بہترین تخلیقی ادب ہمیشہ اپنے اندر ایک جغرافیائی اور ثقافتی وسعت کا ایک بحر بے کنار سموئے ہوئے ہوتا ہے. جمیل احسن کا شعری مجموعہ ’’آسودگی‘‘ اس کی ایک نادر مثال ہے۔ ملتان کے تہذیبی رنگوں میں رچ بس کر پرورش پانے والا یہ تخلیق کار اور ڈنمارک کے جدید معاشرے میں مقام بنانے والا یہ شاعر اپنے کلام میں دونوں دنیاؤں کے مابین ایک رابطہ قائم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں ایک طرف ملتانی لوک رنگ کی گہرائی اور پاکستانی معاشرے کی عکاسی ہے تو دوسری طرف یورپی فضا کی برفانی ٹھنڈک یورپی چمک دمک اور فکری بلندی بھی محسوس ہوتی ہے۔ان کی نظم ”ارضِ ملتان‘‘ کے اشعار دیکھیے:
تیری مٹی میں حلاوت ہے وہ تابانی ہے
جس میں ابدال و مشائخ نے عبادت کی ہے
اک کڑے دور میں انساں سے محبت کی ہے
ہند میں شہرہ اسلام کو پھیلایا ہے
جمیل احسن کی غزل نگاری روایت کی آبیاری تو کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی جدیدیت سے بھی ہم آغوش ہوتی محسوس ہوتی ہے جو ان کے مخصوص لب و لہجے کی پہچان بن گئی ہے۔ ان کے ہاں استعاروں کی تہہ میں پنہاں وہ جذبات اور کیفیات ملتی ہیں جو ہر انسان کے دل کی دھڑکن بن جاتی ہیں۔ ان کی غزلوں کا حسن یہ ہے کہ وہ نہ صرف سادہ اور رواں زبان میں فلسفیانہ عمق پیش کرتی ہیں بلکن ان کے اشعار میں ایک ایسی موسیقیت و غنائیت بھی کارفرما ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ ان کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
دل کے بہلانے کی خاطر شاعری کافی نہیں
خواہشوں کے جنگلوں میں زندگی کافی نہیں
شاید اب مادہ پرستی کا جنوں دے گا سکوں
حضرت انساں کی اب دوستی کافی نہیں
ایک دیوانے جلتی دھوپ میں مجھ سے کہا
ایک مفلس کے مکاں میں روشنی کافی نہیں
ان کا کلام محض سخنوری کا ہنر نہیں بلکہ زندگی کے گہرے تجربات اور مشاہدات کا ایسا مرقع ہے جس میں ہر انسان اپنا عکس دیکھ سکتا ہے:
ہم نے یوں زندگی گزاری ہے
شمع پر جیسے رات بھاری ہے
تم سے مل کر سکون کیا پاتے
تم سے مل کر بھی بے قراری ہے
جمیل احسن صرف اردو ہی نہیں بلکہ سوئڈش زبان کے بھی شاعر ہیں، جو ان کے فن کو ایک بین الاقوامی رنگ اور وسعت عطا کرتا ہے۔ سوئڈش میں ان کی شاعری درحقیقت ایک ثقافتی سفیر کا کام کرتی ہے، جہاں وہ جنوبی ایشیائی ثقافتی ورثے کی نزاکتوں کو سکینڈینیویائی جمالیات کے ساتھ مدغم کرتے ہیں۔ یہ دوہری زبان دانی ان کے تخلیقی عمل کو ایک انوکھا تنوع اور جداگانہ رنگ بخشتے ہوئے ان کے کلام کو عالمی ادب کے دھارے میں شامل کر دیتی ہے۔
رات گہری ہے کوئی شمع جلائے رکھنا
گھر کی دیوار کو گرنے سے بچائے رکھنا
ان کی نظمیں زندگی کے بکھیڑوں، نفسیاتِ انسانی، ہجر و فراق،رجائیت و قنوطیت اور تہذیبی شناخت کے مسائل کو ایک نئے اور منفرد زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کی نظم گوئی میں ایک ایسی تجریدی خوبی ہے جو قاری کو سوچ کے دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے اور فکرِ فردا پر مجبور کر دیتی ہے۔ جمیل احسن کی نظم نگاری اردو ادب میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ ان کی نظمیں نہ صرف ایک فکری گہرائی کی حامل ہوتی ہیں بلکہ ان میں جذبے، خیال اور اسلوب کا ایک ایسا امتزاج پایا جاتا ہے جو قاری کو متوجہ کیے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی نظموں میں زبان کا بانکپن، علامتوں کا شعوری استعمال اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے انسانی تجربات کی جھلک نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
اسے کہنا
بہار آنے سے پہلے
پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے
تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر
ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہوگا
’’آسودگی‘‘ میں شامل نظمیں صرف ذاتی کیفیات کا اظہار نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی ترجمانی بھی ہیں۔ ان نظموں میں جمیل احسن نے ایک ایسے حساس انسان کی آواز کو زبان دی ہے جو معاشرے، وقت، تہذیب، رشتوں اور تنہائی کے بدلتے تناظر میں اپنے وجود کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عجیب سا میں
عجیب دنیا
رواج کے ساتھ چل رہا ہوں
نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ
نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں
ان کی نظموں کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی فکری جہت ہے۔ وہ سطحی اظہار پر قانع نہیں ہوتے بلکہ قاری کو ایک داخلی سفر پر لے جاتے ہیں۔ ان کی نظم ”اثاثہ‘‘ کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:
پھر یوں ہوا کہ زر نے مجھے زیر کرلیا
میں نے تمام دانتوں پہ سونا چڑھا لیا
سوچا کہ اس میرا نوالہ بنے کا تر
اور ذائقے عجیب گھلیں گے شریر میں
ان کے ہاں نظم محض لفظوں کی ترتیب نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور روحانی تجربے کا بیانیہ ہے۔ وہ انسانی جذبات و احساسات کی تہہ در تہہ پرتیں کھولتے ہیں، اور ہر پرت کے نیچے ایک نیا زاویہ، ایک نیا سوال یا ایک نیا احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔
محبتوں کے ثنا خواں ازل سے تنہا ہیں
اسی لیے تو صحیفے انہیں پر اترتے ہیں
ان کی نظموں میں موضوعات کا تنوع بھی قابلِ ذکر ہے. کہیں وہ وقت کی بے ثباتی پر گفتگو کرتے ہیں، کہیں تنہائی کی تشریح کرتے ہیں، کہیں شناخت کی تلاش کو موضوع بناتے ہیں، تو کہیں مہاجرت کی زندگی کے دکھوں اور یادوں کی چبھن کو فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔
کسے معلوم ہے اک دن
مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے
جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے
کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے
انھیں تشویش ہوگی مجھ سے پوچھیں گے
کہ ہجرت کیا ہے؟
کیوں اپنے وطن کو چھوڑ جاتا ہے
فنی اعتبار سے ان کی نظموں میں ساخت اور معنویت کے درمیان ایک متوازن ربط موجود ہے۔ نہ وہ صرف خیال کے پیچھے دوڑتے ہیں، نہ صرف فنی پیچیدگی کو ترجیح دیتے ہیں، بلکہ دونوں کو اس انداز سے ہم آہنگ کرتے ہیں کہ نظم ایک مکمل تجربہ بن جاتی ہے۔
صبح کا پہلا پرندہ
شاخ سے اڑ کر چلا
دور افق کے پار سبزے سے بھری ہیں کھیتیاں
دانہ دانہ شام تک چننا ہے، چہکنا ہے
ان کے ہاں آزاد نظم کا رنگ بھی ہے، اور پابند نظمیں بھی، مگر دونوں میں اظہار کی شدت اور جذبے کی سچائی ایک جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی زبان سادہ ہے مگر اس میں شعریت ہے، موسیقیت و غنائیت ہے، اور کئی جگہوں پر ایک لطیف فلسفیانہ لَے بھی۔ وہ الفاظ کو محض بیان کے لیے نہیں، بلکہ معنی کے امکانات کو روشن کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ان کی نظم ”اعتراف‘‘ کے اشعار دیکھیے:
رات کے پچھلے پہر اکثر میری آنکھوں سے اڑ جاتی ہے نیند
اور تو یاد آنے لگتی ہے مجھے بے اختیار
اور ہوجاتا ہوں میں بے قرار
پھر میری سوچوں کی لہریں پھیلنے لگتی ہیں یوں
جیسے بل کھاتی ندی میں گر رہی ہو آبشار
جمیل احسن کی نظموں میں جو ایک اور نمایاں وصف ہے، وہ ہے ان کی علامت نگاری۔ وہ براہِ راست کچھ کہنے کے بجائے اکثر علامتوں، استعاروں اور تمثیلوں کے ذریعے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ علامتیں کبھی بہت واضح ہوتی ہیں، اور کبھی اتنی دھیمی اور مہذب کہ قاری کو دیر تک ان کے معانی پر غور کرنا پڑتا ہے۔ اسی میں ان کی شاعری کی تاثیر بھی پوشیدہ ہے:
سانسیں تیری امانت تھیں
تو آج تجھے لوٹا دیتا ہوں
آج سے میری سوچ تیری جاگیر بنے گی
تو میری تقدیر بنے گی
وہ جلد بازی یا فوری تاثر پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ آہستہ آہستہ اپنے قاری کی ذہنی زمین میں خیال کے بیج بوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ پھلتے اور کھلتے ہیں۔
ہمیں تو یاد کی چبھن نے داغ داغ کر دیا
ہر ایک ساعت گراں قباحتوں میں کٹ گئی
اداسیوں کی لہر نے جو شل دماغ کر دیا
مہاجرت کا تجربہ ان کی نظموں اور غزلیات میں ایک مستقل اور زیریں متن کے طور پر محسوس ہے، لیکن اسے انہوں نے شکایتِ زمانہ یا افسوس کے پیرائے میں نہیں بلکہ ایک فکری سفر کے حصے کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ مغرب کی سہولتوں اور مشینی زندگی کے درمیان اپنی تہذیبی جڑوں کی تلاش کو ایک تخلیقی محرک میں بدل دیتے ہیں۔ اس تلاش میں نہ صرف ان کی اپنی شناخت شامل ہے بلکہ اردو زبان، اس کی اقدار اور اس کے جمالیاتی نظام کا بھی دفاع موجود ہے۔ ان کی ایک غزل میں مہاجرت کی عکاسی غور طلب ہے.
وطن سے دور ادھورے ہمارے خواب نہیں
یہ ہجرتوں کے سفر پھر بھی کامیاب نہیں
حصولِ زر کا جنون روح سے لپٹ جائے
یہ اور کیا ہے جہاں میں اگر عذاب نہیں
اسی طرح ان کی نظم ”ہجرتوں کے سفر‘‘ کے اشعار توجہ طلب ہیں:
مگر ہم دربدر لوگوں کی بھی اپنی کہانی ہے
پلٹ کر کس طرح جائیں
تذبذب کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے ہیں
یہاں ٹھہریں وہاں جائیں
کدھر ہم کوچ کر جائیں
ان کی ایک اور نظم ”اے وطن‘‘ میں جذبہ حب الوطنی کی جھلک ملاحظہ فرمائیں:
اے وطن
میرے وطن پیارے وطن
میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو
میں تجھے بھولا ہی کب تھا
دور تھا تجھ سے
مگر اس دل میں ہر دن موجزن تھی تیری یاد
جاگزیں دل میں تھے میری زندگی کے ماہ و سال
مجموعی طور پر جمیل احسن کی نظم نگاری ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جس کی جڑیں مشرقی زمین میں پیوست ہیں، مگر شاخیں مغربی فضا میں سانس لے رہی ہیں اور اس کے سائے میں تخلیقیت کے چراغ روشن ہیں. ان کی نظموں میں احساس کی گہرائی، زبان کی مٹھاس، اور خیال کی وسعت اردو نظم کو ایک نیا رخ عطا کرتی ہے۔ آسودگی میں شامل ان کی نظمیں نہ صرف قاری کے دل کو چھوتی ہیں بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور اپنی داخلی دنیا میں جھانکنے پر آمادہ بھی کرتی ہیں۔ ان کا یہ شعری کارنامہ اردو نظم کے تسلسل میں ایک اہم اضافہ اور قابلِ قدر سرمایہ ہے۔
جمیل احسن کا شعری مجموعہ ”آسودگی‘‘ ان کے فکری اور فنی سفر کا عکاس ہے، جو نہ صرف ان کی شعری شناخت کو نکھارتا ہے بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام بھی عطا کرتا ہے۔ ملتان کی روحانی اور تہذیبی فضا میں پرورش پانے والے جمیل احسن نے اپنے مخصوص لب و لہجے کو دیارِ غیر کی تنہائیوں اور مشاہدات سے ایک گہرائی بخشی ہے۔ ڈنمارک میں قیام کے دوران انہوں نے اپنے مشاہدات، جذبات اور فکر کو جس انداز سے اردو کے شعری قالب میں ڈھالا ہے، وہ قاری کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ان کی غزلوں میں روایتی اردو غزل کی خوشبو موجود ہے، مگر اس میں جدید حسیت، آج کے انسان کی الجھنیں، شناخت کی کشمکش، اور داخلی کرب بھی پوری شدت سے جھلکتا ہے۔ ان کی زبان شستہ، سادہ مگر پر اثر ہے؛ وہ لفظوں کو برتنے کا ہنر جانتے ہیں اور ہر شعر ایک نیا خیال یا کیفیت سامنے لاتا ہے۔
جمیل احسن کی شاعری میں داخلی آسودگی کی تلاش ایک مرکزی استعارہ بن کر ابھرتی ہے، جسے وہ نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی محسوس کرتے ہیں۔ ان کی نظمیں فکر انگیز موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، جیسے اجنبیت، جلاوطنی، ثقافتی انقطاع، اور وقت کے ہاتھوں مسخ ہوتے رشتے۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں ایک امید کی کرن، ایک روشن زاویہ بھی موجود رہتا ہے، جو قاری کو مایوسی کے دھندلکوں سے نکال کر امید کی کسی کھڑکی تک لے جاتا ہے۔ وہ جذبوں کو کسی پیچیدہ فلسفیانہ پیرائے میں بیان نہیں کرتے، بلکہ سادہ مگر پُراثر اسلوب میں اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ ہر قاری اسے اپنا تجربہ سمجھنے لگتا ہے۔
”آسودگی‘‘ نہ صرف جمیل احسن کی ذاتی اور فکری تجربات کی آئینہ دار ہے بلکہ ایک ایسے شاعر کی آواز ہے جو اپنی مٹی سے جڑا ہوا ہے مگر دنیا کے بدلتے منظرناموں سے بھی باخبر ہے۔ ان کی شاعری میں وطن کی یاد، ماضی کی خوشبو، اور حال کی الجھنیں ایک ایسے توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں جو اردو شاعری کو تازگی اور گہرائی عطا کرتا ہے۔ جمیل احسن کی یہ کاوش ان کے شعری سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے اور اردو ادب میں ان کے مقام کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
تمنا ہے یہی دل کی
کسی غمخوار سے لپٹیں
کسی خوشبو سے ٹکرائیں
سمندر کی اتھاہ گہرائیوں سے
کوئی موتی ڈھونڈ کر لائیں
”آسودگی‘‘ ایک ایسے شاعر کا کلام ہے جو اپنے ماضی سے پیار کرتا ہے مگر حال میں جیتا ہے اور یہی اس کے فن کی بنیادی خوبی ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف اردو ادب بلکہ عالمی ادب کے لیے ایک بیش بہا اضافہ ہے۔











