ادبی فورم، ریاض کے زیرِ اہتمام حج سے واپسی پر حسان عارفی کی تہنیت میں ادبی نشست

سعودی عرب، ریاض کی معروف تنظیم انڈین فرینڈز سرکل (آئی ایف سی) کے ادبی فورم کے زیر اہتمام معروف شاعر و ناظمِ مشاعرہ حسان عارفی کی حج سے واپسی پرعلامہ اقبال کے مصرعے طرح ”ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی“ پر ایک شاندار محفل کا صادق صاحب کے دولت خانے پر انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ادبی فورم کے سابقہ صدر اور معروف افسانہ نگار و شاعر ابو نبیل مسیح دکنی نے کی؛ جب کہ نظامت کے فرائض ضیاء عرشی نے انجام دیے۔
بحیثیت مہمانانِ اعزازی رضوان الحق رضوان اور حسان عارفی نے شرکت کی. محفل کا آغاز ادبی فورم کی روایت کے مطابق تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی ادائیگی سعید اختر اعظمی نے اپنی خوب صورت لحن سے کی. جمیل احمد نے اپنی مترنم آواز میں مناجات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
ادبی فورم کی روایت کے مطابق پہلے نثری نشست میں سراج اکرم، وسیم قریشی، طاہر بلال اور ابونبیل نے اپنی تخلیقات سنائیں اور پھر صادق صاحب کے پرتکلف عشائیہ کے بعد باضابطہ شعری نشست کا آغاز ہوا.
ضیاء عرشی کی خوبصورت نظامت نے مشاعرہ کو کافی دلچسپ بنا دیا تھا۔ صدرِ محفل ابو نبیل نے شعراء کے کلام کی خوب تعریف کی۔ اخیر میں صدرِ محفل نے صدارتی کلمات کے بعد اپنا کلام سنا کر سامعین سے خوب داد وصولی. واضح رہے کہ اس مشاعرے میں صرف ادبی فورم ریاض کے شعراء ہی شریک رہے۔ مشاعرہ مختلف مراحل طے کرتا ہوا تقریباً رات 12:00 بجے سعودی وقت کے مطابق صدر ادبی فورم طاہر بلال کے کلمات تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مشاعرے میں منعقد شعری محفل میں جن شعراء حضرات نے کلام پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی ان میں صدر ادبی فورم طاہر بلال، اکرم علی اکرمؔ، حسان عارفی، ضیا عرشی، جمیل احمد آکولوی، سعید اختر آعظمی، رضوان الحق رضوان، صدرِ محفل ابو نبیل ، شامل تھے۔ مشاعرے میں پڑھے گئے افسانوں کے عناوین اور منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:

افسانے:

”حوصلہ“ از سراج اکرم
”مٹی“ از وسیم قریشی
”ساتھی ساتھ نبھانا“ از طاہر بلال
”عورت ہی عورت کو جانتی ہے“ از ابو نبیل

۔۔۔

منتخب اشعار:

زمانے کی سبک گامی تعجب خیز ہے اکرمؔ
مجھے بدنام پل بھر میں کیا ہے جابجا کوئی
(اکرم علی اکؔرم)

۔۔۔

میرے سینے میں رہے قیمت و عظمت تیری
بندگی کا مجھے پابند ائے مولا کردے
(جمیل احمد آکولوی)

۔۔۔

بڑھی ہے تشنہ کامی اور قدم بھی لڑکھڑاتے ہیں
اسی رستے میں شاید ہے کہیں پر میکدہ کوئی
(حسان عارفی)

۔۔۔

اِسی امید پر ہر دم قلم کو گھستا رہتا ہوں۔
مرے نوکِ قلم سے بھی نکل آئے صدا کوئی۔
(طاہر بلال)

۔۔۔

خوشی تنہاکہاں لازم ہے غم کاسلسلہ کوٸی
یہ سانسوں کاسفر دشوارکن ہے مرحلہ کوٸی
(سعیداختراعظمی)

۔۔۔

ابھی رضوان سن لیجیے کوئی آواز دیتا ہے
جو کل سننا بھی چاہو گے نہ آۓ گی صدا کوئی
(رضوان الحق رضوان)

۔۔۔

بھٹکتا در بدر پھرتا چلا ہے قافلہ کوئی
نہ رہبر کا تعین ہے نہ منزل کا پتا کوئی
(ضیاء عرشی علیگ)

۔۔۔

شب فرقت ذرا دیکھو مسیح آوارگی اس کی
دیار ناز پر دیتا ہے رک رک کر صدا کوئی
(ابو نبیل مسیح دکنی)

رپورٹ:سراج عظیم

اپنا تبصرہ بھیجیں