’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری

محمد اکبر خان صاحب کا سفرنامہ ’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ دورِ حاضر کے اردو سفرناموں میں ایک ایسا منفرد اور گراں قدر اضافہ ہے جو قاری کو محض تفریح نہیں، بلکہ ایک گہرے تہذیبی اور فکری شعور سے ہمکنار کرتا ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی اس کا وسیع کینوس ہے، جو ایران کی قدیم تاریخ سے لے کر مشرقِ بعید کی جدید ترقی تک محیط ہے۔ مصنف نے جس مہارت سے تین مختلف ممالک ایران، تھائی لینڈ اور ملائشیا کے سماجی اور ثقافتی مزاج کو کاغذ پر اتارا ہے، وہ ان کے پختہ مشاہدے اور حساس دل کی عکاسی کرتا ہے۔
​کتاب کا ابتدائی حصہ، جو ایران کے سفر پر مبنی ہے، قاری پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ نیشاپور، مشہد اور شیراز کے بیان میں مصنف نے ماضی کی ایسی بازیافت کی ہے کہ عمر خیام، رومی اور سعدی کی روحیں گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ محض مقامات کا تذکرہ نہیں بلکہ ایک مسلمان سیاح یا زائر کا اپنی کھوئی ہوئی میراث سے روحانی مکالمہ ہے۔
​جب سفر کا رخ تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی طرف مڑتا ہے، تو اسلوبِ بیان میں ایک نیا رنگ ابھرتا ہے. ایک تعمیری حسرت اور رشک کا رنگ۔ کوالالمپور کے نظم و ضبط، صفائی اور وہاں کی فلک بوس عمارتوں کے بیان میں مصنف نے جس دردِ دل کے ساتھ اپنے وطن کے حالات کا موازنہ کیا ہے، وہ پڑھنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ تھائی لینڈ کے ساحلوں کی خوبصورتی ہو یا ملائیشیا کا معاشرتی سکون، مصنف ہر جگہ ظاہری منظر کے پیچھے چھپی حقیقت کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ بالخصوص ملائیشیا میں جدیدیت اور اسلامی اقدار کے حسین امتزاج کو انہوں نے جس ستائشی انداز میں پیش کیا ہے، وہ قابلِ داد ہے۔ ’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ جیسے سفرنامے کا مطالعہ کرنا میرے لیے باعثِ مسرت تھا۔ محمد اکبر خان صاحب نے کمال کا سفرنامہ لکھا ہے.
میں نے جب اسے پڑھنا شروع کیا تو بس ساتھ ہی بہتی چلی گئی۔ ایران کے تاریخی شہروں نیشاپور اور اصفہان سے لے کر تھائی لینڈ کے ساحلوں اور کوالالمپور کے بلند و بالا ٹاورز تک، مجھے ایسا لگا جیسے میں خود ان شہروں میں گھوم رہہے ہوں۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سفرنامہ صرف گھومنے پھرنے کی کہانی نہیں، بلکہ ہر جگہ کی تاریخ (جیسے تختِ جمشید) اور ثقافت کو بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ زبان اتنی سادہ اور رواں ہے کہ کتاب ہاتھ سے رکھنے کو دل نہیں کرتا۔ یہ سفر سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔
​اکبر خان صاحب کا اسلوبِ تحریر انتہائی شستہ، رواں اور ادبی چاشنی سے بھرپور ہے۔ ان کی نثر میں تکلف کا بوجھ نہیں بلکہ پانی کی سی روانی ہے۔ جا بجا حسبِ حال اشعار کا برمحل استعمال اور کلاسیکی فارسی تراکیب کی آمیزش نے تحریر کے حسن کو دوچند کر دیا ہے۔ وہ خشک اعداد و شمار کے بجائے اپنے مشاہدات کو جذبات کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں، جس سے قاری مصنف کی انگلی تھامے ان مقامات کی سیر کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ کتاب صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک بیدار مغز اور محبِ وطن زائر کے دل کی آواز ہے، جو اپنی قوم کو بھی ترقی کی اسی شاہراہ پر دیکھنے کا خواہاں ہے۔ بلا شبہ، یہ ایک ایسی تحریر ہے جسے اردو ادب کا سرمایہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

نوٹ: مصنفہ کا تعلق شعبہ مشرقی زبانیں، عین الشمس یونیورسٹی، قاہرہ، مصر سے ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں