ندیم ماہر کی کتاب، ”سوشل میڈیا فوائد اور نقصانات‘‘ – سماجی ذرائع ابلاغ عیوب و محاسن – محمد اکبر خان اکبر

ندیم ماہر کی کتاب ”سوشل میڈیا فوائد اور نقصانات‘‘ اپنی مختصر ضخامت کے باوجود ایک ایسی جامع کاوش ہے جو عصر حاضر کے اہم ترین موضوع پر مرکوز ہے۔ مصنف نے نہایت ہی مربوط، عام فہم اور سلیس اسلوب تحریر میں سوشل میڈیا کی مکمل تصویر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کتاب کا آغاز سوشل میڈیا کی واضح اور عام فہم تعریف سے ہوتا ہے، جس سے قاری کے لیے اس پیچیدہ موضوع کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ندیم ماہر کا طرز تحریر علمی گہرائی اور سادگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ وہ معاملے کے دونوں پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے پہلے سوشل میڈیا کے ان گنت مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں، جن میں معلومات تک فوری رسائی، عالمی رابطے، کاروباری مواقع اور سماجی شعور بیداری جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز کیسے معاشرتی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
کتاب کا سب سے قابلِ ستائش پہلو اس کا متوازن نقطہ نظر ہے۔ فوائد بیان کرنے کے بعد مصنف اس کے گہرے اور خطرناک منفی اثرات کی جانب بڑھتے ہیں۔ ندیم ماہر نے اپنی کتاب میں ذہنی صحت پر مضر اثرات، جیسے اضطراب اور احساس کمتری، پرائیویسی کے مسائل، جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور وقت کے ضیاع جیسے عملی مسائل پر تفصیل سے بات کی ہے۔ ان خطرات سے آگاہی فراہم کرکے مصنف نے نہ صرف قاری کو خبردار کیا ہے بلکہ احتیاطی تدابیر بتا کر اسے محفوظ استعمال کی راہ بھی دکھائی ہے۔
یہ کتاب ان کی گہری تحقیق اور موضوع کے ہمہ جہتی پہلوؤں پر نظر ثابت ہوتی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”سوشل میڈیا فوائد اور نقصانات‘‘ نوجوانوں، والدین اور معلمین سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ ندیم ماہر نے ایک ایسی رہنما کتاب تخلیق کی ہے جو قاری کو سوشل میڈیا کے بغیر نہ رہنے کے فوائد اور اس کے بے جا استعمال کے نقصانات دونوں سے روشناس کراتے ہوئے اسے ایک ذمہ دار صارف بننے کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹس کے فوائد سے اختلاف تو نہیں مگر اس کے مضر اثرات کافی زیادہ ہیں. بشری کمزوریوں کے سبب ویسے بھی نوجوان نسل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مثبت استعمال سے زیادہ اس کے منفی اثرات کا شکار ہے یہی وجہ ہے اس اہم ذرائع ابلاغ کے فوائد خاطرخواہ طور پر ہنوز سامنے نہیں آسکے. مصنف نے تحقیقی انداز میں ان تمام نکات کو جامعیت کے ساتھ بیان کرنے کی سعی بلیغ کی ہے. فی زمانہ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر آبادی کی ایک بڑی تعداد کا اچھا خاصا وقت گزرتا ہے جہاں یہ وقت کارآمد ہوسکتا ہے وہیں اس کے ضرر رساں ثابت ہونے کا بھی قوی امکان ہے. بالعموم ہمارے ہاں یہ سماجی تصور عام ہے کہ یہ میڈیا بغرض تفریح تخلیق کیے گئے ہیں اسی وجہ سے اس میڈیا کی اہمیت اور افادیت کے باوصف آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے منفی اثرات سے متاثر دکھائی دیتا ہے.
اس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں کہ ندیم ماہر ایک ماہر قلم کار اور مصنف ہیں. جی چاہتا ہے کہ وہ اسی طرح لکھتے رہیں اور عوام الناس کے اذہان کو نورِ علم سے منور کرتے رہیں.