شیخ فرید ایک سیماب صفت ادیب ہیں جو مسلسل کسی نہ کسی ادبی سرگرمی میں سرگرم رہتے ہیں. ان کی تازہ کتاب ”برفِ بولان‘‘، ادبِ اطفال کا شاہکار ہے جو ننھے قاری کو نہ صرف پُراسرار اور دلچسپ دنیا میں لے جاتا ہے بلکہ اس کے تخیل کے زاویوں کو بھی وسیع تر کر دیتا ہے۔ اس کتاب میں شامل مرکزی ناول ”برفِ بولان‘‘ دو بونے جنوں چنوا اور منوا کی معصوم اور جادوئی کہانی ہے، جو اپنے اندر ایک گہرا فلسفہ اور معاشرتی شعور سموئے ہوئے ہے۔ ان جنوں کا واسطہ بابو سقنان نامی ایک ریلوے اہلکار سے پڑتا ہے، جو کولپور ریلوے اسٹیشن پر تعینات ہے۔ یہ کردار نہ صرف کہانی کو زمینی حقیقت سے جوڑتا ہے بلکہ مصنف کی کردار نگاری کی مہارت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ بابو سقنان کی سادگی، ایمانداری اور روزمرہ کی مصروفیات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایماندار پاکستانی ریلوے اہلکار کا نقشہ سامنے آتا ہے.
کہانی کے بیان میں ایک نمایاں خوبصورتی یہ ہے کہ شیخ فرید نے جنوں کی دنیا اور انسانوں کی دنیا کے روابط کو انتہائی خوبصورتی اور بے تکلفی سے پیش کیا ہے۔ چنوا اور منوا کے مکالمے، ان کی شوخیاں اور ان کا معصومانہ طرز عمل قاری کے دل میں ارتعاش سا پیدا کرتا ہے۔ شیخ صاحب کا بچپن کولپور میں گزرا ہے اس لیے کہانی میں متعدد مقامات پر ان کے بچن کا عکس جھلکتا محسوس ہوتا ہے.
کتاب کا دوسرا حصہ مختصر کہانیوں پر مشتمل ہے جن میں ”کولپور کا ککو‘‘ اور ”پھول انڈا‘‘ شامل ہیں۔ یہ کہانیاں اپنے اندر معصومیت، دیہاتی تہذیب اور انسانی جذبات کی پرتیں سموئے ہوئے ہیں۔ ”کولپور کا ککو‘‘ خاص طور پر ایک ایسا کردار ہے جو قاری کی یادداشت پر نقش ہو جاتا ہے اور اس کی بے ساختہ حرکات و سکنات دیہاتی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ ”پھول انڈا‘‘ ایک علامتی کہانی ہے جو زندگی کے نازک اور خوبصورت پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں شامل مضامین ”میں اور میرا سکول‘‘ اور ”کولپور ایک کہانی‘‘ درحقیقت اس کتاب کی روح ہیں۔ پہلا مضمون مصنف کے اپنے زمانہ طالب علمی کی یادیں ہیں جو انتہائی مہارت سے اور محبت آمیز انداز میں لکھی گئی ہیں۔ ان سطروں میں قاری کو شیخ فرید کی ذات کے ایک نئے پہلو سے آشنا ہونے کا موقع ملتا ہے۔ دوسرا مضمون ”کولپور ایک کہانی‘‘ ایک معلوماتی تحریر ہے جو کولپور شہر کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس مضمون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض معلومات کا انبار نہیں بلکہ ایک داستان کی مانند ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے البتہ کولپور کی معلومات میں چند ایک مقامات پر تکرار بلا جواز سی لگتی ہے.
شیخ فرید کی زبان و بیان کی خوبصورتی اور ریجنلزم کی گہری چھاپ ان کی تحریروں کی پہچان ہے۔ چوں کہ کولپور ان کی جائے پیدائش ہے اور وہیں ان کا بچپن گزرا ہے، اس لیے وہ اس خطے کی ثقافت، بولی، رہن سہن اور رسم و رواج کو انتہائی حقیقت پسندی اور محبت سے پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں کولپور کی گلیاں، اس کے لوگ، اس کی فضائیں سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ریجنلزم قاری کو اپنے بچپن یا اپنے آبائی علاقے میں پہنچا دیتا ہے۔
آخر میں، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ایک خواہش دِل میں ابھرتی ہے کہ کاش شیخ فرید صاحب اپنی مفصل خودنوشت سوانح عمری تحریر فرمائیں جس میں کولپور، اور وادی بولان میں ان کے ایامِ گزشتہ کا تفصیلی ذکر ہو تو بہت اردو ادب میں ایک دلچسپ خودنوشت کا اضافہ ہوجائے گا. ان کی یہ کتاب تو گویا اس سوانح کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، لیکن ایک مکمل سوانح عمری کے ذریعے کولپور کی وہ سب یادیں، وہ تمام تفصیلات، اور وہ جذباتی سفر قارئین تک پہنچ سکے گا جو نہ صرف ادب کے شائقین کے لیے قیمتی ہوگا بلکہ پاکستانی ثقافت کے ایک اہم باب کی دستاویز بھی ثابت ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قلم کی یہ رفاقت ہمیں ماضی کے اس جہان میں لے جائے گی جہاں کولپور کی مٹی کی خوشبو اور قدیم ریل کی آوازیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔











