اس ہفتے میں کتابیں بیچنے کے لئے میانی صاحب گیا۔
مردہ دل زندہ لوگ اب کتابیں کہاں خریدتے ہیں!
قبرستان میں کافی اچھا رسپانس ملا۔
کئی مُردوں نے جنتریاں خریدیں، کئی نے ڈائجسٹ،
ایک نے ابن صفی کا ناول مانگا۔
انتظار حسین کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا،
’’آپ تو کسی اور قبرستان میں مقیم ہیں۔‘‘
وہ مسکرائے، ’’ہاں، منٹو سے ملنے آیا ہوں۔
ناصر کاظمی کی کلیات ہیں تمہارے پاس؟‘‘
میں نے منٹو سے پوچھا،
’’آپ کوئی کتاب نہیں خریدیں گے؟‘‘
منٹو نے روکھے لہجے میں کہا،
’’نہیں۔ مجھے بس ایک قلم اور سادہ کاغذ کا دستہ دے دو۔‘‘
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق
”چاک‘‘ کے شاعر، احمد وقاص کا سفرِ سخن – سجاد حیدر
دبئی کا سفر — ریت، روشنیوں اور رنگوں کی دنیا – عدنان اقبال
صاحبِ اسلوب ادیب، شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق کی خودنوشت ”بکھری ہے میری داستاں‘‘ – محمد عمران اسحاق
نامور ادیب اور صحافی، راجہ انور کا کالمی مجموعہ ”ماضی کا حمام‘‘ – محمد عمران اسحاق
”آجڑی دا خاب‘‘، پاؤلو کوئیلو کے ناول ”الکیمسٹ‘‘ کا سرائیکی ترجمہ — ایک ادبی و فکری شاہکار – حسنین نازشؔ
منفرد لب و لہجہ کے شاعر، سید طاہر کا مجموعہ کلام، ”زرِ بینائی‘‘ کی کھوج میں – محمد اکبر خان اکبر











