”خود کی تلاش“، اختر سردار چوہدری کی کہانی کاری – محمد اکبر خان اکبر

یوں تو اختر سردار چوہدری ایک معروف اور کہنہ مشق صحافی، کالم نگار اور فیچر رائٹر ہیں البتہ شعبہ ادبِ اطفال میں بھی ان کی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں. ان کی کہانیاں بچوں میں بہت مقبول ہیں. جناب اختر سردار چوہدری کی دیگر ادبی سرگرمیوں میں شاعری اور معاشرتی و سماجی حقائق و مسائل آشکار کرتی کہانی کاری بھی ہے. وہ ہمدرد، مخلص اور درد دل رکھنے والے مصنف ہیں جو آج کے اس پر فتن دور میں اچھائیوں کے فروغ اور برائیوں کی روک تھام میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں.
زیرِ تبصرہ کتاب ”خود کی تلاش“ میں ان کی نو کہانیاں شامل ہیں جو معاشرتی مسائل اور سماجی مصائب کی منظر کشی کرتی محسوس ہوتی ہیں. مصنف سماجی استفادے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے. ان کی کہانیوں میں انسانی زندگی اور اس کی مختلف کیفیات کی کارفرمائی جابجا نظر آتی ہے. وہ اپنی بیشتر کہانیوں میں مقصدیت کو اولیت دینے کے باوجود دلچسپ انداز میں پیش کرنے کے ہنر سے خوب واقف ہیں. ان کی یہ کتاب اعلٰی کہانیوں کا مجموعہ ہے. اسی کتاب کے آخر میں کسوال کے فرزند رشید محمد ہشام کی داستانِ زیست ”خود کی تلاش“ بھی شامل ہے جو اس کتاب کا غالباً سب سے بہترین حصہ ہے اور یہی کتاب کا عنوان بھی ہے. یہ سچی کہانی بہت دلچسپ اور پر اثر ہے جو انسانوں کو مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا سکھاتی ہے. یہ بات ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسان تجربات اور اغلاط سے سیکھتا ہے. مشہور مقولہ ہے کہ عقلمند دوسروں کی غلطیوں سے سبق اندوز ہو کر اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں. محمد ہشام نے جس طرح دیارِ غیر میں رہتے ہوئے وطن کی خدمت کی ہے وہ انتہائی قابل تحسین و قابل تقلید ہے. یہ داستانِ حیات جذبہ حب الوطنی کی شعاوؤں سے منور ہے. باہر محنت کرنے والے پاکستانیوں کو اپنے وطن میں سرمایہ کاری ضرور کرنی چاہیے تا کہ اہلِ وطن کا حق ادا ہو سکے.
”وادی موت“ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے پسِ منظر میں لکھی گئی ہے جس میں جذبہ جہاد و حریت کو نہایت اعلٰی طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے. یوں تو ان کی اس کتاب کی تمام کہانیاں منفرد اور دلچسپ انداز تحریر کی حامل ہیں جن میں غلام، پکھی واس، انمول رشتے، بلیک ڈے، آدھ کھلے پھول، فیصلہ، وائرس اور وادی موت شامل ہیں البتہ ”خود کی تلاش“ ایک انمول اور سبق آموز سرگزشت ہے. ان کی کتاب میں مسجع و مقفیٰ عبارات موجود نہیں بلکہ ان کے اسلوب تحریر میں سادگی، روانی، شستگی اور برجستگی کے ساتھ ساتھ عام فہم جملوں کا استعمال موجود ہے، جس سے اس کتاب کی کہانیاں ادبی حلقوں کے علاوہ عوام الناس میں مقبولیت کا درجہ پا رہی ہیں.
سردار اختر چوہدری ادبی محاذ پر نہایت سرگرم ہیں اور مختلف اصناف میں طبع آزمائی تواتر سے کرتے رہتے ہیں. ان کی یہ کتاب ملک کی ہر لائبریری میں موجود ہونی چاہیے اور ہر قاری تک پہنچنی چاہیے تا کہ معاشرے میں نیکی اور محنت کا جذبہ پروان چڑھے.

سفرِ حیات کے روشن و تاریک پہلوؤں اور تلخ و شیریں یادوں‌ کی منتخب کہانیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں