اردو ادب میں خودنوشت سوانح عمریوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے مگر ہر دور میں کوئی نایاب کتاب ایسی بھی منظر عام پر آتی ہے جو نہ صرف اس صنف کو نئی بلندیوں پر پہنچاتی ہے بلکہ قاری کے دل و دماغ پر اپنے گہرے نقوش ثبت کر جاتی ہے۔ محمد اظہار الحق صاحب کی خودنوشت ”بکھری ہے میری داستاں‘‘ اسی زمرے کی نادر و نایاب کتاب ہے جو اپنے اسلوب، موضوع اور پیشکش کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتی ہے۔
محمد اظہار الحق صاحب اردو ادب کے ان گنے چنے ادیبوں میں سے ہیں جن کے قلم میں فکر و احساس کا نادر امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک کہنہ مشق بیوروکریٹ رہے ہیں بلکہ ایک صاحبِ اسلوب ادیب، شاعر اور کالم نگار بھی ہیں۔ ان کی شناخت ان کے کالموں کے مجموعے ”تلخ نوائی‘‘ کی وجہ سے ہے، جس میں انہوں نے معاشرتی کیڑوں اور انسانی کمزوریوں پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے۔ ان کے قلم کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تلخ حقیقتوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
”بکھری ہے میری داستاں‘‘ کی سب سے پہلی خصوصیت اس کا دل چسپ اور انوکھا اسلوب ہے۔ عام خودنوشتوں کے برعکس، مصنف نے اس کتاب کو روایتی تاریخی ترتیب میں نہیں لکھا بلکہ اس کا آغاز ان کی بھرپور جوانی سے ہوتا ہے جب وہ ڈھاکہ کے سفر پر ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے پکے لیے مشرقی پاکستان جا رہے تھے۔ یہ اسلوب قاری کو ابتدا میں ہی ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے۔
کتاب کے ہر باب کا آغاز ایک خوبصورت شعر سے ہوتا ہے جو مصنف کی شاعرانہ صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ اشعار نہ صرف باب کے موضوع سے ہم آہنگ ہوتے ہیں بلکہ قاری کو سوچ کے نئے زاویے بھی عطا کرتے ہیں۔ نثر میں روانی اور سلاست اس کتاب کو عام سوانح عمریوں سے ممتاز کرتی ہے۔
یہ کتاب محض ایک شخصی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک دور کی دستاویز ہے۔ مصنف نے 1960ء کی دہائی کے ڈھاکہ کے سیاسی اور سماجی حالات کو اپنے مشاہدات کی بنیاد پر اس طرح بیان کیا ہے کہ یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ اس دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان طلبہ کے تبادلے کے پروگرام کے تحت مصنف کا ڈھاکہ جانا، وہاں کے تعلیمی ماحول، ثقافتی رسوم اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنا – یہ سب کچھ قاری کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے۔
مصنف نے 1971ء کے سانحے سے پہلے کے حالات کو اپنے مشاہدات کی بنیاد پر اس طرح پیش کیا ہے کہ یہ کتاب سرکاری بیانیے کے متوازی ایک متبادل تاریخ کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنے ڈھاکہ کے دوستوں، ان کی محبت، اور بعد میں پیش آنے والے واقعات کا اتنی ایمانداری سے تذکرہ کیا ہے کہ قاری ان کے ساتھ جذباتی طور پر جڑ جاتا ہے۔
ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہونے کے ناتے، مصنف نے پاکستان کے سرکاری محکموں اور سول سروس کے اندرونی طریقہ کار کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ حصہ کتاب کا سب سے روشن حصہ ہے جس میں مصنف نے نہ صرف نظام کی خرابیوں کو واضح کیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے ایک دیانتدار افسر ان خرابیوں کے باوجود مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ مصنف نے اپنے تجربات میں بتایا ہے کہ کیسے انہوں نے ملٹری اکاؤنٹس میں رشوت خور افسروں سے نمٹا، دیانت دار لوگوں کو ساتھ ملا کر اصلاحات نافذ کیں، اور مخالفتوں کے باوجود اپنے عہدے پر قائم رہے۔ یہ حصہ ہر نوجوان کے لیے مشعل راہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ایمانداری اور رفاقت کا کوئی متبادل نہیں۔
خودنوشت کا وہ حصہ جس میں مصنف اپنے خاندان، گاؤں اور بچپن کی طرف لوٹتے ہیں، ادبی اعتبار سے انتہائی قیمتی ہے۔ اپنے دادا کا تذکرہ، جو حافظ قرآن اور عالم تھے، والد صاحب کے کردار کی عکاسی، اور والدہ سے والی محبت کا بیان – یہ سب کچھ اتنی محبت اور خلوص سے کیا گیا ہے کہ قاری اپنے گھر بیٹھا یہ سب بخوبی محسوس کرتا ہے. پھر ان سب کی وفات کا تذکرہ ایسے افسردہ انداز میں کیا ہے کہ پڑھنے والا اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتا۔
مصنف کے گاؤں کا تذکرہ، پہاڑوں کے درمیان کٹھن راستے، اونٹ گھوڑوں کا سفر – یہ سب کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ قاری خود کو وہاں موجود پاتا ہے۔ یہ حصہ جدید شہری زندگی میں گم ہوتی جا رہی ان قدروں کی بہترین عکاسی کرتا ہے جنہیں ہم ترقی کے نام پر بھلا بیٹھے ہیں۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان اور بیان کا سحر انگیز انداز ہے۔ مصنف نے نثری شاعری کے عناصر کو اس طرح اپنی تحریر میں سمودیا ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی معرکۂ آرا افسانہ پڑھ رہا ہے۔ الفاظ کا چناؤ، جملوں کی بناوٹ، اور خیالات کی ترتیب – ہر چیز اپنے مقام پر ہے۔
کتاب کا ہر صفحہ قاری کو اگلے صفحے کی طرف لے جانے کی قوت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے 335 صفحات قاری کو بغیر کسی تکان کے آخر تک پہنچا دیتے ہیں۔ بک کارنر جہلم نے اس کتاب کو نہایت خوب صورت اور شستہ انداز میں شائع کیا ہے۔ کتاب کی printing، binding اور paper quality اعلیٰ معیار کی ہے جو اس کی ادبی اہمیت کے عین مطابق ہے۔
اس کتاب کی ایک انوکھی بات یہ ہے کہ مصنف نے اپنی بیگم، بچوں اور دیگر ذاتی معاملات کو شاید اگلے حصے کے لیے چھوڑ دیا ہے، اس لیے اس سوانح حیات کو پڑھنے والا ہر قاری اگلے حصے کے منتظر رہتا ہے۔
بلاشبہ ”بکھری ہے میری داستاں‘‘ اردو ادب میں خودنوشت سوانح عمری کی صنف میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک شخص کی کہانی ہے بلکہ ایک پورے دور، ایک نظام، اور ایک تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر طالب علم کو اس کتاب میں اپنی یونیورسٹی لائف کی جھلک نظر آئے گی۔ ہر سفر کرنے والا سیاح اس میں سیاحت کا لطف پائے گا۔ ہر نوکری پیشہ فرد کے لیے یہ مشعلِ راہ ہے۔ ہر عام قاری کے لیے یہ زندگی گزارنے کا سبق ہے۔ میں ہر کتاب دوست کو اس کتاب کے مطالعہ کی تلقین کرتا ہوں۔ یہ کتاب نہ صرف آپ کے ذوق کو تسکین بخشے گی بلکہ آپ کے فکری افق کو وسیع کرے گی۔ محمد اظہار الحق صاحب نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف اپنی داستان سنائی ہے بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہماری اپنی داستان کیا ہے اور ہم اسے کیسے رقم کر رہے ہیں اور یہی کسی بھی عظیم کتاب کی پہچان ہے۔

عالی جناب محمد اظہار الحق کی نظم و نثر کا ایک زمانہ قائل ہے۔ دنیا اخبار میں شائع ہونے والے ان کے بےشمار کالم ادب پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کتاب قبلہ گاہی کی آپ بیتی ہے، جگ بیتی بھی۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے کہ یہ رواں، سادہ و شگفتہ، حقیقت آمیز، عبرت آموز، اثر و تاثر سے لب ریز تحریر، ایک حق شناس و حق نیوش شاعر و ادیب کی نوشتہ ہے… اور کیا چاہیے۔
(شکیل عادل زادہ)
جیسے درسی کتب میں طالبِ علموں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بیان کریں یا ہندوستان پر اتنے حملوں کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح اُن سے اگر یہ پوچھا جائے کہ خودنوشتوں کے لکھنے کے اسباب بیان کریں تو ان کا جواب کچھ یوں ہو گا… (1) ادیب کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تو وہ خود نوشت لکھ دیتا ہے۔ (2) خودنوشت عام طور پر عمر کے آخری حصّے میں لکھی جاتی ہے۔ (3) اگر مصنف کبھی چھوٹا موٹا افسر رہا ہے تو وہ اپنی افسری کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے، اور یہ دھاک بیٹھتی نہیں، اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ (4) ادیب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے لتّے لینے ہوتے ہیں۔ یہ لتّے کس طرح لیے جاتے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔ (5) علاوہ ازیں مصنف نے اپنے کم از کم سترہ فرضی عشقوں کی روداد بیان کرنی ہوتی ہے۔ اظہار الحق کی آپ بیتی مندرجہ بالا اسباب پر پوری نہیں اُترتی۔ یہ میری پسندیدہ خود نوشت ’’جہانِ دانش‘‘ کی مانند ایک ’’جہانِ اظہار‘‘ ہے۔ آپ اس جہان میں ایک مرتبہ اتر جائیے تو آپ پر کئی جہان منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اظہار اُن چند شاعروں میں شامل ہے جو بہت زورآور اور مؤثر نثر لکھنے پر قادر ہیں… اور مجھے امید ہے کہ یہ خود نوشت ان کا ’’سوان سانگ‘‘ یا راج ہنس کا آخری گیت ثابت نہیں ہو گی۔ اُن کا تخلیقی پرندہ ہمیشہ کی طرح فضائے بسیط میں پرواز کرتا رہے گا۔
(مستنصر حسین تارڑ)












