ڈاکٹر اکرم خاور کی تصنیف ”صنعتِ تلمیح، کل اور آج‘‘ اردو تحقیق کے افق پر ایک نہایت اہم، منفرد اور وقیع اضافہ ہے۔ کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تحقیقی کتاب محض ایک اصطلاحی یا لغوی بحث تک محدود نہیں بلکہ تلمیح کے فنی، فکری اور جمالیاتی پہلوؤں کو ایک مربوط اور ہمہ گیر انداز میں پیش کرتی ہے۔ فاضل مصنف نے نہایت شگفتہ، فصیح اور سادہ و شستہ اسلوب تحریر اختیار کرتے ہوئے اس دقیق موضوع کو اس سلاست سے بیان کیا ہے کہ قاری نہ صرف تلمیح کے مفہوم سے آگاہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی ادبی معنویت اور افادیت کو بھی گہرائی سے محسوس کرتا چلا جاتا ہے۔ان کا اسلوب تحریر استدلالی ہے جس سے اس اہم موضوع پر دلائل قاری کا ذہن طمانیت کے ساتھ قبول کرتا چلا جاتا ہے.
اس اعلی تخلیق کا پہلا باب تلمیح کے پس منظر، لغوی تعریف و معانی اور اس کی ضرورت و اہمیت پر مشتمل ہے۔ یہاں مصنف نے تلمیح کی بنیادوں کو عربی و فارسی روایت سے جوڑتے ہوئے اس کے لغوی مفاہیم کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تلمیح ادب میں محض ایک صنعت ہی نہیں بلکہ معنی کی تہہ داری، جامعیت،گہرائی اور فکری وسعت کا ایک مؤثر اور جامع وسیلہ ہے۔ اس باب میں تلمیح کی ضرورت کو اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ یہ فن قاری کے ذہن میں ایک زندہ اور فعال قوت کے طور پر ابھرنے لگتا ہے۔
کتاب کے دوسرے باب میں تلمیحات کی اقسام، اس کے حدود اربعہ اور اس کے ماخذ و مصادر پر نہایت عالمانہ بحث کی گئی ہے۔ مصنف نے تلمیح کو مختلف جہات میں تقسیم کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار کو رعنائی تحریر سےمتعین کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کن منابع سے تلمیحات اخذ کی جاتی ہیں، مثلاً مذہبی روایات ، تاریخی واقعات، اساطیری اور ادبی روایات۔ اس باب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نظری مباحث کو مثالوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے قاری کے لیے موضوع کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے۔
تیسرے باب میں اردو شاعری میں قرآنی تلمیحات، فضا اعظمی کے ہاں تلمیحاتی رنگ اور علمِ بیان کی روحِ رواں جیسے موضوعات کو نہایت گہرائی کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ قرآنی تلمیحات کے حوالے سے مصنف نے اردو شاعری کے اس مقدس اور بامعنی پہلو کو اجاگر کیا ہے، جبکہ فضا اعظمی کے کلام میں تلمیح کے استعمال کو ایک نمائندہ مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ علمِ بیان کے تناظر میں تلمیح کو ایک فعال اور متحرک عنصر کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو معنی کی ترسیل کو مؤثر بناتا ہے۔
چوتھا باب اسلاف شعراء کرام کےتلمیحاتی سرمایے کے ذکر سے مزین ہے۔ یہاں کلاسیکی شعراء کرام کی مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا ہے کہ تلمیح اردو شاعری کی روایت میں کس قدر رچی بسی ہے۔ میر، سودا اور دیگر اکابرین کے ہاں تلمیح کے استعمال کو نہایت خوبصورتی اور جامعیت سے بیان کیا گیا ہے، جس سے اس فن کی تاریخی جڑیں اور ارتقائی صورتیں سامنے آتی ہیں۔
پانچویں اور چھٹے باب میں فضا اعظمی کے کلام کا تلمیحات کی روشنی میں مفصل جائزہ لیا گیا ہے۔ ان ابواب میں مصنف نے نہ صرف فضا اعظمی کے اشعار کی تحلیل کی ہے بلکہ اساطیری تلمیحات کے حوالے سے ایک تحقیقی مضمون بھی شامل کیا ہے، جس میں قدیم اساطیر کے ادبی استعمال کو جدید تناظر میں سمجھنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے۔ یہ حصے کتاب کی تحقیقی گہرائی اور تنقیدی بصیرت کا بہترین مظہر ہیں۔
ساتویں باب میں محاورہ، روزمرہ، ضرب المثل اور تلمیحات کے درمیان فکری اور معنوی ربط کو نہایت سلیقے سے واضح کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اکبر الہ آبادی کی شاعری میں تلمیحات کے استعمال کو ایک خاص زاویے سے دیکھا گیا ہے، جہاں طنز و مزاح کے پیرائے میں تلمیح ایک مؤثر ہتھیار بن کر سامنے آتی ہے۔
آٹھویں باب میں جون ایلیا اور مرزا غالب کے کلام میں تلمیحات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہاں فاضل مصنف نے دونوں شعراء کرام کے اسلوب، فکری رجحانات اور تلمیح کے استعمال میں موجود مماثلتوں اور اختلافات کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ غالب کے ہاں کلاسیکی رمزیت اور جون ایلیا کے ہاں جدید کرب و اضطراب کے تناظر میں تلمیح کی معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کتاب کا نواں اور آخری باب سید عطاء اللہ شاہ کی شاعری میں تلمیحات کے جائزے پر مشتمل ہے۔ اس باب میں ایک مشہور و معروف خطیب البتہ نسبتاً کم معروف مگر اہم شاعر کے کلام کو موضوع بنا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تلمیح کا فن محض بڑے ادبی ناموں تک محدود نہیں بلکہ اردو شاعری کے وسیع دائرے میں اپنی اثر آفرینی رکھتا ہے۔
اسلوبِ نگارش کے اعتبار سے یہ کتاب نہایت دلکش، رواں اور علمی وقار کی حامل ہے۔ ڈاکٹر اکرم خاور نے مشکل اور دقیق مباحث کو بھی اس خوبی سے پیش کیا ہے کہ وہ قاری کے لیے قابلِ فہم اور دلچسپ بن جاتے ہیں۔ زبان میں ادبی چاشنی کے ساتھ تحقیقی سنجیدگی بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اس کتاب میں اگر تلمیحات اقبال کا اضافہ ہوتا تو یہ اس کی ادبی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا.
مجموعی طور پر تلمیحات: کیوں، کب اور کیسے اردو ادب میں ایک قابل قدر تحقیقی کارنامہ ہے، جو نہ صرف تلمیح کے فن کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ قاری کے ذوقِ مطالعہ کو بھی جِلا بخشتا ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ اردو کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، جو آنے والے وقتوں میں بھی اپنی علمی و ادبی اہمیت برقرار رکھے گی.











