دائرہ علم و ادب کے تحت دو روزہ محفلِ مشاورت پھالیہ میں منعقد ہوئی. وہاں جہاں کئی اہلِ علم و دانش اور اہل سخن سے ملنے کا موقع ملا وہیں ایک عرصے بعد سید طاہر صاحب سے خوب ملاقات رہی. سپاس گزار ہوں کہ انھوں نے اپنا دوسرا مجموعہ کلام ”زرِبینائی‘‘ عنایت کیا.
یہ کتاب دراصل مجموعہ غزلیات ہے. اس مجموعے کا مطالعہ اردو غزل کے موجودہ منظرنامے میں ایک ایسی توانا آواز سے آشنائی کا باعث بنتا ہے جو روایت اور جدت کے درمیان ایک حسین ربط قائم کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی شعور کی تہذیبی لطافت بھی موجود ہے اور جدید حسیت کی فکری وسعت بھی۔ وہ میر و غالب کی داخلی معنویت اور فراق و ناصر کے نرمیِ احساس سے گزرتے ہوئے عصرِ حاضر کے پیچیدہ ذہنی و وجودی سوالات کو بھی اپنے شعری سرمائے میں سمیٹتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک گہری معنوی بصیرت کارفرما نظر آتی ہے جو سطحی جذبات سے بلند ہوکر انسان اور کائنات کے رشتے کی نئی جہت پیش کرتی ہے۔ جیسے وہ کہتے ہیں:
مرے اندر سمایا ہے مزاجِ کن فکاں ایسا
میں خود منظر سے کہتا ہوں ذرا تبدیل ہو جائے
یہ شعر سید طاہر کے تخلیقی وقار کی علامت ہے۔ یہاں شاعر محض مظاہرِ فطرت کا تماشائی نہیں بلکہ خالقِ منظر کی کیفیت میں داخل دکھائی دیتا ہے۔ ”مزاجِ کن فکاں‘‘ کی ترکیب اس کی فکری جُرأت اور معانی آفرینی کا روشن ثبوت ہے۔ وہ تخلیق کے کرب سے گزرتا ہوا خود تخلیق کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح ان کی ایک اور غزل کا مطلع قابل غور ہے:
کھرے سماج کی تصویر کینوس پہ بنا
مرے مزاج کی تصویر کینوس پہ بنا
یہ شعر عصرِ حاضر کے تضادات کو بڑی فنی نزاکت سے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں شاعر ایک مصور کی طرح خارجی دنیا اور اپنے باطن کے مناظر کو ایک ہی کینوس پر رکھ کر ان کے باہمی تصادم اور ہم آہنگی کو شعری صورت میں مجسم کرتا ہے۔ یہ اس کے مزاجِ فن کا خاصہ ہے کہ وہ خود کو سماج سے جدا بھی رکھتا ہے اور اس کا عکاس بھی۔
”زرِ بینائی‘‘ کی غزلوں میں زبان کا ایک خاص بانکپن، ترکیبوں کی تازگی اور معنی آفرینی و تہہ داری نمایاں ہے۔ سید طاہر کی غزل نہ تو صرف کلاسیکی لہجے کی اسیر ہے اور نہ ہی محض جدیدیت کے الجھے ہوئے استعاروں کا شکار۔ ان کے ہاں جدیدیت اپنی فکری عمق کے ساتھ جلوہ گر ہے، جب کہ مابعدالجدید حسیت ان کے مصرعوں میں بکھرے ہوئے التباس اور تجزیہ کی صورت موجود ہے۔ وہ وقت، وجود، خواب، اور شکستہ احساسات کو نئے تناظر میں برتتے ہیں۔ جیسے ایک شعر میں وہ لمحے کے انکسار کو کمالِ عکاسی سے یوں بیان کرتے ہیں:
لمحات کی ندیا بپھر گئی کچھ خواب گرے جب پانی میں
لو آنکھ کا برتن ٹوٹ گیا اور ڈوب گیا سب پانی میں
یہ شعر جدید غزل کی بصری شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ ”ندیا‘‘، ”خواب‘‘، ”برتن‘‘ اور ”پانی‘‘ سب تلازمات مل کر ایک تجریدی منظر تخلیق کرتے ہیں جہاں خواب کا ٹوٹنا، آنکھ کا برتن بننا اور ڈوب جانا سب باطنی شکست اور حسّی انکشاف کی علامتیں ہیں۔ سید طاہر کے لہجے میں ایک ایسی خودداری بھی ہے جو صبر کے پیکر میں پوشیدہ ہے۔ وہ غم کے سامنے جھکتے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ مکالمہ کرتے ہیں۔ ان کا مقطع دیکھیے:
تمہارے غم سے جو دامن چھڑا لیا طاہر
ہم آنسوؤں سے پہنچتی ہوئی کمک سے گئے
یہاں رنج کا بیانیہ شکست نہیں بلکہ وجدان کی فتح میں بدل جاتا ہے۔ شاعر کو معلوم ہے کہ غم سے فرار ممکن نہیں، مگر وہ اس کے حصار سے باہر نکل کر بھی اس کی روشنی میں جلتا محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک اور شعر میں عشق اور ایثار کا تاثر ملاحظہ ہو:
تو مرے شوقِ شہادت کا قرینہ دیکھ
مجال ہے جو مرا سر تری سناں سے گرے
یہاں عاشق کا کردار محض روایتی محبوب کا متوالا نہیں بلکہ اپنے جذبے کی عظمت سے سرشار ایک وجودی انسان ہے جو شکست میں بھی اپنی وقعت برقرار رکھتا ہے۔
”زرِ بینائی‘‘ میں سید طاہر نے کلاسیکی زبان کی حلاوت کو جدید فکر کی تیز روشنی میں ڈھالا ہے۔ ان کے اشعار میں معنوی التزام ہی نہیں بلکہ فکری گہرائی بھی ہے، ان کی غزلیں محض اظہار نہیں، ادراک کا عمل ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری بیک وقت ”بیان‘‘ بھی ہے اور ”وجدان‘‘ بھی۔
سید طاہر نے اردو غزل کو اس کے اصل فکری مقام پر واپس لا کر یہ ثابت کیا ہے کہ جدید دور میں بھی غزل وہ آئینہ ہے جس میں روح اپنی تصویر پہچان سکتی ہے شاید یہی زربینائی کا اصل اور کامل مفہوم بھی ہے۔











