”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر

اردو ادب میں سفرنامہ نگاری کی روایت ایک معتبر اور متنوع صنف کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں ذاتی تجربات، مشاہدات، کیفات، جغرافیائی اور ثقافتی تاثرات کے امتزاج سے ایک ایسی بیانیہ فضا تشکیل دی جاتی ہے جو قاری کو بھی سفر میں شریک کر لیتی ہے۔ اس روایت میں حسنین نازشؔ کا نام اب ایک نمایاں مقام کا حامل ہے، جو اپنے منفرد اسلوب، دقیق مشاہدے، اور زبان و بیان کی شگفتگی کے باعث اردو کے جدید سفرنامہ نگاروں میں ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی اب تک چھ کتب شائع ہو چکی ہیں، جن میں چار اعلٰی سفرنامے ”قاردش‘‘، ”دیوار چین کے سائے تلے‘‘، ”امریکا میرے آگے‘‘ اور ”پہلی جھلک یورپ کی‘‘ شامل ہیں جب کہ ان کا یورپ کا دوسرا سفرنامہ اور سپین کا سفرنامہ اشاعتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ تازہ ترین اضافہ امریکا ڈائری بعنوان ”100 دن امریکا میں‘‘، کی صورت میں سامنے آیا ہے جو روزنامچے کا کلاسیکی تسلسل کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے.
”100 دن امریکا میں‘‘ محض ایک سفرنامہ اور امریکہ میں گزرے ایام کی روداد ہی نہیں بلکہ روزنامچے کی طرز پر لکھا ہوا ایک تخلیقی شاہکار ہے، جس کی بنیاد روزمرہ مشاہدات، فوری تاثرات اور امریکی معاشرت پر ان کے ذاتی مشاہدات و اثرات پر ہے۔ اس طرزِ تحریر کی روایت اردو ادب میں حکیم محمد سعید کے روزنامچوں، مولوی محبوب عالم کی تحریروں اور دیگر قدیم اسفار کی رودادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ نازش نے اس انداز کو نہ صرف اپنایا بلکہ موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس میں معنوی وسعت، فکری جہات اور تہذیبی ہم آہنگی کی نئی پرتیں اور جدتیں شامل کر کے اسے زندہ و جاوید بنا دیا ہے۔ ان کے اسلوب تحریر میں سادگی، لطافت اور شگفتگی نمایاں ہے.
حسنین نازشؔ کا اسلوب ان کی شخصیت کی مانند نفیس، متوازن اور ان کے گہرے مشاہدے کا عکاس ہے۔ وہ نہ صرف مقامات کی تصویر کشی میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ فضا کی کیفیات، لمحاتی جذبات، اور امریکہ کی معاشرتی جہات کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو ان مناظر میں موجود پاتا ہے۔ ان کی نثر سادہ مگر پر تاثیر ہے، جس میں بلا کی روانی، لطافتِ طبع، اور زبان کی فصاحت شامل ہے۔
اکثر مقامات پر وہ جملوں کو مختصر مگر معنی خیز انداز میں لکھتے چلے جاتے ہیں، اور بیچ بیچ میں طنز و مزاح کی لطیف جھلک، ثقافتی تقابل کی سنجیدہ جہتیں اور فکری تجزیہ شامل کر کے سفرنامے کو محض ذاتی تجربات سے بڑھا کر ایک ادبی و فکری متن کی صورت دے دیتے ہیں۔ حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری پر اگر عمومی نظر ڈالی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ روایت اور جدت کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے میں کامیاب ہیں۔
اس امریکا ڈائری سے قبل حسنین نازشؔ کا امریکا کے اولین سفر پر مبنی سفرنامہ ”امریکا میرے آگے‘‘ شائع ہو چکا ہے، جس میں قاری نے خود کو امریکا کی تہذیبی چکاچوند، تمدنی تضاد اور ذاتی تجربات کی رو میں بہتے ہوئے پایا ۔ اس امریکی ڈائری کو اس تناظر میں اسی سفر کا فکری تسلسل کہا جا سکتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس بار مصنف ایک نسبتاً سنجیدہ، مدبر اور فکری طور پر بالغ نظر راوی کے طور پر سامنے آتے ہیں، جو ہر منظر کو پوری جزئیات اور کاملیت کے ساتھ صفحہ قرطاس پر اتارنے میں مگن نظر آتا ہے.
حسنین نازشؔ کے ہاں صرف مقامات کی سیر ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ قاری کو ایک فکری، ثقافتی اور تاریخی سفر پر بھی لے جاتے ہیں۔ وہ جس شہر میں پہنچتے ہیں، اس کے ماضی اور حال کو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں، اس کی فضاؤں سے مکالمہ کرتے ہیں، اور اس کے باشندوں کے طرز زندگی سے متعلق اپنے تجزیے میں احتیاط، توازن اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں جانبداری، تعصب یا سطحی پن کا شائبہ تک نہیں ملتا، اور یہی وہ خصوصیت ہے جو ان کی سفرنامہ نگاری کو اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کرتی ہے۔ امریکہ ڈائری”میں جہاں قدیم سفرناموں کے اثرات ملتے ہیں، وہیں عصری حسیت بھی نمایاں ہے۔ ان کا یہ سفرنامہ نہ صرف اردو ادب کے لیے ایک قابل قدر اضافہ ہے، بلکہ سفرنامہ نگاری کے طالب علموں کے لیے بھی ایک نمونہ ہے کہ کیسے ایک سفر کو محض واقعات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک ادبی شاہکار بنا دیا جائے۔ اس ڈائری میں ادبی محاسن کی ایک کثیر جہتی جھلک نظر آتی ہے. اس تصنیف میں تشبیہ و استعارہ کا برجستہ استعمال مناظر کی رنگینی میں اضافہ ممکن بناتا ہے. نثری شعریت جو بعض مقامات پر تحریر کو جذباتی انداز عطا کر دیتی ہے. ثقافتی تجزیہ جو قاری کے ذہن کو تازہ فکری جہتوں سے روشناس کراتا ہے. مکالماتی انداز جو تحریر کو خشک اور بے رنگ ہونے سے بچاتا ہے.
”100 دِن امریکا میں‘‘ ایک ایسا ادبی تجربہ ہے، جو قاری کو نہ صرف امریکی معاشرت سے روشناس کراتا ہے بلکہ خود راوی کی شخصیت کی تہہ در تہہ پرتیں بھی وا کرتا چلا جاتا ہے۔ حسنین نازشؔ نے روزنامچے کی کلاسیکی صنف کو عصرِ حاضر کی بصیرت افروز فنکاری اور چابکدستی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اردو سفرنامہ نگاری کو ایک نئی تازگی عطا کی ہے۔ ان کی تحریر میں برجستگی اور گھلاوٹ نمایاں ہے وہ تصنع سے دور رہتے ہیں اور خلوص پر یقین رکھتے ہیں ۔ان کی تحریر میں ایک طرح کی خودکلامی اور راست بیانی پائی جاتی ہے. ان کا بیانیہ اتنا دل نشین اور پر اثر ہے کہ قاری ایک نشست میں کتاب ختم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے.
یہ سفرنامہ ان کے اسلوب کی بلوغت، فکری پختگی اور زبان و بیان پر گرفت کا مظہر ہے، اور اس بات کا ناقابل تردید ثبوت بھی کہ وہ محض حالاتِ سفر کے راوی نہیں بلکہ معنوی سفر کے بھی راہبر ہیں، جو دل و دماغ کو نئی روشنی عطا کرتا ہے اور
تیرگی کو مٹاتا چلا جاتا ہے. ادبی منظرنامے پر ”100 دِن امریکا میں‘‘ ایک زندہ اور متحرک تحریری دستاویز ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے اہم سفرناموں میں شمار ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں