اس وقت میرے ہاتھ میں ایک ایسی کتاب ہے جو میرے مطالعے کے اس سفر کا سب سے خوب صورت اور معزز ترین موڑ ثابت ہوئی۔ یہ صرف ترجمہ ہی نہیں بلکہ خود اردو زبان میں ایک نئی اور شاندار تخلیق معلوم ہوتی ہے۔ مترجم سر اسداللہ میر الحسنی صاحب کے ہنر اور محنت نے اس ناول کو اردو ادب کی ایک لازوال دولت بنا دیا ہے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اس بے مثال ترجمے کے ذریعے قاری پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ یہ کتاب محض صفحات پر الفاظ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو دل و دماغ پر اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے۔
آخر کار “زین کی شادی” کی شادی بھی ہوگئی اور ہم اپنے اس دوست کی شادی سے خوب لطف اندوز ہوئے ہیں اور اب آپ بھی ہوں ۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ معاشرے کا ”دیوانہ‘‘ قرار دیا جانے والا ایک شخص درحقیقت سب سے زیادہ حسین روح، سب سے معصوم دل اور سب سے پاکیزہ محبت کا مالک بھی ہو سکتا ہے؟ ”زین کی شادی‘‘ آپ کو اسی سفر پر لے جاتی ہے جو حقارت سے شروع ہو کر محبت کے ایک معجزے پر ختم ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک ناول نہیں ہے بلکہ اپنے اندر سمندر جیسی گہرائی سموئے ہوئے ایک ایسا سماجی آئینہ ہے جو ہمارے چہروں پر موجود نفاق، امتیاز اور ظاہری قدروں کے پردوں کو بے دردی سے چاک کر دیتا ہے۔ الطیب الصالح کا یہ شاہکار، جو دنیا کی 30 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، اب اردو میں محترم اسد اللہ میر الحسنی کے رواں اور پُراثر ترجمے میں آپ کے سامنے ہے ۔
ناول کا مرکزی کردار زین ہے جو معاشرے کی نظر میں ایک بدصورت، سادہ، بے ڈھنگا اور دیوانہ ہے. اس کی معصومیت کو ہر بار ٹھکرا دیا جاتا ہے اور وہ جس لڑکی سے بھی محبت کرتاہے اسی لڑکی کی شادی ایک ”معیاری اور خوش شکل‘‘ لڑکے سے کر دی جاتی ہے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آخر اس معجزے کا راز کیا ہے جس نے کل تک زین کو حقیر سمجھنے والے پورے گاؤں کو اس کا دیوانہ بنا دیا؟ وہ کون سا انوکھا رشتہ ہے جو زین اور اس کے چند خاص دوستوں کے درمیان ہے؟ ان کی محفل الگ ہے جہاں بظاہر بے ترتیب گفتگو میں زندگی کے گہرے حقائق پنہاں ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جہاں باہر کا کوئی شامل نہیں ہو سکتا اور یہی دوستی ناول کا سب سے متاثر کن اور دلچسپ پہلو ہے۔
شادی کی اس دھوم دھام کی تقریب میں، جب پورا گاؤں جشن منا رہا ہے، زین اچانک غائب کیوں ہو جاتا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر قبرستان میں اس قبر کے پاس زین کا کیا کام تھا؟ اس قبر میں کون دفن تھا؟ یہ پراسرار اختتام آپ کے ذہن میں ایک دیرپا سوال چھوڑ جاتا ہے جو آپ کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ ناول انسانی نفسیات کی گہری عکاسی کرتاہے۔ یہ ظاہری خوب صورتی اور معیار کے نام پر انسانوں میں کی جانے والی تقسیم کو بے نقاب کرتا ہے۔ امام مسجد جیسے کردار معاشرے کے دوغلے پن کو نمایاں کرتے ہیں اور امام مسجد کے ساتھ لوگوں کے مختلف رویوں کی نشان دہی کرتاہے ۔ شادی کی رنگینوں بھری تقریب کے درمیان پراسرار غمگینی اور قبرستان کا منظر آپ کو جھنجھوڑ دے گا۔
جناب اسد اللہ میر الحسنی کا ترجمہ محض الفاظ کا اردو روپ نہیں ہے بلکہ کہانی کی روح کو اردو کے قالب میں ڈھالتا ہے۔ مصر کے نامور ادیب جلال امین کے مطابق یہ وہ کتاب ہے جو ”قلب و ذہن کو سب سے زیادہ مسحور‘‘ کرتی ہے۔
محض 96 صفحات کے اس ناول میں سمندر جیسی گہرائی موجود ہے۔ جیسا کہ عربی ادب کے عظیم شاعر صلاح عبدالصبور کہتے ہیں، یہ الطیب صالح کی ”سب سے محبوب تخلیق‘‘ ہے۔
اگر آپ انسانی جذبات، معاشرتی تضادات، نفسیاتی گہرائی اور پراسرار تجسس سے بھرپور کہانیاں پسند کرتے ہیں تو ”زین کی شادی‘‘ آپ کے لیے ہی ہے۔ یہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرے گی، آپ کے دل کو چھو لے گی اور آپ کی کتابوں کی الماری کا ایک بیش قیمت حصہ بن جائے گی۔
اس خوبصورت ترجمہ کو کولاج پبلیکیشنز، لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 800 روپے مقرر کی گئی ہے.












