ثقافت نام ہے کسی قوم یا انسانی گروہوں کے ان مخصوص افکار، عقائد و اخلاق ، طرزِبود و باش اورنظریات کا، اور ان تمام تہذیبی اور تخلیقی سرگرمیوں کا جو اُسے دوسری اقوام سے ممیز و ممتاز کرتی ہیں۔ ہر قوم کی ثقافت ایک مخصوص مزاج اور منفرد انداز کی حامل ہوتی ہے جو اس قوم کے بنیادی نظریات و عقائد پر منحصر ہوتی ہے۔ یہاں واضح ہوتا جائے، بنیادی نظریات اور ثقافت دو الگ الگ دائرہ کار نہیں بلکہ یہ دونوں باہم و گر مربوط اور آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ جیساکہ مثال کے بطور پر کسی بھی درخت کی نہ صرف مضبوطی بلکہ اس کا تصور بغیر جڑوں کے ناممکن ہے۔ فرض کے طور پر درخت کو بطور ”ثقافت‘‘ مان لیں اور ایسے ہی ”نظریات‘‘ کو اس درخت کی جڑیں۔ معاشرے کی تمام ثقافتی سرگرمیوں کا تانا بانا، بنیادی نظریات کے گرد ہوتا ہے۔اور ایسے ہی ہر ثقافت ایک وحدتِ کل ہوتی ہے۔ اس کے مزاج کا لحاظ کیے بغیر اس میں کسی بھی طرح کی پیوند کاری نہیں کی جاسکتی۔ ایک زندہ تہذیب کبھی ایسی چیز گوارا نہیں کرسکتی جو اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو۔ جس طرح انسانی معدہ فاسد مادہ قبول نہیں کرتا اوور فوراً اسے اُگل دیتا ہے، اس طرح ایک ثقافت بھی کسی ایسے بیرونی اثرات کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے مطابق نہ ہو۔
دنیا کی کوئی بھی زندہ قوم کبھی اپنی ثقافت کے تحفظ سے غافل نہیں ہوتی اور نہ ہی اپنی ثقافت میں ملاوت ہونے دیتی ہے۔ یہ اس لیےکیوں کہ وہ جانتی ہے کہ اس کو مٹانے اور انہیں اپنی اقتدار کے گرانے والی قوتیں، اس کی جڑوں پر حملہ کرنے کی جرات نہیں رکھتی وہ اس کی ثقافت پر حملہ آور ہوکر اسے مسخ کرکے اپنی کامیابی کی راہ نکالتی ہیں۔
کسی قوم کی مخصوص ثقافت کا کسی دوسری قوم کی ثقافت میں ضم ہوجانا ، نہ صرف ثقافت بلکہ اُس قوم کی موت کا اعلان ہے۔
بقول گسٹوف کلائم: ”رسوم و روایات، امن و جنگ کے زمانے میں انفرادی و اجتماعی رویے دوسروں سے اِکتساب کیے ہوئے طریقہ ہائے کار سائنس، مذہب اور فنون کا وہ مجموعہ ثقافت کہلاتا ہے جوکہ نہ صرف ماضی کا ورثہ ہے بلکہ مستقبل کیلئے تجربہ بھی ہے۔‘‘
پاکستانی ثقافت:
پاکستانی رہن سہن، تہذیب و تمدن اور بودوباش کو ثقافت کہتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستانی قومی لباس شلوار قمیض ہے اور اس میں بسنے والے باشندوں کی طرزِ زندگی، بولیاں اپنی اپنی ہیں۔ اب بات کی جائے پاکستان کے دیہی علاقوں کی، وہاں کے لوگوں سادہ کھانا پینا پسند کرتے ہیں۔ دیسی کھانے بالخصوص مکئی کی روٹی، مکھن کا پیراہ اور ساگ ہر کوئی شوق سے کھاتا ہے۔ سبزیاں عموماً گھروں میں اُگائی جاتی ہیں۔ جوکہ ناصرف ذائقہ میں بلکہ غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں۔ کیونکہ ثقافت دنیا میں پہچان کا باعث ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا چاہیے، مغربی ثقافت طور و اطوار ہماری ثقافت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کا ادراک مستقبل قریب میں ہوگا۔
پاکستانی و قومی زبان اُردو ہے جو پورے مُلک میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ جیساکہ بلوچستان میں بلوچی، سندھ میں سندھی، خیبر پختون خوا میں پشتو اور پنجاب میں پنجابی زبان بولی جاتی ہے۔ اسی طرح مختلف جیساکہ کہا جاتا ہے کہ ہر دس میل کے بعد زبان علاقے کی مناسبت سے بدل جاتی ہے، لیکن اُردو زبان چونکہ پاکستان کی قومی زبان ہے، ہر صوبے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
چاروں صوبوں کے رہن سہن میں فرق ہے. ہر صوبے کی اپنی ایک منفرد ثقافت ہے۔ ان کے کھانے پینے کے طورر و اطوار، رسم و رواج، لباس غرض تمام عوامل مختلف نوعیت کے ہیں۔ ایسا ہی دیہی اور شہری ثقافت میں بھی نمایاں فرق ہے۔ دیہی علاقوں میں کچے مکانات اب بھی موجود ہیں۔وہاں کی طرزِ زندگی شہری زندگی سے بہت مختلف ہے۔گاؤں کے سادہ سے لوگ اور ان کا مل جل کر رہنا انتہائی متاثر کن ہے۔شہروں میں سہولیات تو موجود ہیں مگر جدیدیت کے ساتھ ساتھ اتنی مصروفیات لوگوں کی زندگیوں کو جگڑے ہوئے ہے ۔ اپنی ثقافت کو پسِ منظر میں کرتے ہوئے، مغربی ثقافت کو اپنانے کی لو میں کہ ہر کوئی بس ایک مشین کی طرح چلتا چلاجا رہا ہے۔
قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختون خواہ میں پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ پٹھان لوگ محنت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ لوگ دلیر ہونے کے ساتھ ساتھ جفاکش اور جنگجو ہوتے ہیں۔اپنا کاروبار کرتے ہیں دنبے اور بکرے کا گوشت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ نسوار بھی اِنہی کی ثقافت کا حصّہ ہے۔یہ قوم بہت مہمان نواز قوم ہے، جب ہی مہمان نوازی میں ان کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ خوسی کے موقع میں خوشی کا اظہار ہوائی فائرنگ سے کرتے ہیں۔
ایسے ہی ہر صوبہ اپنی منفرد ثقافت اور انداز کے حامل ہے۔ پاکستانی کھانے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ہر علاقے کی شادی بیاہ کی رسمیں الگ ہیں۔ ہرقوم کے شادی نیاہ کا انداز منفرد ہے۔ پنجاب میں شادی کا اہتمام زور و شور سے کیا جاتا ہے۔ شادی کے دن سے پہلے ہی گھر میں مختلف تقاریب کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ دور دراز کے رشتہ دار شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آجاتے ہیں اور شادی والے گھر میں ہی قیام پزیر کیا جاتا ہے۔ ہفتہ بھر پہلے ہی ڈھولک رکھی جاتی ہے۔ پرات کی تھاپ پر لڑکیاں گیت گاتی اور رقص کرتی ہیں ۔ ٹپے اور ماہیے پنجاب ثقافت کی شان ہیں۔ اسی طرح لُڈی بھی اسی ثقافت کا ایک اہم اور خاص جُز ہے۔
ایسے ہی ہر علاقے کا اپنا ایک کھیل ہےجیساکہ پنجاب میں دیہاتی گلی ڈنڈا زیادہ کھیلا جاتا ہے۔ شٹاپو، لکن میٹی اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ہیں لیکن ان تمام کھیلوں میں ایک کھیل ایسا بھی ہے جوکہ صرف اور صرف پنجاب میں ہی کھیلا جاتا ہے اور وہ ہے بیلوں کی ڈور، یہ کھیل مختلف ثقافتی میلوں، تہواروں میں منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ روایتی مقابلے پنجاب کے علاقوں چکوال، خطہ پوٹھوہار وغیرہ میں موسمِ سرما اور بہار کےموسموں میں منعقد کیے جاتے ہیں، جو کہ فصل کی کٹائی کے موسم اور میلوں کے دنوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
غرض کھیل سےلے کر زندگی کے تمام پہلوؤں میں ثقافت ہی نہ صرف ہماری راہنمائی کرتی ہے بلکہ ہماری پہچان بھی ثقافت ہی کی بدولت ہے۔ لہٰذا ہم کہیں بھی ہوں کسی بھی خطہ، علاقے یا ملک میں ہوں ہماری پہچان ہی ہماری ثقافت ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت کو اپنائے رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اپنی ثقافتوں کو بھلا کر، بیرونی ثقافتیں اپنالیتے ہیں وہ اپنی پہچان کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی جڑیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی ثقافت کا خیال رکھتے ہوئے اسے اپنائے رکھنا چاہیے اسی سے قوموں کی خوشحالی ہے۔
تخریب کہ رہی ہے ثقافت کی داستان
تفصیل چاہیے تو چمن کا لحاف کھول
(منیر جعفری)
مرئی ثقافت:
مرئی ثقافت میں تنان ایسی چیزیں شامل ہیں، جنہیں ہم چھو سکتے ہیں ایسی تمام چیزوں جنہیں ہم اپنی ثقافت کی وضاحت کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان میں اوزار، کپڑا، کپڑے میں موجود مخصوص نقش و نگار، صنعت، کھڈیاں، برتن، ساز و سامان، زیورات اور مصنوعات وغیرہ شامل ہیں۔ وہ تمام اشیاء جو انسانی تخلیق ہیں وہ مرئی ثقافت حصّہ ہیں۔
غیر مرئی ثقافت:
غیر مرئی ثقافت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جنہیں ہم چھو نہیں سکتے۔ ان میں اخلاق و عادات، عقائد، تعویذ گنڈا، کردار، بولیاں، توہمات، طنز، داستانیں، اور محاورات وغیرہ شامل ہیں۔ اس قسم کی ثقافت کا ہماری زندگیوں پر اتنا ہی گہرا اور اہم اثر ہے جتناکہ مرئی ثقافت کا۔
قدیم ثقافت:
قدیم ثقافت وہ ہے جو صدیوں سے چلی آرہی ہو اور سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہو رہی ہو۔ یہ ثقافت زبانی ہمارے تک آتی ہے۔ مثال کہ طور پر سمجھ بوجھ، لوک کہانی، ٹوٹکے، جادو ٹونا، لوک داستانیں تعویذ گنڈا، توہمات، اور محاورات وغیرہ۔
جدید ثقافت:
جدید ثقافت وہ ہے جو بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ رائج ہو رہی ہوں اور عقت کی صورت اور حالات کے پیشِ نظر اپنائی جارہی ہوں۔ جدید ثقافت کہلاتی ہے۔مثال کے طور پر خط کا دور قدیم ہوا، اب جدید برقی ڈیوائسس جیساکہ موبائل فون کا استعمال کیا جارہا ہے۔ سادہ لباس کو ترک کر کے جدید فیش کے لباس اپنائے جا رہے ہیں۔ فنِ تعمیر یکسر بدل گئی ہے۔ ایسے کئی عناصر ہیں جوکہ جدید ثقافت کا حصّہ ناصرف بن گئے ہیں، بلکہ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت پر حاوی بھی ہوتے جارہے ہیں۔
عبوری ثقافت:
عبوری ثقافت نہ جدیدیت میں مکمل طور پر ہوتی ہے اور نہ ہی قدیم عناصر میں، یہ ان دونوں یعنی جدید و قدیم میں درمیان کی شے ہے۔ اور دونوں طرزِ ثقافت کو اپنائے ہوئے ہے۔مثلاً قدیم زمانے میں ٹرین کوئلوں کے ذریعے سے چلائی جاتی تھی اور آج کل جدید دور میں بھی ٹرین چل رہی ہے لیکن اس کے چلانے کے لیے جدید طر یقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جیساکہ برقی یا پھر اندھن وغیرہ۔ ایسے ہی کیمرہ ہوتے تھےجن میں ریل ڈالی جاتی تھی اور پھر تصاویر بنائی جاتی تھی، لیکن ان سے لی گئی تصاویر مدھم بلیک اینڈ وائیٹ بلکہ خستہ بھی ہوتی تھی۔ جبکہ آج کل جدیدیت کے دور میں بھی کیمرہ موجود ہے لیکن وہ موبائل فون اور جدید انداز میں رائج ہوچکے ہیں۔
نہ ہم مکمل طور پر مغربی جدید چیزوں کو اپنا رہے ہیں اور نہ ہی قدیم چیزوں کو چھوڑ پارہے ہیں۔ یہ تو وہی مثال ہوئی ”آدھا تیتر، آدھا بٹیر‘‘ بحرحال ساتھ ہی ساتھ ہماری ثقافت لسّی چل رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کافی، فیزی ڈرنک وغیرہ۔ یہ تمام عبوری ثقافت میں شامل ہیں۔











