ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کے اولین سفرنامے ”دیو سائی‘‘ کا بطور قاری جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک سیاحتی روداد نہیں بلکہ مشاہدہ، جذبہ، رفاقت، یادداشت اور فطرت شناسی کا ایسا حسین مرقع معلوم ہوتا ہے جس میں ایک حساس مزاج طبیب، گہرے مشاہدے کے حامل مصنف اور ایک سلیقہ مند نثر نگار کی شخصیت بیک وقت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ یہ سفرنامہ کوئٹہ سے بذریعہ سڑک دیوسائی تک کے سفری حالات و واقعات کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے اور قاری کو قدم بہ قدم مصنف کے ساتھ شریک سفر کر دیتا ہے۔
سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے اس سفرنامے کا انتساب اپنے والد محترم کے نام کیا ہے جو مشرقی روایت کے مطابق نہ صرف عقیدت و احترام کا مظہر ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مصنف اپنی فکری اور اخلاقی تشکیل میں اپنے والد کے کردار کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ اردو سفرنامہ نگاری میں انتساب اکثر مصنف کی داخلی شخصیت کی جھلک پیش کرتا ہے اور یہاں بھی یہی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے۔
یہ سفرنامہ کوئٹہ سے دیوسائی تک بذریعہ سڑک سفر کی مکمل داستان ہے جس میں راستوں کی دشواریاں، مناظر کی دلکشی، رفاقت کی خوشبو اور مقامات کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت نہایت خوبصورتی سے یکجا ہو گئی ہے۔ اس سفر کا پہلا پڑاؤ مانسہرہ میں مصنف کے دیرینہ دوست جی ایم صدیقی صاحب کے ہاں تھا، جہاں قیام نے سفر و سیاحت کو رہنے ایک جذباتی اور سماجی تجربہ کی شکل میں ڈھال دیا ۔ واپسی پر دوبارہ انہی سے ملاقات سفر کی رفاقتی فضا کو مزید معنویت عطا کرتی ہے اور یہ انداز اردو سفرنامہ نگاری کی روایت میں انسانی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دوران سفر متعدد مقامات پر مصنف ماضی کی حسین یادوں کو سفرنامے میں شامل کرتے جاتے ہیں یعنی سفری حال کے ساتھ ماضی کا تڑکا لگاتے جاتے ہیں جس سے سفرنامے کی معنویت اور دلچسپی دو چند ہوتی چلی جاتی ہے. صفحہ نمبر 14 پر لکھتے ہیں کہ
”کوئٹہ سے نکل کر ژوب تلک اپنی خوبصورت یادیں لیے جب پشین سے گزرے تو کوئی تیس پینتیس سال پرانا ایک یادگار واقعہ ٹھاہ کرکے یاداشت کو چھو گیا‘‘ اسی طرح ایک مقام پر خانوزئی میں لاندی کی دعوت کا تذکرہ سفرنامے کی لذت میں اضافہ کرتا ہے.
اس سفر میں مصنف نے ایبٹ آباد، سکردو، چلاس، استور اور راما جھیل جیسے مقامات کی سیر کرتے ہوئے فطرت کے متنوع رنگوں کو نہایت باریک بینی سے قلم بند کیا ہے۔ خاص طور پر راما جھیل کے بارے میں بیان کردہ مناظر میں مصنف کا اسلوب فطرت سے قریب تر ہو جاتا ہے اور قاری کے سامنے سبزہ زاروں، خاموش پانیوں اور پہاڑوں کی رفعت کا ایک زندہ منظر کھنچ جاتا ہے۔ یہاں مصنف کی منظر نگاری ان کی تخلیقی بصیرت کا واضح ثبوت بن جاتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں ”کیا خوبصورت پیاری جھیل تھی اور سامنے بہت سارے گلیشئر ڈھلوانوں پر اپنا رس جھیل کی نظر کر رہے تھے یعنی ان کی طرف پگھل پگھل کر جھیل میں جمع ہو رہی تھی.‘‘
اسی طرح چلم چوکی، صدپارہ جھیل، دیوسائی، بالائی کچورا جھیل، وادی سوق اور زیریں کچورا جھیل (شنگریلا) کی سیر کے دوران مصنف نے قدرتی حسن کی ایسی دلکش عکاسی کی ہے جو اردو سفرنامہ نگاری کی بہترین روایت سے ہم آہنگ محسوس ہوتی ہے۔ دیوسائی کے وسیع و عریض میدان، رنگا رنگ پھولوں کی چادر، خاموش فضائیں اور بلند آسمان مصنف کے بیان میں ایک روحانی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یہ کیفیت قاری کو محض دیکھنے نہیں بلکہ محسوس کرنے پر آمادہ کرتی ہے، جو کسی بھی کامیاب سفرنامے کی بنیادی خصوصیت ہوتی ہے۔
مصنف نے جابجا الفاظ و محاورات کا مزاحیہ استعمال تحریر کو لطافت سے آشنا کرتا ہے. ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ ”لذیذہ ہوٹل کی جانب گامزن ہوئے جبکہ بھوک کے مارے دیوسائی کے بھورے رنگ اور زردی مائل بڑے چوہوں نے ہمارے پیٹ میں دوڑنا شروع کردیا.‘‘
اسی تسلسل میں قلعہ کھرفچو، ناران، کاغان اور شوگراں جیسے مقامات کا ذکر سفرنامے کو جغرافیائی وسعت عطا کرتا ہے۔ خاص طور پر ناران اور کاغان کی وادیوں کی سرسبزی اور شوگراں کی دل فریب فضائیں مصنف کے بیانیے میں ایک رومانوی اور جمالیاتی فضا پیدا کرتی ہیں جو قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہاں مصنف کی تحریر میں نہ صرف مشاہدہ بلکہ ایک لطیف جذباتی وابستگی بھی جھلکتی ہے۔
فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس سفرنامے کی سب سے نمایاں خصوصیت منظر کشی ہے۔ مصنف نے قدرتی مناظر کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو سفر کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح روانی اس سفرنامے کا ایک اہم وصف ہے۔ زبان سادہ، دلنشیں اور رواں ہے جس میں تصنع یا ثقیل پن محسوس نہیں ہوتا۔ ایک طبیب اور جراح ہونے کے باوجود مصنف کی نثر میں ادبی لطافت اور تخلیقی حسن بدرجۂ اتم موجود ہے۔
مزید برآں سادگیِ بیان اس سفرنامے کی بڑی خوبی ہے۔ ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے غیر ضروری لفظیات سے اجتناب کرتے ہوئے نہایت صاف، شفاف اور مؤثر انداز اختیار کیا ہے جس سے تحریر میں فطری پن پیدا ہو گیا ہے۔ اسی طرح واقعہ نگاری بھی اس سفرنامے کا اہم عنصر ہے۔ ہر مقام کی روداد تسلسل کے ساتھ اس انداز میں بیان کی گئی ہے کہ واقعات کی ترتیب قاری کے ذہن میں ایک واضح نقش قائم کر دیتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مصنف کا اعلیٰ بیانیہ اسلوب اس سفرنامے کو محض ایک سیاحتی تحریر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک ادبی دستاویز کا درجہ عطا کرتا ہے۔ اسلوب میں جذبات کی لطافت، مشاہدے کی گہرائی اور بیان کی دلکشی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سفرنامہ نہ صرف بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ادیبوں کی سفرنامہ نگاری میں ایک اہم اضافہ ہے بلکہ اردو ادب میں بھی اپنی انفرادیت کے باعث قابلِ توجہ مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا سفرنامہ ”دیو سائی‘‘ فطرت دوستی، رفاقت، مشاہدہ نگاری اور سادہ مگر مؤثر اسلوبِ بیان کا ایسا حسین امتزاج ہے جو قاری کو نہ صرف شمالی علاقہ جات کی سیر کراتا ہے بلکہ اسے ایک حساس دل رکھنے والے ادیب کی داخلی دنیا سے بھی روشناس کراتا ہے۔











