”مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو‘‘، ممتاز شاعرہ شگفتہ شفیق کا شگفتہ کلام – محمد اکبر خان اکبر

شگفتہ شفیق کا مجموعۂ کلام ”مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو‘‘ اردو کے نسائی شعری ادب میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اس کتاب میں شاعرہ نے اپنی فکری وسعت، جذباتی گہرائی اور مشاہداتی بصیرت کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ شاعری کا مطالعہ قاری کے دل پر ایک دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔
شگفتہ شفیق کی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ موجود ہے۔ وہ محبت، انسانیت، معاشرتی مسائل اور فطرت جیسے موضوعات کو اپنے منفرد انداز میں بیان کرتی ہیں۔

محبت میں دل کے فسانے بہت ہیں
مجھے راز دل کے چھپانے بہت ہیں

ان کی شاعری میں ایک نغمگی اور دلکشی ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ لکھتی ہیں کہ:

مرے لہجے میں نغمگی تم سے
مرے چہرے کی دلکشی تم سے
مری دنیا میں زندگی تم سے
پیار تم سے ہے دوستی تم سے

”مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو‘‘ کے اشعار میں محبت اور جدائی کی کیفیات کے ساتھ ساتھ عورت کے احساسات، جذبات اور جدوجہد کو بھی بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کسی مخصوص جذبے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ قاری کو زندگی کی مختلف جہتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

تھی محبت کی کہانی زندگی
ہو چلی ہے رائگانی زندگی
کر رہی ہے ترجمانی زندگی
بے وفا ہے یہ سہانی زندگی

فنی محاسن کی بات کی جائے تو ان کے شاعرانہ تخیل اور تصور کی اعلی اور منفرد تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے:

طاق نسیاں پر امنگوں کو سجا دیتی ہے
زندگی مجھ کو نئے خواب دکھا دیتی ہے

شگفتہ شفیق کی شاعری میں زبان نہایت سادہ اور عام فہم ہے، لیکن اس میں ایک غیر معمولی خوبصورتی اور گہرائی موجود ہے۔ ان کے اشعار قاری کے دل کو چھوتے ہیں اور اسے غور و فکر پر مجبور کرتے ہیں:

محبت کا میری یہ اقرار ہے
وہ دلدار میرا تو غم خوار ہے
کی اس نے تو پھولوں کی بھرمار ہے
یہ اس کی محبت کا اظہارہے

شگفتہ شفیق کی غزلوں اور نظموں میں ایک نغمگی، غنائیت اور موسیقیت پائی جاتی ہے جو پڑھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے۔ شاعرہ کی یہ خوبی ان کی شاعری کو گنگنانے کے قابل بناتی ہے، جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے:

کبھی دل کو اپنے لگا کر تو دیکھو
مجھے اپنے دل میں بسا کر تو دیکھو
مرے پیار پر ناز کرنے لگو گے
مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو
تمہیں بھول جائے گی ساری خدائی
ذرا میری دنیا میں آکر تو دیکھو

شگفتہ شفیق کی فنی پختگی ان کی غزلوں کے اشعار میں جھلکتی ہے۔ ان کا ہر شعر فکری اور فنی دونوں اعتبار سے مکمل ہے۔ وہ تشبیہات، استعاروں اور علامتوں کے استعمال سے اپنی بات کو مؤثر طریقے سے بیان کرتی ہیں:

دوست کے روپ میں دشمن ہیں کچھ احباب مرے
تیرگی سے چلے آتے ہیں ڈرانے مجھ کو

ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی اردو شاعری کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے جدید موضوعات اور خیالات کو بڑی مہارت سے پیش کرتی ہیں:

کڑی تھی دھوپ اور سایہ نظر نہیں آیا
ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں آیا

”مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو‘‘ شگفتہ شفیق کی فنی مہارت، ان کی گہری سوچ اور جذباتی گہرائی کا آئینہ دار ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی ارمغان ہے بلکہ شاعری سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی ایک لازوال تخلیق ہے۔ شگفتہ شفیق نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ اردو شاعری میں ایک منفرد مقام کی حامل ہیں۔

غضب کا آج یہ مطلع ہوا ہے
تمہارے عشق کا چرچا ہوا ہے

یہ کتاب ہر اس قاری کے لیے قابلِ مطالعہ ہے جو زندگی کی تلخیوں، خوشیوں، محبتوں، اور دکھوں کو شاعری کی صورت میں محسوس کرنا چاہتا ہے۔