ میں موجود ہے۔ یہ کتاب مختلف کتابوں سے نکالی گئی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادبی ذوق رکھنے والے تمام قارئین یہ جاننے کے لیے بھی بے تاب نظر آتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ مصنف کی مطالعہ زندگی کا علم ہو کہ وہ کون کون سی کتابیں پڑھتے رہے؟ میرے جیسا شخص جو کسی کی بھی ذاتی لائبریری کی تصویر دیکھے تو اسے زوم کرکر کے کتابوں کے نام پڑھتا ہے، اس کے لیے یہ کتاب کسی خزانہ سے کم نہیں ہے۔ اس کتاب میں آپ کو رؤف کلاسرا کی مطالعہ زندگی ملے گی. رؤف کلاسرا صاحب نے اس کتاب میں بہت خوب صورت صورت انداز میں کہانیوں کو بیان کیا ہے کہ قاری ایسے محسوس کرتا ہے جیسے یہ واقعہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کتاب کی پہلی کہانی ”جونا گڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی“ کو پڑھ کر آپ مولوی عبدالحق اور قاضی محمد اختر کی جوڑی سے دل لگی ہو جائے گئی اور ان کو مزید جاننے کا تجسس بھی دل میں ابھرتا ہے. بالکل اسی طرح دوسری کہانی پڑھ کر آپ وزیراعظم نہرو اور جوش ملیح آبادی کی دوستی سے بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے آپ ایک پل کے لیے بھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ کتاب اپنے آپ میں اتنی کشش رکھتی ہے کہ اگر آپ اس کی کچھ کہانیاں پڑھ کر رکھ بھی دیں تو آپ کا خودبخود جی چاہے گا کہ کتاب دوبارہ اٹھا کر مکمل کی جائے.
اس کتاب کی زیادہ تر کہانیاں آپ کو برصغیر کے بادشاہوں کی ملیں گی اور اکثر تو ان کے زوال کے متعلق ہیں، جو مختلف انگریزی کتابوں سے لی گئی ہیں۔ اس کتاب میں نہ صرف آپ کو کتابوں کی باتیں ملیں گی بلکہ بہت سی دلچسپ فلموں اور نیٹ فلیکس کی سیریز کی بھی کہانیاں ملیں گی۔ ان فلموں کو کس انداز میں دیکھنا ہے اور رؤف کلاسرا صاحب نے کس انداز میں دیکھا مزید یہ کہ ان سے کیا سیکھا۔
میں ہر اس شخص کو یہ کتاب پڑھنے کو کہوں گا جو کتابوں سے محبت کرتا ہے یا جو کتابیں پڑھنے کا شوق دل میں رکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ کون سی کتاب سے شروع کروں۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی اسے کتاب بولوں یا خزانہ؟ بلاشبہ یہ کتاب پڑھنے کے بعد رؤف کلاسرا کی باقی تمام کتابیں پڑھنے کو جی مچل رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں