تین نومبر کی صبح جب میں دبئی کے لیے روانہ ہوا تو دل میں ایک عجیب سی خوشی اور تجسس تھا۔ دبئی صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک خواب ہے. ریت کے سینے پر کھڑا ہوا، روشنیوں میں نہایا ہوا، جدیدیت اور روایت کا حسین امتزاج. تیرہ دسمبر کو واپسی تک یہ خواب حقیقت بن چکا تھا اور یادوں کا ایک خوبصورت البم میرے دل میں محفوظ ہو گیا تھا۔
دبئی، جدید دنیا کا شاہکار:
دبئی پہنچتے ہی سب سے پہلے جس چیز نے متاثر کیا وہ اس شہر کی ترتیب، صفائی اور رفتار تھی۔ ہر سڑک، ہر عمارت، ہر نظام ایک منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں وقت کی قدر کی جاتی ہے اور خوابوں کو حقیقت بنانے کا ہنر سکھایا جاتا ہے۔
ڈیرہ، پرانی دبئی کی خوشبو:
میرے سفر کا پہلا اہم پڑاؤ ڈیرہ تھا، جو دبئی کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔ تنگ گلیاں، روایتی بازار، مسالوں کی خوشبو اور سونے کی چمک دمک، یہ سب کچھ دبئی کی تاریخ کی گواہی دیتا ہے۔ یہاں گھومتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جدید دبئی کے پیچھے ایک سادہ مگر مضبوط ماضی کھڑا ہے۔
ابنِ بطوطہ مال، تاریخ اور جدیدیت کا ملاپ:
ابنِ بطوطہ مال ایک منفرد تجربہ تھا۔ ہر سیکشن کسی نہ کسی ملک کی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ چین، مصر، اَندلُس اور ہندوستان جیسے حصے دیکھ کر یوں لگا جیسے چند گھنٹوں میں دنیا کی سیر کر لی ہو۔ یہ مال صرف خریداری کا مرکز نہیں بلکہ ایک ثقافتی سفر بھی ہے۔
ڈیزرٹ سفاری، ریت کا جادو:
ڈیزرٹ سفاری میرے سفر کا سب سے سنسنی خیز حصہ تھا۔ سنہری ریت کے ٹیلوں پر گاڑیوں کا سفر، سورج کا غروب ہونا، اور صحرا کی خاموشی. یہ سب لمحے روح تک اتر گئے۔ عربی کھانے، روایتی رقص اور آگ کے شعلوں کا کھیل اس رات کو ناقابلِ فراموش بنا گیا۔
گلوبل ویلیج، دنیا ایک جگہ:
گلوبل ویلیج واقعی دنیا کو ایک جگہ سمیٹنے کا نام ہے۔ مختلف ممالک کے پویلین، روایتی کھانے، ثقافتی شو اور رنگا رنگ ماحول. یہ سب دیکھ کر یوں لگا جیسے زمین کے مختلف کونے ایک ہی شام میں دیکھ لیے ہوں۔ یہاں ہر قدم پر ایک نئی ثقافت مسکراتی ہوئی ملتی ہے۔
مال آف دبئی، شان و شوکت کی انتہا:
مال آف دبئی صرف ایک شاپنگ مال نہیں بلکہ ایک مکمل دنیا ہے۔ بلند و بالا شیشے، برانڈز کی قطاریں اور اندر موجود برفانی دنیا (سکی دبئی) دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ جگہ دبئی کی شان و شوکت اور عالمی مقام کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈریگن مارٹ، ایشیائی رنگ:
ڈریگن مارٹ خاص طور پر ایشیائی خریداروں کے لیے ایک جنت ہے۔ یہاں ہر چیز مناسب داموں اور وسیع تنوع کے ساتھ مل جاتی ہے۔ پاکستان اور چین کی ثقافت کی جھلک یہاں واضح نظر آتی ہے۔
آئیکیا سٹور، سادگی اور خوبصورتی:
آئیکیا سٹور میں داخل ہوتے ہی سادگی، نفاست اور جدید طرزِ زندگی کا احساس ہوتا ہے۔ ہر کمرہ، ہر ڈیزائن ایک کہانی سناتا ہے۔ یہ جگہ ثابت کرتی ہے کہ خوبصورتی مہنگی نہیں بلکہ سلیقے کی محتاج ہوتی ہے۔
عجمان: سکون کا کنارہ:
سفر کے اختتام پر عجمان جانا روح کو سکون دینے والا تجربہ تھا۔ دبئی کی تیز رفتار زندگی کے مقابلے میں عجمان ایک پرسکون، سادہ اور دلکش جگہ ہے۔ سمندر کی لہریں، کھلی فضا اور خاموشی، یہ سب ذہن کو تازگی بخشتی ہیں۔
واپسی، یادوں کا سرمایہ:
تیرہ دسمبر کو جب واپسی کا وقت آیا تو دل بھر آیا۔ دبئی نے مجھے صرف عمارتیں اور مالز نہیں دکھائے بلکہ یہ سکھایا کہ خواب اگر واضح ہوں اور محنت مسلسل ہو تو ریت پر بھی شہر بسائے جا سکتے ہیں۔ یہ سفر میرے لیے صرف تفریح نہیں بلکہ ایک تجربہ، سبق اور یادگار کہانی تھا، جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔











