اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے بیس رکنی وفد نے معروف سماجی شخصیت، افسانہ نگار، مضمون و انشائیہ نگار، ادبِ اطفال کی خالق، گرلز گائیڈ کی ٹرینر اور دس کتابوں کی مصنفہ محترمہ نعیم فاطمہ علوی کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ پر ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست میں شرکت کی۔ اس موقع پر جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والے نام وَر اہلِ قلم بھی موجود تھے۔
محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقامتی منصوبہ جیسے اقدامات ڈاکٹر نجیبہ عارف کی ادب اور انسان سے گہری محبت کا مظہر ہیں۔یہ منصوبہ محض ایک خیال نہیں بلکہ نہایت دانش مندی سے ترتیب دی گئی سرگرمیوں کا جامع سلسلہ ہے، جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی چھت تلے مہمانوں کی صورت میں پورا پاکستان جمع ہے۔
اپنی گفتگو میں محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے بتایا کہ ان کے گھر پر باقاعدگی سے ماہانہ ادبی نشستیں منعقد ہوتی ہیں، جن کا آغاز ’’کاروانِ ادب‘‘ کے عنوان سے ہوا۔ بعد ازاں لوک ورثہ میں موسیقی کے پروگرام منعقد کیے گئے جن سے کئی فنکار سامنے آئے۔ اسی تسلسل میں انھوں نے اپنے گھر پر ’’مناثرہ‘‘ کے عنوان سے نثر نگاروں کی دو گھنٹے پر مشتمل نشستوں کا آغاز کیا، جو آج تک جاری ہیں اور جن میں ادب کی ہر صنف پر گفتگو ہوتی ہے۔ انھی نشستوں کے اثرات کے طور پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کی ’’ادبی رابطے‘‘ کی نشستوں کا آغاز ہوا، جو اب ملک بھر میں مقبول ہو چکی ہیں۔
اس موقعے پر اقامتی منصوبے کے شرکا نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، جب کہ محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے ان سے منصوبے اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے فیڈ بیک بھی حاصل کیا۔
ادبِ اطفال پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھنا نہایت مشکل اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ ابتدا میں وہ خود اس صنف کو عمومی ادب کے مقابلے میں کم تر سمجھتی تھیں، مگر جب انھوں نے اس میدان میں قدم رکھا تو احساس ہوا کہ یہ کتنا حساس اور اثر انگیز کام ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سنگاپور میں بچوں کو ادب اور کتابوں سے جوڑنے کے موضوع پر ورکشاپ میں شرکت کر چکی ہیں اور بچوں کے لیے ان کی تحریریں اسی تربیت کا ثمر ہیں۔
نشست کے دوران میں محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے اپنے افسانوی مجموعے ’’مسیحا‘‘ سے افسانہ ’’ماں جی کا سویٹر‘‘ سنایا، جس نے سامعین کو ایک گہرے جذباتی تاثر میں مبتلا کر دیا۔ افسانہ اگرچہ فضا کو قدرے سوگوار کر گیا، تاہم اسے بے حد سراہا گیا اور انھوں نے خوب داد سمیٹی۔

مضافات کو ادب میں جگہ دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے حیدرآباد کی بستیوں کو قریب سے دیکھا اور انھیں اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا۔ ٹیلنٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صلاحیت کسی کی میراث نہیں ہوتی بلکہ یہ کہیں بھی، کسی بھی کونے میں ودیعت ہو سکتی ہے، اور اقامتی منصوبے کے شرکا اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ مضافات میں رہنا تخلیقی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
محترمہ نعیم فاطمہ علوی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر ادیب چاہے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس موقعے پر محترمہ قیصرہ علوی نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شرکا سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر اپنی ذات اور ادب کے ذریعے تبدیلی کا سبب بنیں۔
نشست کے آخری حصے میں معروف نعت خواں اور غزل گو جناب صبغت اللہ نے صوفیانہ کلام پیش کیا، جب کہ معروف گلوکارہ محترمہ محمودہ قمر نے فیض احمد فیض کی نظم سمیت مترنم کلام سنا کر محفل کو وجدانی کیفیت میں مبتلا کر دیا اور فضا کا رنگ ہی بدل دیا۔
بعد ازاں مہمانوں کو پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا، جس کے دوران بھی ادبی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ نشست کا اختتام یادگاری گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا، یوں یہ ادبی شام علم، فن اور محبت کی خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔











