ویٹی کن سٹی، کتب خانہ اور عجائب گھر

نام کتاب: ”یورپ یورپ ہے‘‘، مصنف: یعقوب نظامی
ویٹی کن کا کتب خانہ بھی منفرد ہے جو 1590ء میں قائم ہوا تھا. اس میں بیس لاکھ کتابیں، ڈیڑھ لاکھ مخطوطے اور آٹھ ہزار ایسی دستاویزات ہیں جن کا تعلق کلیسا اور پادریوں سے ہے. کتب خانہ عوام کے لیے نہیں بلکہ اس سے صرف وہ اعلٰی درجہ کے عیسائی سکالرز استفادہ کرسکتے ہیں جو تن من دھن سے کلیسا آف روم کے پیروکار ہوں.

کتب خانہ یوں بھی محدود لوگوں کے لیے ہے لیکن اس کا ایک ایسا سیکشن بھی ہے جو ”خفیہ لائبریری‘‘ (Vatican Apostolic Archive) کے نام سے مشہور ہے اور کتب خانے کی عمارت کے شمال مغربی گوشہ میں واقع ہے. اس میں صرف پوپ اور چند دیگر عہدیداران ہی جا سکتے ہیں. اس خفیہ لائبریری میں کلیسا کے خفیہ قانون اور ویٹی کن کی تاریخ کے متعلقہ ساڑھے آٹھ ہزار دستاویزات محفوظ ہیں.
انجیل مقدس کے چاروں نسخے متی، مرکس، لوقا اور یوحنا اس لائبریری میں محفوظ ہیں. یہاں انجیل ”برنا باس‘‘ کا بھی ایک نسخہ محفوظ ہے لیکن اُس تک ہر کسی کی رسائی نہیں.

ویٹی کن کے پوپ گریگری (Pope Gregory XIII) نے عیسوی کیلنڈر متعارف کروایا جو اس کے نام کی مناسبت سے گریگری کیلنڈر (Gregorian calendar) کہلاتا ہے اور اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں نافذ ہے. اس کیلنڈر کا آغاز 24 فروری 1582ء میں ویٹی کن سے ہوا. پوپ نے رومن کیلنڈر جیولین (Julian calendar) میں ردوبدل کر کے اسے نئے سرے سے متعارف کروایا. جولین کیلنڈر رومن حکمران اور فوجی جرنیل جولیس سیزر (Julius Caesar) نے نافذ کیا تھا. جولیس سیزر کی مناسبت سے سال کا ساتواں مہینہ جولائی کہلاتا ہے. جو حقیقت میں جولین کے نام سے اخذ کیا گیا ہے. اگست… آگسٹن (Augustine) اور اکتوبر آٹو ون (Octavian) رومن حکمرانوں سے منسوب ہے. عیسائیوں کے وہ فرقے جو کیتھولک اور روم کے تابع نہیں وہ ابھی تک جولین کیلنڈر استعمال کرتے ہیں. رومن کیلنڈر، یونانی کیلنڈر کی نقل تھی. یونانی کیلنڈر دس مہینوں پر مشتمل تھا جو اس کے دس دیوتاؤں کے ناموں پر مشتمل ہوتا تھا. موسم سرما کے دو مہینے دسمبر اور جنوری کے 61 دن اس کلینڈر میں شمار نہیں کیے جاتے تھے.
اس وقت مغربی ممالک بشمول امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں یہی عیسوی کلینڈر نافذ ہے. برطانیہ نے اسے 1752ء میں قبول کیا اور پھر اپنے زیر قبضہ ممالک میں بھی اسے متعارف کروایا.

ویٹی کن سٹی قدرے اونچی جگہ پر ہے. سب سے اونچی جگہ ریڈیوسٹیشن کا انٹینا نصب ہے. کلیسا کے سامنے دریا بہتا ہے. ہم نے تقریباً دو گھنٹے ویٹی کن میں گزارے. وہاں سے نکلے تو سامنے دریائے تبر (Tiber River) کے کنارے جا بیٹھے. دریا کا پانی گندا اور لندن کے دریائے ٹیمز (River Thames) کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا تھا. دریا کے کنارے سٹال ہیں جہاں سے سیاح تحفے خریدتے ہیں. میں نے ایک بنگالی نوجوان کے سٹال سے خریداری کی جو بڑی روانی سے انگریزی میں بات چیت کر سکتا تھا.

دریائے تبر کے کنارے ویٹی کن کے قریب ایک قلعہ ہے جسے رومن بادشاہ ہیڈرین (Hadrian) نے اپنے مقبرے کے لیے تعمیر کروایا تھا. اس قلعہ میں ہیڈرین کے علاوہ بہت سے دوسرے رومن بادشاہوں کے مقبرے بھی ہیں. یہ قلعہ گول دائرے کی شکل میں ہے اور ”سینٹ اینجلو‘‘ (Sant’Angelo) کے نام سے جانا جاتا ہے. پھر زمانے کے ہاتھوں اوپر والی منزل جو تباہ ہو چکی تھی کو 1497ء میں پوپ کے حکم سے از سرے نو اصل حالت میں بحال کیا گیا. قلعہ کے تہہ خانے میں قیدیوں کے لیے سیل قائم کیے گئے. اس وقت قلعہ میں عجائب گھر ہے.

دریائے تبر کنارے میری ملاقات کینیڈا کے ایک جوڑے سے ہوئی. دونوں جوان، سمارٹ اور خوبصورت تھے. بات چیت سے معلوم ہوا یہ بھی روم کی سیاحت کے لیے آئے ہیں… اور ویٹی کن اور رومن کے آثار قدیمہ دیکھ چکے ہیں. مرد کا نام چارلس (Charles) جب کہ عورت کا نام اینڈریہ (Andrea) تھا. اینڈریہ ہنس مکھ، سنجیدہ اور اہل علم عورت تھی، جس نے روم کی سیاحت کے بارے میں مجھے بتایا کہ:
”مجھے میوزیم کی سیاحت سے مایوسی ہوئی. میں ایک مغربی عورت ہوں لیکن پھر بھی چند مقامات پر خواتین اور مردوں کی ننگی تصاویر دیکھ کر شرم سے میرا سر جھک گیا. میرے استفسار پر گائیڈ نے ان مناظر کو کسی دوسری دنیا کے مناضر سے تشبیہ دی اور پھر اسے آرٹسٹ کی ایک خیالی دنیا قرار دیا. میں نے گائیڈ کو کہا یہ میں مانتی ہوں لیکن ایسے مناظر مذہبی مقامات اور وہ بھی دنیائے عیسائیت کے ایک فرقہ کے مرکز پر دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ہے…‘‘
(صفحہ: 129 – 127)

اپنا تبصرہ بھیجیں