نوجوان شاعر، سمیع نویدؔ کی غزل گوئی ”ہجرتوں کا انخلاء‘‘ کی روشنی میں – محمد اکبر خان اکبر

سمیع نوید اُردو شاعری میں نوجوان شعراء کا روشن اور معتبر حوالہ ہیں. ان کی غزل گوئی پر بات کرنے سے پہلے یہ تحریر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُردو کے شعری منظر نامے پر غزل نگاری کی اہمیت و افادیت دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ غزل مقبول ترین صنفِ سخن تسلیم کی جاتی ہے.
یہ بات تو ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اُردو میں غزل، فارسی سے آئی. فارسی شاعری کی گود میں پروان چڑھی مگر اس کی نشوونما، خالصتاً برصغیر میں ہوئی. اس وقت بھی پاکستان میں غزل گوئی کا دور دورہ ہے. ایسے میں ایک نوجوان شاعر کی غزلیں اور شاعرانہ محاسن، سخن شناسوں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہے. سمیع نوید کی غزلوں میں ہجر جدائی کے موضوعات دکھائی دیتے ہیں.

کسی کا سایہ یہاں رات بھر تھا پہلے ہی
ہماری نیند کو خوابوں کا ڈر تھا پہلے ہی
تمہارا بولنا بھی بے اثر سا ہونے لگا
تمہارا دیکھنا تو بے اثر تھا پہلے ہی

ان کی غزلیات بے بسی، درد و الم اور ملال کی کیفیات سے مالا مال ہیں البتہ ان کی غزلوں میں غیر متزلزل ارادہ اور استقلال بھی دکھائی دیتا ہے. کیفیتِ یاس ان کی شاعری میں جلوہ فگن ضرور ہے لیکن نا امیدی اور مایوسی کے اس ماحول میں بھی خود احتسابی اور خودداری ان کی غزلیات میں عمومی طور پر دکھائی دیتی ہے.

گلی میں کوئی نہیں ہے یہ دل اداس بھی ہے
تیرے مکان کی چابی ہمارے پاس بھی ہے
اگرچہ پاس ہوں لیکن میں اپنے پاس نہیں
تو مجھ سے دور بھی اور میرے پاس بھی ہے

ان کی شاعری میں حرفِ شکایات، شکوہ اور احتجاج بھی دکھائی دیتا ہے لیکن اس شکوہ و شکایت کے علاوہ سکون و اطمینان بھی کہیں کہیں جلوہ فگن ہے، جیسے شاعر نے ان مشکلات سے سمجھوتہ کر رکھا ہو.

وفا فریب ہے سارا خلوص سازش ہے
کسی کو چھوڑنے کی یہ بھی اچھی کوشش ہے

سمیع نوید تحیر خیزی اور حیرت کے ملے جلے جذبات بھی اپنی غزل میں سمو دیتے ہیں. بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر تنہائی کی جاں گسل کیفیت کا شکار ہے اور اسی کیفیت میں تنہائی اس قدر غالب ہو جاتی ہے کہ تحیر اور حیرت اس کے وجود سے پھوٹ پڑتی ہے.

میں انتظار میں رہتا ہوں رات ہوتی ہے
تو آتا ہے بھی تو اب اس قدر نہیں آتا

ایک اور شعر پڑھیے:

وہ جا رہا ہے مجھ کو بتاتا تو کم سے کم
کچھ دور اس کے ساتھ میں جاتا تو کم سے کم

سمیع نوید کا یہ مجموعہ کلام ان کی غزل میں موجود رومانویت اور اس سے متصل دیگر داخلی اور خارجی کیفیات کی بہترین عکاسی کرتا ہے. ان کا رومانوی انداز منفرد اور جداگانہ ہے جس پر تخیل کی گہری چھاپ موجود ہے.

کسی کے حسن کا قصہ نہ اب کسی سے کہو
اگر ضروری ہے کہنا تو پھر مجھ ہی سے کہو

ایک اور جگہ کہتے ہیں:

پتوں کے ساتھ ساتھ ہی باتیں پڑی رہیں
خاموش راستوں پہ بھی گھاتیں پڑی رہیں

ان کے اس مجموعہ کلام میں موجود اشعار ذاتی کرب اور احساسِ ذات کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں. سمیع نوید کو اپنے کرب کا خوب ادراک ہے اور وہ اس کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنا خوب جانتے ہیں. ان کی تخلیقی صلاحیت، راست گوئی، استقلال محبت، رجائیت اور قلبی کیفیات قاری کو متوجہ کرنے کی اور اپنی گرفت میں لینے کی پوری پوری صلاحیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے شاعر کی ہر دل عزیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے. سمیع نوید کے اس شعری مجموعے کا فکری اور فنی جائزہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعر نہ صرف فکری اعتبار سے پختگی کا حامل ہے بلکہ شعری معیار پر بھی کامل دسترس رکھتا ہے. یہ دونوں چیزیں مربوط ہو کر آگے چلتی ہیں اور رجائیت کے منظر نامے کو جنم دیتی ہیں جہاں کہیں کہیں یاس حبس اور گھٹن بھی دکھائی دیتی ہے جو رجائیت، رومانویت اور دیگر انسانی رویوں سے تشکیل پاتی ہے.

ہمیں سے لوگ محبت کا غم نہیں کرتے
تو خود ہی سوگ منا ہم کو سوگوار نہ کر

ایک شعر میں کہتے ہیں:

موسم گل میں یہاں پھول نکل آئیں گے
ان درختوں سے میرا نام مٹا دھیرے چل

مزید کہتے ہیں:

تو میرے غم کی رفاقت سے ڈر گیا جیسے
تیرا ارادہ بھی شاید بچھڑنے والا تھا

سمیع نوید کی غزلیات میں جدیدیت کا رنگ بھی کافی نمایاں ہے. ان کی غزل کے چند اور اشعار ملاحظہ کیجیے:

دنیا سے جاتے وقت بھی خالی تھے جس کے ہاتھ
وہ شخص ساری عمر کماتے ہوئے مرا
ایک شخص جس نے شہر سے چوری نہ کی کبھی
وہ جگنو کے خواب چراتے ہوئے مرا
جنگل میں ساری رات تڑپتا رہا جو شخص
کچھ دوستوں کا نام بتاتے ہوئے مرا

سمیع نوید بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور وہ اس صنف کو اظہارِ ذات کا بہترین وسیلہ تصور کرتے ہوئے اپنی شاعرانہ مزاجی سے اسے خوب صورت انداز میں قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں.

یقین مان کے ان لاکھوں شاعروں میں نویدؔ
نہ کوئی میر کہیں ہے نہ کوئی آتش ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں