نامور ادیب اور صحافی، راجہ انور کا کالمی مجموعہ ”ماضی کا حمام‘‘ – محمد عمران اسحاق

ادب کے سفر میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی تحریر کی روانی قاری کو اپنے سحر میں اس طرح جکڑ لیتی ہے کہ وہ صفحہ کے بعد صفحہ پلٹتا ہی چلا جاتا ہے۔ راجہ انور صاحب کی تخلیقات اس کی زندہ مثال ہیں۔ ان کا قلم الفاظ کے موتی پروتا، جذبات و حقائق کو اس پرکشش اور لاجواب انداز میں پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا ان کا دیوانہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرا راجہ صاحب سے تعارف ان کی لاجواب اور سدا بہار تصنیف ”جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے ذریعے سے ہوا، جس میں وہ اپنی طالب علمی کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے محبت بھرے دنوں کی داستان سناتے ہیں۔ یہیں سے میں ان کی تحریر کا اس قدر گرویدہ ہوا کہ ان کی تمام تخلیقات کو پڑھنے کی تڑپ پیدا ہو گئی۔ راجہ صاحب کی دوسری کتاب جو میں نے پڑھی وہ ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل‘‘ تھی، جس میں انہوں نے جنرل ایوب خان کے دورِ آمریت میں اپنی قیدو بند اور جیل کے دردناک حالات اور قیدیوں کے استحصال کو انتہائی زبردست اور مؤثر انداز میں بے نقاب کیا۔ اس کے بعد ”قبر کی آغوش‘‘ کا سفر آیا، جو ان کی افغانستان میں جلاوطنی کے تاریک ترین ایام کی داستان ہے۔ اس کتاب میں پلِ چرخی جیل کی وہ المناک روداد رقم ہے، جہاں انہیں تین سال تک قید و بند کا سامنا رہا۔ راجہ صاحب نے اپنے اس تکلیف دہ تجربے کو انتہائی پراثر اور خوبصورت اسلوب میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ اور آج میں نے راجہ صاحب کی معرکہ آراء کتاب ”ماضی کا حمام‘‘ کا مطالعہ مکمل کیا ہے۔
یہ کتاب محض ایک تاریخی بیانیہ نہیں ہے بلکہ وقت کے دریاؤں میں واپس لے جانے والی ایک دلکش سواری ہے۔ راجہ انور صاحب اپنے مخصوص پرکشش، سادہ اور برجستہ انداز میں تاریخ کے ان گھماؤ اور پنہاں کونوں میں ہمیں لے کر جاتے ہیں جن سے عام قاری اکثر ناواقف رہتا ہے۔ ”ماضی کا حمام‘‘ درحقیقت تاریخ کے اس غسل خانے کی کہانی ہے جہاں وقت کی دھول اور مٹی سے نہائی ہوئی سچائیاں ہمارے سامنے نئی چمک کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔
یہ خوب صورت اور پُرکشش کتاب دراصل راجہ صاحب کے منتخب اخباری کالموں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جو ان کے قلمی سفر کی رَوِش اور فکر کی گہرائی کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ اس کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے قارئین کے نام کیا ہے جب کہ اس کا دیباچہ معروف کالم نگار جاوید چودھری نے تحریر کیا ہے جنہوں نے راجہ صاحب کی شخصیت اور ان کے ادبی سرمائے کو انتہائی عمدگی سے یوں اجاگر کیا ہے:
”میری راجہ انور سے پہلی ملاقات خبریں اخبار میں ہوئی تھی، میں بھی وہاں کالم لکھتا تھا۔ راجہ صاحب نے ایک دن مجھے فون کیا اور میں نے انھیں پنجاب یونیورسٹی کا واقعہ بڑی تفصیل سے سنایا۔ یہ دیر تک ہنستے رہے، مجھے اس زمانے میں ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے درجنوں پیراگراف زبانی یاد تھے، میں نے وہ بھی ان کے کانوں میں انڈیل دیے اور یوں ان کے ساتھ رفاقت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کل جرمنی، برمنگھم اور اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ یہاں گرمی آتی ہے تو اُدھر چلے جاتے ہیں اور اُدھر سردی آجاتی ہے تو یہاں آ جاتے ہیں۔ راجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں وژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے، آپ انھیں پڑھنا شروع کر دیں تو پھر آپ پڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کر لیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔ ان کے کالموں اور کتاب دونوں کا نام ’’بازگشت‘‘ ہے، یہ دونوں واقعی بازگشت ہیں، گئے زمانوں اور بیتی ہوئی شخصیات کی بازگشت، ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی بازگشت، جیل کے بند اور کھلتے آہنی کواڑوں کی بازگشت اور انسان کے ٹوٹتے، بکھرتے اور دفن ہوتے آئیڈیلز کی بازگشت۔ میں جب بھی ان کی تحریریں پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر راجہ انور نہ ہوتے تو ماضی کی یہ بازگشتیں ہم تک کیسے پہنچتیں، ہم ان سے کیسے واقف ہوتے لہٰذا تھینک یو راجہ صاحب! تُسی گریٹ او۔‘‘
یہ کتاب راجہ صاحب کے کل 75 کالموں پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے سماجی، سیاسی، بین الاقوامی، کشمیر و فلسطین، اور شخصیات جیسے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ راجہ انور صاحب نے اپنے کالموں میں نہ صرف ملکی و بین الاقوامی سیاسی اور سماجی صورتحال پر گہری نظر ڈالی ہے بلکہ معاشرتی ناانصافیوں، اداروں کی کمزوریوں، اور انسانی نفسیات کے گہرے پہلوؤں کو بھی بہترین انداز میں بے نقاب کیا ہے۔
کتاب میں موجود ”حادثہ‘‘، ”شادی کے نام پر ٹھگی‘‘، اور ”ڈاکٹر یا درندے‘‘ جیسے کالموں میں مصنف نے معاشرے کے بگڑتے ہوئے اقدار اور استحصالی روایات پر سخت تنقید کی ہے۔ ان تحریروں میں عام آدمی کی تکالیف، اداروں کی بے حسی اور معاشرتی ناہمواریوں کی عکاسی کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی راجہ صاحب نے اپنے کالموں ”جادوگری‘‘، ”عفریت‘‘ اور ”افغانوں سے زیادہ افغان‘‘ میں ملکی سیاست کے کھوکھلے پن اور حکمرانوں کے دھوکے، مکاریوں اور عیاریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کالموں میں وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے ممکنہ حل بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ کی تحریریں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم موڑوں پر روشنی ڈالتی ہیں، خاص طور پر ضیاءالحق اور مشرف کے ادوار میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں خوب مدد دیتی ہیں۔
راجہ صاحب اپنے ساتھیوں اور ہم عصر شخصیات کو اپنی تحریروں میں زندہ رکھتے ہیں۔ ”چراغِ شب‘‘ میں وہ ظہیر کاشمیری، منیر نیازی، اور استاد امانت علی خان جیسی عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے علاقے کی علم دوست شخصیات جیسے داروغہ زندان سجاول خان اور دادا امیر حیدر کو بھی یاد کرتے ہیں، جو علم کی روشنی پھیلانے کے لیے کوشاں رہے۔
مصنف نے امریکہ، یورپ، بھارت، افغانستان، کشمیر اور فلسطین جیسے موضوعات پر اپنے گہرے مطالعے اور مشاہدے کا اظہار کیا ہے۔ کتاب میں موجود ان کے کالم ”فاتح کون‘‘، ”مجاہد اول کی کلاسیکی گگلی‘‘ اور ”انسان کو زندہ رہنے دو‘‘ بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
راجہ صاحب کی تحریروں میں سادگی، روانی اور اثرانگیزی پائی جاتی ہے۔ آپ کے پاس الفاظ کا انتہائی وسیع ذخیرہ ہے مگر وہ انہیں سادہ اور عام فہم انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف معلومات سے بھرپور ہیں بلکہ قاری میں فکری اور تہذیبی شعور بھی اجاگر کرتی ہیں۔
”ماضی کا حمام‘‘ دراصل راجہ انور صاحب کی فکری پختگی، سیاسی بصیرت اور ادبی حسن کا شاہکار ہے۔ یہ کتاب نہ صرف تاریخ کے اوراق کو تازہ کرتی ہے بلکہ حال و مستقبل کے لیے راہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ تاریخ کو خشک اور بور محسوس کرتے ہیں تو ”ماضی کا حمام‘‘ آپ کی اس سوچ کو یکسر بدل دے گی۔ یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ تاریخ واقعات کا ایک مردہ ڈھیر نہیں بلکہ زندہ اور سانس لیتی ہوئی داستان ہے جسے راجہ انور صاحب جیسے قلمکار ہی زندہ کر سکتے ہیں۔
کتاب میں موجود ہر کالم ایک نئی دریافت کا دروازہ کھولتا ہے، عام سادہ الفاظ میں گہرے تاریخی حقائق کو سمجھانا مصنف کی بڑائی ہے۔ یہ تحریریں قاری کے علم کے دائرے کو وسیع کرتی ہے۔ ہر تحریر میں ایک ایسی کشش ہے کہ کتاب کو ہاتھ میں اٹھانے کے بعد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
”ماضی کا حمام‘‘ صرف ایک کتاب ہی نہیں ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ کو ماضی کی گلیوں میں لا کھڑا کرتا ہے۔ راجہ انور صاحب کے قلم کی یہ خوب صورتی ہی ہے کہ وہ تاریخ کے بوجھل پتھروں کو بھی ہلکے پھلکے، پراثر اور خو بصورت الفاظ میں تراش کر ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ اگر آپ واقعی کسی شاندار، پرکشش اور یاد رہ جانے والی کتاب کا تجربہ چاہتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
یقین جانیے،پڑھنا شروع کریں گے تو آپ بھی ان کے قلم کا اسیر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
بک کارنر، جہلم نے 301 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور پُرکشش کتاب کو منظر عام پر لا کر قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ راجہ انور صاحب کی صحت و تندرستی کے لیے دُعا گو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جلد ہی راجہ صاحب کی خودنوشت منظر عام پر آئیں گی، جس کا میں بے صبری سے منتظر ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں