معروف ادیب، صحافی اور کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی کی کتاب ’’وازوان‘‘ – محمد عمران اسحاق

جب میرے پاس کچھ کتابیں جمع ہو جاتی ہیں تو پھر اِن میں سے پڑھنے کے لیے کم از کم چار، پانچ کتابوں کا انتخاب کرتا ہوں، پھر یکسوئی کے ساتھ وقت نکال کر اِن کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں اور حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہوں کہ مطالعے کے بعد کتاب پر اپنی رائے ضرور دوں۔
اِن مُنتخب کتابوں میں سینئیر صحافی، کالم نگار اور مختلف کتابوں کے مصنّف محترم عامر ہاشم خاکوانی کے میٹھے، تیکھے اور معلوماتی کالموں پر مشتمل خوب صورت سرورق، پُرکشش مضامین کی فہرست، اعلیٰ کوالٹی کا پیپر، رنگین جِلد اور مضبوط بائنڈنگ رکھنے والی کتاب ’’وازوان‘‘ بھی شامل تھی، جس کے صفحات کی تعداد 367 ہے. اس دِلکَش اور دلفریب کتاب کو معروف پبلشر بک کارنر، جہلم نے انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ شائع کیا ہے، اس کا اندازہ کتاب کے سرورق پر پہلی نظر پڑتے ہی ہوجاتا ہے۔
اس خوب صورت اور قابلِ تعریف کتاب پر تفصیلی تبصرہ میں نے اپنے ایک کِتاب دوست محترم عمر شاہد تگہ (سب انسپکٹر پنجاب پولیس) کی وال پر پڑھا تھا اور اِسی وقت اِسے خرید کر پڑھنے کا فیصلہ کیا اور آج الحمدللّٰہ اس مقصد میں سرخرو ہوا۔
عامر ہاشم خاکوانی صاحب پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی ہیں اور روزنامہ 92 اخبار میں ان کے کالم بھی شائع ہوتے ہیں. اس وقت ان کے دل چسپ اور معلوماتی کالموں کے مجموعوں پر مشتمل کتاب ’’وازوان‘‘ پر اپنا جائزہ پیش کرتا ہوں۔
مصنف ’’وازوان‘‘ میں، عسکریت پسند/ گوریلا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے احمد عمر سعید جو عمر شیخ نام سے مشہور ہوا جس نے ایک امریکی صحافی ڈینئیل پرل کو بڑے ڈرامائی انداز میں قتل کروادیا تھا، اُس پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں اور دل چسپ انداز میں قارئین کو تاریخ سے روشناس کرواتے ہیں۔
عربی ادب اور حکایات میں ”بلوغ الارب‘‘ زمانہ جہالت کے حالات پر مشتمل کتاب اور حاتم طائی کی سخاوت کو اس انداز میں متعارف کرواتے ہیں کہ پڑھنے والا داد دیے بنا رہ نا سکے۔ تصوّف کے موضوع پر سرفراز شاہ صاحب کا تفصیلی انٹرویو لکھتے ہیں اور تصوف سے لگاؤ رکھنے والے دوستوں کے لیے نہ صرف ہیرے کی مانند قیمتی اور نایاب گفتگو اس تحریر میں پڑھنے کو ملتی ہے بلکہ تصوف کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے اعتراضات کو دور کرنے میں بھی مدد فراہم ہوتی ہے.
مصنف عملِ خیر کے موضوع پر رمضان المبارک میں کیے جانے والے مختصر اور جامع اعمال کرنے کی گزارش کرتے ہیں جن کو کرنے سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو مزید قیمتی بنایا جاسکتا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ان اعمال کو تفصیل سے پڑھنے والے، اپنی زندگی میں ان کو اپنانے کی کوشش ضرور کریں گے۔
عامر ہاشم خاکوانی سبق آموز موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو ایسی شخصیات کا ذکر کرتے ہیں جو کبھی اپنے زمانے میں بہت نامور اور مشہور ہوا کرتی تھیں پھر حالات کی گردشوں نے انہیں گم نام اندھیروں میں بکھیر دیا اور وہ اب پردہ سکرین سے بہت دور ہیں۔ اسے تفصلاً پڑھنے سے زندگی کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
مصنف زندگی کے رنگ بکھیرتے ہوئے کتب بینی میں دل چسپی رکھنے والے دوستوں کو حیرت انگیز، دل چسپ اور علم سے بھرپور فکشن اور نان فکشن ناولوں اور دل چسپ تاریخی کتابوں سے متعارف کرواتے ہیں. یہ معلومات کتابوں سے عشق کرنے والے قارئین کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں. ان میں قدیم اور عظیم ناولوں اور تاریخی کتابوں کا تذکرہ مُصنّف اس انداز میں کرتت ہیں کہ پڑھنے والا موضوع ختم ہونے سے پہلے انہیں منگوا کر اپنی ٹیبل پر رکھ لے اور ان کو پڑھنے کی تیاری شروع کر دے۔
پاکستانی سیاسی تاریخ اور مختلف سیاستدانوں کے بارے میں ایسی معلومات پڑھنے کو ملتی ہے جس کے بعد قارئین کے سامنے ان شخصیات کی حقیقت واضح ہو جائے اور عوام ان سیاسی مداریوں کی خاطر کبھی بھی آپس میں دست و گریباں نہ ہوں۔ ساتھ ہی مصنف اس کتاب میں، محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان مرحوم کے متعلق وہ حقائق سامنے لاتے ہیں جن سے آج تک بہت ہی کم لوگ واقف ہوں اور پڑھنے کے لائق ہیں۔
فلموں سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں کے لیے ایسی سنسنی خیز اور عمدہ فلموں کا انتخاب کرتے ہیں جو دیکھنے والوں پر اپنا سحر چھوڑتی ہیں، دل چسپی رکھنے والے مصنف کی پسند پر داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
کتاب میں شامل سب سے آخری دو کالموں میں عامر ہاشم خاکوانی ایسے ایسے خوش ذائقہ، لذیذ، مزے دار اور دلفریب پکوانوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن کے بارے میں پڑھتے ہوئے اُن کا ذائقہ زبان پر محسوس ہونے لگتا ہے گویا یہ کتاب اپنے صفحات پر ایسے مضامین کی تکمیل رکھتی ہے جو ہر طرح کے ذوق و شوق رکھنے والے قاری کے ذہن پر اپنا نقش اور دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، بشرطیکہ اس کتاب ’’وازوان‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں