مستنصر حسین تارڑ کا پہلا سفرنامہ ”نکلے تیری تلاش میں‘‘

مستنصر حسین تارڑ کا نام اُردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی وژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ آج ہم آپ کے سفرنامے ”نکلے تیری تلاش میں‘‘ کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اُردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

”نکلے تیری تلاش میں‘‘ مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف:

”جہاز کا سفر زمین سے تمام ناطے منقطع کر دیتا ہے اور مجھے یہ جدائی پسند نہیں تھی۔ میں نے سوچا، میں دوبارہ واپس آؤں گا لیکن شیشے اور ایلومینیم کے ساختہ اڑن کھٹولے میں قید ہو کے نہیں بلکہ دھرتی کے سینے کے ساتھ لگ کر تاکہ مجھے وسعتوں اور فاصلوں کا احساس ہو، صرف خلاؤں کا نہیں۔‘‘

اس سفر کا آغاز کابل کی طرف روانگی سے ہوا جو بذریعہ بس طے کیا گیا۔ کابل، افغانستان کی تاریخ، افغانیوں کے طور طریقے سب ہی مستنصر کی نگاہ سے دیکھنے میں جادو اثر معلوم ہوتے ہیں۔ افغانستان کے بعد اگلا پڑاؤ ایران کا تھا۔ مصنف نے ایران کی سیاحت کے دوران وہاں موجود زیارتوں کی عمدہ منظر کشی کی ہے۔ ایران کے بعد اگلی منزل استنبول تھی سفر بذریعہ ریل طے کیا گیا۔ جہاں رستے میں کوہ آرارات کا سحر انگیز پہاڑ بھی مصنف کی نظروں سے گزرا۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آ کے ٹھہری تھی۔ قاری مصنف کی نظر سے کوہ آرارات دیکھ کے آگے بڑھتا ہے اور بازنطائن، قسطنطیہ اور استنبول کی سیر کو نکل جاتا ہے۔ حال ہی میں ترک ڈراموں کے اردو ورژنوں کی وجہ سے آج قارئین ترکی کے شہروں کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔ ترک تاریخ کے ایک اہم حصے کو میرا سلطان نامی ترک ڈرامے میں دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے سفر نامے میں موجود ترکی کی سیاحت پہ مبنی حصہ قاری کی خصوصی دلچپسی حاصل کر لیتا ہے۔ ترکی کا سفرنامہ ایک انجان دیس کی بجائے ایک جانی پہچانی جگہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مسلم تاریخ کے گمشدہ اوراق سے نکال کے لائے ہوئے اقتباسات قاری کی روح کو گرما دیتے ہیں۔

ترکی سے آگے یورپ کا سفر جاری و ساری رہتا ہے۔ پیرس، کوپن ہیگن، فرینکفرٹ، سٹاک ہوم سے ہوتے ہوئے سفر کی آخری منزل لندن کا شہر ہے۔ ان تمام شہروں کی سیر مستنصر نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کی ہے جس کے اہم اجزاء ہیں ان کا سفری خیمہ، کسی راہ چلتی گاڑی سے لفٹ، اور کسی انگریز حسینہ کا ان پہ فریفتہ ہو جانا۔

اس سفرنامے کا ایک باب ”اپاہج وینس‘‘ کے عنوان سے ہے۔ یہ باب ایک علیحدہ ناول کی صورت میں بھی موجود ہے، ہمیں امید ہے کہ بہت سے قارئین اس کو پہچان گئے ہوں گے، جی ہاں مستنصر صاحب کا لکھا ہوا مقبول ترین ناول ”پیار کا پہلا شہر‘‘ بھی اس کتاب کے ایک باب کی صورت میں موجود ہے۔

(کتابستان)

368 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ”سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور‘‘ نے شائع کیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں