اہلِ دل پر فرض ہے کہ کربلا کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اس کو منائے، بالکل اس طرح جیسے اپنے زخموں پر گاہے بگاہے خود ہی نمک چھڑکا کریں۔ اس سے نہ صرف یادیں تازہ ہوتی ہیں بلکہ درد بھی تازہ اور نیا رہتا ہے، بلکہ نمک کی تاثیر سے زخم بھی محفوظ رہتے ہیں، بقول انیس:
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
اردو ادب میں زخموں کو تازہ رکھنے کے لیے اس سے زیادہ تازہ شعر نہیں۔ یہ وہ تہذیب و شائستگی ہے جس میں انیس سانس لے رہے ہیں۔ اردو ادب میں سلام اور سلام نگاری، رثائی ادب کی ایک ایسی روایت کا نام ہے جس میں یاد اور زخم اپنی اصلی حالت میں تازہ اور زندہ رہتی ہے اور ہر زمانے میں ایسا لگتا ہے کہ یہ سانحہ عظیم ابھی ابھی ہوا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے نئے زمز اور گوشے دریافت ہوتے ہیں اور زمانے کے غم اور حادثات ظلم اس کے آئینے میں اپنے چہرے دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر بھی اس کے عکس ہی رہتے ہیں۔ ”دبستان بولان، کوئٹہ‘‘ بھی اس حقیقی غم اور اس کی یاد کو اپنے وجود میں آنے سے اب تک بڑی قوت سے استوار رکھا ہے۔ مگر پھر بھی بقولِ غالب:
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
یہ ایسا غم ہے جس کی یاد مجاز کو حقیقت بنا دیتی ہے اور حقیقت کو مجاز کے رنگ میں پءش کرکے آئینے کے سامنے لاکھڑا کردیتی ہے، بقولِ آتش:
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
اسی گفتگو کی ایک روایت دبستانِ کی تواتر سے محافل مسالمہ ہے۔ بقولِ رند لکھنوی:
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
یہ محافل کبھی ردیفی (جس میں صرف ردیف کی پابندی ہوتی ہے)، کبھی طرحی جس میں کلی طور پر طرح اور اس کے وزن کی پابندی ہوتی ہے اور کبھی غیر ردیفی اور غیر طرحی ہوتی ہیں، جس میں شاعر اپنی مرضی سے سلام کرتے ہیں۔ اس روایت کی پابندی کی وجہ سے نہ صرف کوئٹہ، بلوچستان بلکہ دوسرے صوبوں کے شعراء نہ صرف آن لائن شرکت کرتے ہیں بلکہ ”دبستان بولان، کوئٹہ‘‘ کے سالانہ کل پاکستان ادبی میلے میں عملی طور پر شرکت کے لیے، نئے نئے سلام اور غزلیں کہ کر تازہ گوئی کی روایت کا ایک اہم ستون ثابت ہوتے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ چند روز قبل حسبِ روایت اخلاص ٹیم کے مرکزی دفتر واقع علمدار روڑ، بلوچستان میں یہ محفل منعقد ہوئی۔ محفل چونکہ امام حسیںن کی مجلس عزا سجائی گئی تھی اس لئے صدارت بھی انہی کی تھی، نظامت کے فرائض کامران قمر نے احسن طریقے سے انجام دئیے. اس مرتبہ پھر پاکستان کے نامور شعرا نے آن لائن شرکت کی۔ یہ روایت کوئٹہ میں صرف ”دبستان بولان، کوئٹہ‘‘ نے قائم کی ہے۔ آن لائن شعرا میں کراچی سے ڈاکٹر شاداب احسانی اور ڈاکٹر فاطمہ حسن، ملتان سے ڈاکٹر شوذب کاظمی، ساہیوال سے اوصاف شیخ، حیدر آباد سے پروفیسر عتیق الرحمن، اسلام آباد سے ذکیہ بہروز ذکی، امریکا سے ڈاکٹر اکرم خاور، راولپنڈی سے سید طاہر عباس اور لاہور سے زرقہ نسیم غالب نے شرکت کی۔
ان کے علاوہ مقامی شعرا میں پروفیسر صدف چنگیزی، محمود محور، جہانگیر کاوش، نیاز خلجی، کامران قمر، شفقت عاصمی، جرات علی رضی، عذرا گل، حمیدہ سیما، عرفان علی عابد، کاتب نثار حیدری، ارم زہرا، ردا بتول، سجاد حیدر اور عیسی خان رسولی نے شرکت کی۔ آخر میں شرکاء محفل کا بھرپور کام۔و دہن کا اہتمام کیا کیا، حسب روایت اخلاممص ٹیم نے خوب خدمت گزاری کی۔

شعرا کے کلام سے انتخاب:
سلام:
چومتا ہوں میں نقشِ پائے حسین
تاکہ غم مجھ کو بار بار ملے
ان گلوں پر خراشیں ملتی ہیں
جن کے سینے میں شوقِ دار ملے
مثلِ گل سینہ چاک چاک رہے
مجھ کو بھی قلبِ بے قرار ملے
• پروفیسر صدف چنگیزی
——————————————————————
سلام:
وابستہ رکھ حسین سے دامن حیات کا
ظالم سے بس یہی ہے ذریعہ نجات کا
آنکھوں میں بس یہی ہے جو صورت حسین کی
عالم بدل گیا ہے مری کائنات کا
• محمود محور
——————————————————————
سلام:
جا بہ جا ضبط حسینی کی ندا ملتی ہے
کربلا تیرے تصور سے حیا ملتی ہے
مرا قرار مری بے خودی قبول کرے
غمِ حسین مری عاجزی قبول کرے
حسین ابن علی پر جو مان رکھتا ہے
وہ سر پھرا ہے ہتھیلی پہ جان رکھتا ہے
• جہانگیر کاوش
——————————————————————
سلام:
خدا کرے کہ ہر اک دل ہو آشنائے حسین
تو ہر زبان پہ جاری رہے ثنائے حسین
اسے بجھائے گی آندھی کہاں زمانے کی
جو دل کے خون سے روشن کرے ثنائے حسین
اگر نیاز پہ چھا جائے آنسوؤں کا مزاج
تو پھر پکارے کا ہر وقت ہائے ہائے حسین
• نیاز خلجی
——————————————————————
سلام:
کربلا سے کوئی جب خود کو ملا دیتا ہے
دل کی مسند سے غمِ دہر اٹھا دیتا ہے
جس پہ سایہ کرے عباس علمدار کا غم
دل سے وہ خواہشِ دنیا کو مٹا دیتا ہے
ایک چہرہ ہے جو صحرا میں کھلاتا ہے گلاب
اک تبسم ہے جو پتھر کو رلا دیتا ہے
• کامران قمر
——————————————————————
سلام:
ظلم جتنی آہنی دیوار ہو
اب نہیں مشکل کوئی مشکل حسین
جس نے سیکھا کربلا کا فلسفہ
ہوگیا دنیا میں وہ کامل حسین
لمحہ لمحہ عاصمی کی ہے دعا
حشر میں ہو ساتھ میرا دل حسین
• شفقت عاصمی
——————————————————————
سلام:
سناں کی نوک پہ قرآں سنارہا ہے حسین
زمانہ کھل کے یہ کہتا ہے معجزہ ہے حسین
کبھی جو دوشِ پیمبر کا شہسوار رہا
حصارِ سجدہ میں اب تن سے سر جدا سے حسین
مثالِ شمعِ ہدایت، نجات کی کشتی
صراطِ حق ہے، مقدر کا راستہ ہے حسین
• جرات علی رضی
——————————————————————
سلام:
زندگی میری اور بہار حسین
میرے دل پہ اختیار حسین
کوفی لایوفی رہ گئے سارے
سب ہیں اب تیرے جانثار حسین
جن پہ چلتے رہے ہیں آپ سدا
سارے رستے ہیں مشک بار حسین
• عذرا گل
——————————————————————
سلام:
ذکر قائم ہے ہر زمانے میں
کون سمجھے گا یہ مقام حسین
راہِ کوثر پہ جو چلے گا مدام
دیں گے کوثر کا ان کو جام حسین
جن سے کردار ہوں گے مثلِ گلاب
ان سے ہوتے ہیں ہم کلام حسین
• حمیدہ سیما
——————————————————————
سلام:
یعنی صداقتوں کا ستارہ ہے کربلا
طوفان جس قدر ہو کنارہ ہے کربلا
ایمان جس کے سامنے سجدہ گزار ہو
قدرت کا اک جمال ہے دھارا ہے کربلا
دیکھی ہے میں نے غور سے رنگِ حیات کو
اس کے ہر ایک غم میں سہارا ہے کربلا
• عرفان علی عابد
——————————————————————
سلام:
کربلا بن گئی سرمدی کائنات
یہ مری زندگی یہ مری کائنات
بہہ گیا جب لہو سامنے یار کے
چشمِ یزدان بنی اکبری کائنات
جب وفا رنگ کو اک بقا مل گئی
اصغری بن گئی مادری کائنات
• کاتب نثار حیدری
——————————————————————
سلام:
زندگی کا نیا نصاب حسین
زندگی کا ہے ہر جواب حسین
اس کو پڑھتے رہو محبت سے
علم کی ہے کھلی کتاب حسین
اے ارم کہہ رہے ہیں یہ آنسو
ہر زمانے کا آفتاب حسین
• ارم زہرا
——————————————————————
سلام
مرکزِ صبر و رضا ہے کربلا
یعنی روشن اک دعا ہے کربلا
چشمِ تر کہتی ہے سانسوں سے سدا
روح کی ٹھنڈی ہوا ہے کربلا
جان دی اصغر نے حق کے واسطے
حوصلوں کی انتہا ہے کربلا
• سجاد حیدر
——————————————————————
سلام:
کرب و بلا کی ریت نے جب راستہ لیا
سایہ بھی رو پڑا شہہ عالی مقام پر
دریا قریب تھا مگر اک بوند بھی نہ تھی
پہرے بٹھا دیے گئے اہلِ خیام پر
بچوں کے خشک ہونٹ تھے ماؤں کی آہ تھی
صحرا لرز رہا تھا اک تشنہ کام پر
• عیسٰی خان رسولی
——————————————————————
آن لائن شعراء کے اشعار کا انتخاب ملاحظہ ہو:
سلام:
مرے حسین کی تا حال جنگ جاری ہے
ہے ایک جہد مسلسل یزیدیوں سے نجات
غمِ حسین منانا ہے نا گزیر کہ یوں
ملے یزید کے لشکر کے باقیوں سے نجات
حسین سب کے ہیں میرے بھی تمہارے بھی
اس اتحاد میں مضمر ہے مفسدوں سے نجات
• ڈاکٹر شاداب احسانی، کراچی
——————————————————————
سلام:
ہر نفس کے واسطے ہر زمانے کے لئے
کربلا اک استعارہ سر اٹھانے کے لئے
زندگی تاریکیوں کے خوف سے باہر نکل
یہ حسینی راستہ ہے دل بنانے کے لئے
اک ضیافت میں چلے آئے تھے کچھ اہلِ وفا
پیاس پینے کے لئے اور زخم کھانے کے لئے
• ڈاکٹر عتیق الرحمان، حیدر آباد
——————————————————————
سلام:
صدیوں سے علی کے بیٹے کی ہر دل پہ حکومت جاری ہے
حق والوں میں ہر ظالم سے انکارِ بیعت جاری ہے
کربل کے شہیدِ اعظم کی دیکھو یہ کرامت جاری ہے
تن سے ہے الگ اک سر لیکن نیزے پہ تلاوت جاری ہے
جو سبط نبی کو روتے ہیں عقبی میں رتبہ پاتے ہیں
ہر ماتم میں اس نوحے کی برسوں سے روایت جاری ہے
• ڈاکٹر شوذب کاظمی، ملتان
——————————————————————
سلام:
زمیں کے وقت سے ملتا ہے آسمان کا وقت
ہے کربلا میں ہوا عصر کی اذان کا وقت
حسینیت کو بقا ہے یزیدیت کو فنا
چراغ بجھنے کے جلنے کے درمیان کا وقت
• ڈاکٹر اوصاف شیخ، ساہیوال
——————————————————————
حمد:
کیا خوب کارساز ہے وہ ربِ کردگار
حدِ یقیں بڑھائے توکل وجود میں
یہ بارِ غم اٹھائےہر اک حادثہ سہے
قوت وہ رب نے رکھی ہے کومل وجود میں
وہ ہے مرا خدا، جو رگِ جاں میں ہے بسا
ہرآن ہر گھڑی ہے وہ ہر پل وجود میں
• محترمہ ذکیہ بہروز ذکی، اسلام آباد
——————————————————————
سلام:
اک کنارہ عشق کا ہے اک کنارہ انتہا
اک کنارہ رنگِ دنیا، اک کنارہ کربلا
سرخ مٹی سرخ پانی سرخ آندھی اور ہوا
جاگتے سورج کے منظر کا ستارہ ہے کربلا
مانگنے والا گدا اور دینے والا بادشاہ
خونِ ناحق کا فقط اب استعارہ کربلا
• ڈاکٹر اکرم خاور، امریکہ
——————————————————————
سلام:
دینِ نبی کے چہرے کا سہرہ ہے کربلا
ہر دور میں عمل کا سویرا ہے کربلا
ابنِ علی کے سجدے کا ایسا اثر ہوا
ہر دور میں دلوں کا اجالا ہے کربلا
عباس با وفا کے علم کا ہے معجزہ
مومن کے سر پہ حشر کا سایہ ہے کربلا
• سید طاہر عباس، راولپنڈی











