وادیِ شال میں یوں تو کئی سخنورانِ دانش اردو شاعری کا معتبر حوالہ ہیں ہر ایک اپنے مخصوص لب و لہجے اور خیال و فکر کا نمائندہ ہے. میری خوش قسمتی ہے کہ تقریباً ان سب سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہوتا رہا ہے البتہ ”شرفِ قمر‘‘ کی بات کچھ اور ہی ہے. سبب یہ ہے کامران قمر اور یہ ناچیز ایک ہی درس گاہ میں کئی برس تدریسِ اردو پر مامور رہے ہیں. ان کی شاعری قلب و نظر پر سحابِ بہار کی مانند اثر انداز ہوتی ہے، کلیاں چٹکنے لگتی ہیں اور پورا چمن مہکنے لگتا ہے. ان کا اولین مجموعہ کلام ”شرفِ قمر‘‘ شاعری اُس روایت کا امین ہے جس نے غزل کو محض حسن و عشق کے خارزاروں سے نکال کر زندگی کے بھرپور اور کثیر الجہت حقائق کا آئینہ بنا دیا ہے۔جدیدیت ان کی شاعری کا اہم ترین زاویہ ہے. اس مجموعے میں شامل غزلیات اِس بات کی شاہد ہیں کہ شاعر نے اپنے پہلے ہی اِجمال میں جہاں اپنی شعری بلوغت کے جوہر آشکار کر دیے ہیں وہیں عرفانِ ذات کئی منازل پہلی جست میں ہی طے کر لیں ہیں. میری نظر میں اُن کی غزل گوئی کی بنیادی خصوصیت غنائیت اور روانی کا عنصر ہے، جس نے اِن اشعار و غزلیات کو مشاعروں میں زبردست مقبولیت عطا کی ہے۔ یہی وہ جادو بیانی ،گل افشانی اور ترنم ہے جس پر اُن کے کلام کی دل آویز عمارت قائم ہے، اور جس کی وجہ سے سامعین کو ان کی شاعری کے سحر میں بارہا گرفتار دیکھا گیا ہے۔ کامران قمر کے ہاں ندرتِ خیال اور معنی آفرینی کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جو قاری کو بیک وقت جِدت اور فکری گہرائی سے روشناس کراتا ہے۔
محبتوں سے بھری کہکشاں کو چھوڑ دیا
کسی کے کہنے پہ بیٹے نے ماں کو چھوڑ دیا
غموں کی دھوپ میں جو سایہ بن کے سر پہ رہا
خوشی کی چھاؤں میں اس مہرباں کو چھوڑ دیا
وہ زندگی کے دیگر موضوعات کو بھی نئے اسلوب، نئے زاویوں اور نئی تمثیلات کے قالب میں ڈھالتے کا خوب ہنر رکھتے ہیں، جس سے ان کے شعری اظہار میں تازگی جنم لیتی ہے۔بطور نمونہ ان کی ایک غزل کا مطلع دیکھیں:
کس طرح سودا کروں دل کے قریں لگتی ہے
مجھ کو تو ماں کی طرح میری زمیں لگتی ہے
یہ اشعار محض سخندانی نہیں، بلکہ زندگی کے نئے مفاہیم کی دریافت ہیں۔ ان کے لہجے کی انفرادیت سننے والوں کے قلوب کو جادوئی اثرات سے آشنا کرتی چلی جاتی ہے. جدیدیت کا عنصر اُن کی شاعری میں رچا بسا ہے، مگر یہ جدیدیت روایت سے مکالمے کے بغیر نہیں ہے۔ وہ معاشرے کی عکاسی میں بھی ماہر ہیں، جہاں فرد کے ماحول، اُس کی داخلی کشمکش اور سماجی ناہمواریوں کے نقوش بڑی مہارت سے مرقوم ہیں۔ ذرا ان کا رنگ تغزل ملاحظہ فرمائیں:
ہم چلے جاتے ہیں خود شہر سے ہجرت کرکے
اس سے پہلے کہ دعاؤں سے نکالے جائیں
ایک اور غزل کا یہ شعر دیکھیں:
نکل کر گھر سے سلیقے سے جھوٹ بولیں گے
ہمارے عہد کے بچے بڑے منافق ہیں
کامران قمر کی شاعری میں عصرِ حاضر کی بے سمتی، بے حسی اور انسان کے تنہا وجود کی داستانیں موجود ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اُن کے ہاں زورِ بیان بھی قابلِ رشک ہے۔ الفاظ کا چُناؤ، تراکیب کا استعمال اور مصرعوں کی بندش میں ایک ایسی اثر انگیزی پنہاں ہے جو کلام کو دلوں میں اُتار دیتی ہے۔
اک نظر بھیک ترے حسن کی لینے کے لیے
مانگنے والے ترے در پہ کھڑے رہتے تھے
ہائے کیا دن تھے وہ آغازِ محبت کے قمر
ہم بھی دیوار کے سائے میں پڑے رہتے
فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو کامران قمر ردائف و قوافی کے برمحل اور دانشمندانہ استعمال، داخلی اور خارجی غنائیت کے توازن اور الفاظ و معنی کی ہم آہنگی پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ اُن کے ہاں کلاسیکی محاسن کی پاسداری بھی ملتی ہے اور جدید رجحانات کا احترام بھی۔
سزا بغیر ہی مارے گئے تھے ہم دونوں
اسی لیے تو پکارے گئے تھے ہم دونوں
وہاں سے لوٹ کے آتی ہے اب ہوائے وصال
جہاں سے جھیل کنارے گئے تھے ہم دونوں
”شرفِ قمر‘‘ کا ہر شعر اس بات کا غماز ہے کہ شاعر کی فن پر گہری نظر ہے. کامران قمر کی شاعری میں سوز و گداز ،رنج و الم اور جدید طرز احساس کی دلفریب آمیزش ملتی ہے.
بس یہی سوچ کے حجرے میں پڑا رہتا ہوں
میں جدھر جاؤں گا یہ غم بھی ادھر جائے گا
اسی طرح ایک اور غزل کا مقطع غور طلب ہے:
عالمِ کرب میں ایک ہاتھ ہے سینے پہ قمر
دوسرے کو تیری تصویر پہ رکھا ہوا ہے
شاعر کی ایک اور خوبی جذبہ حب الوطنی اور وطن دوستی ہے وہ وطن عزیز کی بدحالی پر نوحہ کناں ہیں اور حکمران طبقے کی بے حسی کا ذکر کچھ اس طرح سے کرتے دکھائی دیتے ہیں:
حکمرانوں پر قہر ٹوٹے میرے قہار کا
قائداعظم کا پاکستان گروی رکھ دیا
کامران قمر کا یہ مجموعہ کلام ان کی بلند خیالی، شاعرانہ مہارت، اور ان کے پرسوز لہجے کا مظہر ہے. بلا شبہ یہ مجموعہ نہ صرف ان کی فنی پختگی کا بھرپور عکاس ہے بلکہ معاصر اردو غزل میں ایک اہم اضافے کی حیثیت رکھتا ہے، جو قاری کے ذوق کو تازگی و طراوت سے آشنائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے فکر و احساس کو جِلا بھی بخشتا ہے۔











