راولپنڈی: ممتاز مصنف اور ادیب حسنین نازشؔ کے تازہ ترین سفرنامے ”100 دن امریکا میں‘‘ کی ایک پروقار تقریبِ رونمائی پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ادبی تنظیم ”قلم قافلہ پاکستان‘‘ اور ”پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی‘‘ کے اشتراک سے منعقد کی گئی. اس تقریب میں ادبی شخصیات، دانشوروں اور کتاب دوستوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس پروقار تقریب کی صدارت معروف سکالر اور دانشور ڈاکٹر مقصود جعفری نے کی. مہمانان خاص ڈاکٹر نثار ترابی اور ڈاکٹر عبدالحمید خان عباسی تھے. مہمانان اعزاز حمید قیصر، آغا قیصر عباس اور فرخندہ شمیم، جب کہ مصنف کے قریبی دوست ناظم غوری نے کتاب اور مصنف پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف سکالر، شاعر اور کالم نگار نیّر سرحدی نے انجام دیے۔
مقررین نے حسنین نازشؔ کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا “100 دن امریکا میں‘‘ محض ایک سفر کا احوال نہیں، بلکہ امریکی معاشرے کا ایک گہرا ثقافتی اور سماجی مشاہدہ ہے۔
صدرِ مجلس ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنے خطاب میں مصنف کی باریک بینی کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بہترین سفرنامہ مختلف ثقافتوں کے درمیان دوریوں کو مٹاتا ہے، اور نازشؔ نے اپنے مشرقی زاویہِ نگاہ کو برقرار رکھتے ہوئے امریکی طرزِ زندگی، طرزِ حکومت اور وہاں کے تنوع کو انتہائی مہارت سے قلمبند کیا ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نثار ترابی نے کتاب کے اسلوب کو سراہا اور نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سفرنامہ حالیہ دور میں لکھے گئے امریکی احوال پر مشتمل سفرناموں میں مصنف کے اسلوب کی انفرادیت کی وجہ سے اپنی ایک الگ شناخت بناتا دکھائی دیتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ مری کی دھرتی سے اردو سفرنامے کے دو سفرنامہ نگار ایسے ہیں جنہوں نے اپنے سفرناموں کی وجہ سے نام کمایا جن میںایک قمر علی عباسی ہیں جن کے تیس کے قریب سفرنامے شائع ہو چکے ہیں اور دوسرے حسنین نازشؔ ہیں جن کے سفرناموں کی تعداد درجن کے قریب پہنچ چکی ہے.
فرخندہ شمیم، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید خان عباسی، حمید قیصر، آغا قیصر عباس اور نیّر سرحدی نے بھی کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نازشؔ کا اسلوبِ تحریر دلچسپ، سلیس اور فکری طور پر متحرک ہے، جسے پڑھ کر قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود مصنف کے ساتھ سفر کر رہا ہو۔
قلم قافلہ اور پنجاب آرٹس کونسل کے نمائندوں نے مقامی ادیبوں اور دانشوروں کو مسلسل ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ادب معاشرے کی تربیت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ایک حیاتیاتی کردار ادا کرتا ہے۔
ایک سفرنامہ لکھنے کے لیے تجسس اور ایمانداری کا ایک انوکھا امتزاج درکار ہوتا ہے۔ حسنین نازشؔ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ان دونوں خوبیوں سے مالا مال ہیں۔
مصنف نے تقریب میں بطور مہمان اور نقاد شرکت کرنے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امریکہ میں قیام کے دوران پیش آنے والے اپنے چند اہم ترین واقعات بھی سامعین کے ساتھ شیئر کیے۔
تقریب کے اختتام پر ”100 دن امریکا میں‘‘ کی باقاعدہ نقاب کشائی کی گئی- اس اہم ادبی اجتماع میں شہر کے نامور اہل علم و دانش نے بھرپور شرکت کی۔











