نامور ادیب، حسنین نازشؔ کا سفر نامہ، ”امریکہ میرے آگے‘‘ – منزہ جاوید

نامور سفرنامہ نویس حسنین نازشؔ کے سفر نامہ، ”امریکہ میرے آگے‘‘ کی تقریبِ رونمائی ”اکادمی ادبیات پاکستان‘‘، اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا. تقریب بہت عمدہ رہی. تقریب میں بہت نامور ادیب اور شاعر تشریف فرما تھے، جہنوں نے ان کی کتاب کو پسند کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا.

جناب حسنین نازشؔ کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی کتاب ”امریکہ میرے آگے‘‘ مجھے بھی عنایت فرمائی. تو اب اس کو پڑھنا اور اس کے بارے میں لکھنا میرا بھی فرض ٹھہرا، سو کتاب کو پڑھنے کے لیے کھولا. کتاب پڑھنا شروع کی تو پڑھتے ہی چلی گئی. جی چاہا سارا سفر نامہ ایک ہی بار میں پڑھ لوں لیکن پھر بھی دو تین روز میں مکمل کتاب پڑھ سکی. حسنین نازشؔ صاحب نے کتاب کا انتساب اپنےچاہنے والوں کے نام لکھا ہے . یہ کتاب 158عنوانات پر مشتمل ہے. کتاب پڑھنے پر معلوم ہوا کہ نازشؔ صاحب دوستوں کے معاملے میں بہت خوش نصیب ہیں کہ ان کو اتنا اچھا دوست ملا جس نے امریکہ کے سفر کی نہ صرف دعوت دی بلکہ تمام اخراجات بھی خود برداشت کیے. یہ قابلِ ستائش بات ہے کیوں کہ آج کل نفسا نفسی کے اس دور میں ہر بندہ روزی روٹی کے چکر میں ہے اور اس دوست نے ان کو امریکہ آنے کا باقاعدہ دعوت نامہ ارسال کیا اور خرچہ اٹھانے تک کی بھی ذمہ داری لی.
بھئی نازشؔ صاحب چوں کہ ٹھہرے اچھی ملازمت کے مالک اور اس کتاب سے پہلے بھی کچھ کتابیں اور سفرنامے لکھ چکے ہیں تو ویزہ آفیسر نے آپ سے تھوڑے سے سوال و جواب کیے. کچھ دوست نے بھی جوابات کی تیاری کروا دی ہوئی تھی، نتیجتاً ان کا امریکہ کا ویزا آسانی سے لگ گیا. ہم جیسے تو سفارت خانہ کے چکر ہی لگاتے رہتے ہیں اور ویزا نہیں لگتا. نہ ہمارے پاس نہ اعلٰی ملازمت، نہ سفر نامے اور نہ ہی اتنے اچھے دوست جو وہاں بھی اچھی نوکری کر رہے ہوں اورہمیں مدعو کریں تو ہم بس خواب ہی دیکھ سکتے ہیں یا دوسروں کو جاتے دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں. حسنین نازشؔ نے اپنے بیوی بچوں سے بچھڑنے اورامریکہ جانے کی ملی جلی خوشی بیان کی. میرے خیال میں‌ وطن سے جانے والے تقریباً ہر فرد کی ایک جیسی ہی کیفیت ہوتی ہے. حسنین نازشؔ نے اپنے سفر نامے کو بہت عمدہ طریقے سے تحریر کیا ہے. سفر کے دوران اور وہاں جا کر ہر جگہ کو تاریخی پس منظر میں نہ صرف بیان کیا بلکہ اپنے ملک سے موزانہ بھی کیا. جیسے ان لوگوں کی صبح اٹھنے اور رات جلد سونے کی عادت کو پسند کیا اور حسرت کی کہ کاش ہمارے ملک میں بھی یہ عادتیں اپنائی جائیں. نوکری یا ملازمت اور کام پر وقتِ مقرہ پر پہنچ جائیں، رات جلد سو جائیں… کاش ایسا ہو جائے.
امریکہ امیر اور ترقی یافتہ ملک ہے لیکن وہاں بھی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ برائیاں بہت ہیں. جیسا کہ عموماً امیر گھروں کے بناوٹی درودیوار، ان کا رہن سہن، کھانا پینا، عام گھر سے مختلف ہوتا ہے لیکن امیر گھروں میں ہر شخص تنہائی کا مارا، اپنے اپنے کمروں میں قید، ماں باپ کی سربراہی اور محبت و شفت سے درو، بے زاری کا شکار نظر آتا ہے. ایسے ہی اُس ملک کا حال بھی بتایا گیا ہے. بےشک چمک دھمک بہت ہے، صفائی ستھرائی بھی ہے
لیکن معاشرہ بکھرا ہوا ہے. نشہ، بد کرداری، ایک دوسرے سے لاتعلقی، جنسی ہجان اور تنہائی…
حسنین نازشؔ نے وال سڑیٹ میں Free Hugs کا قصہ بیان کیا جس سے سبق ملتا ہے جب تک کسی چیز کی حقیقت کو نہیں جان لیتے، دخل مت دیں. انہوں نے اس قصے کے ذریعے وہاں کے داؤ پیچ کو سمجھایا. اسی طرح بروکلین بحراوقیانوس کی سیر میں بتایا کہ وہاں کے کچھ لوگ پاکستانیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، پڑھ کر دِلی دکھ ہوا.
آگے بحرِاوقیانوس کے کنارے قائم سینئر لیونگ میں بیمار بوڑھے ماں باپ بے بسی کی تصویر بنے، تنہائی کے مارے، اپنوں کی محبت کے ترسے،
جیسے حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں، پڑھ کر دل بھر آیا. پھر اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ کیا ہوا مَیں امریکہ میں نہیں رہتی، پاکستان میں رہتی ہوں. اپنے خاندان کے ساتھ، اپنے گھر میں خوش ہوں. اپنے بڑھاپے کا سوچ کر دل مطمئن ہو گیا کہ ان شاءاللہ ہماری اقدار، ہمارے معاشرتی نظام کے مطابق ہم بڑھاپے میں اپنے بچوں کے ساتھ ہوں گے. نیویارک میں (مین ہیٹن) کی زندگی اور ان کی سڑکوں پر پاکستانی چپل پہن کر چلنا… مزہ آ گیا. شکر ہے پاکستانی کسی چیز نے تو برے وقت میں ساتھ دیا،.بہت اچھا لگا یہ سب پڑھ کر.
پھر مصنف نے وہاں موم سے بنے مسجموں کے ساتھ تصویریں اور ان لوگوں کے ڈالر بٹورنے کے طریقے بتائے کہ کیسے وہ لوگ سیروسیاحت سے ڈالرکما رہے ہیں. (راک فیلر) میں فری تصویر کی آفر اور تصویر وصول کرتے وقت پینتیس ڈالر کی طلبی نے واضح کیا کہ وہاں کوئی چیز بھی مفت نہیں، فریب ہر جگہ ہے لیکن وہاں کا فریب مہنگا ہے.
نیوجرسی، جنگل کے بیج ڈمپسی ہاؤس اور ڈیول ٹری کے بارے میں پڑھ کر علم ہوا کہ جن، بھوت اور چڑیلیں ایشاء کے علاوہ سمندرپار امریکہ میں بھی ہیں.
امریکن سکس فلیگ پارک میں ان کے جھولے زگ زیگ رائیڈ اور رولر کوسڑ کا قصہ پڑھ کر بہت ہنسی آئی خاص کر جب سوار کروانے والی لڑکی نے ان کے سوار ہوتے وقت کے ڈر خوف کی وجہ سے واپسی پے ان پر جُملہ کَسا:
I was looking for making a history from your side but alas!
نیو جرسی شاپینگ جرسی گارڈن میں
Buy one Get one Free 10$
پڑھ کر بے اختیار ہنسی آئی اور سوچا، اتنا بڑا ملک ہے، اتنے ہی بڑے دھوکے فریب ہیں. ہم جیسے معصوم پاکستانی ڈالر کے ملک میں جب فری کی آفر دیکھتے ہیں تو جھپٹ پڑتے ہیں کہ مہنگے ملک میں فری سے فائدہ حاصل کریں پر ان کے گورکھ دھندے سمجھ میں جب آتے ہیں تب خود پر بیت چکی ہوتی ہے. امریکن نیچرل ہسٹری میوزیم میں بھی پاکستانی کسی اچھی روایات کو اجاگر نہیں کیا گیا. یہاں بھی پاکستان کی تقافت کو مسخ کر کے دکھایا گیا.
پھر آگے سفر نامے کو پڑھتے پتہ چلا کہ وہاں بھی جسم فرشی ہے. ہائے افسوس پیسے نے ہر جگہ ہی انسان کو پیجا اور خریدا ہے. غریب ممالک کی تو سمجھ آتی ہے، مفلسی ہے. پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے عورتیں جسم فروشی کرتی ہیں لیکن وہاں کیا مسئلہ ہے؟ کیا مرد ایک جسم سے اکتا کر دوسرے جسم سے لطف اندوز ہونا پسند کرتا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے جہاں پیسے کی ریل پیل ہے وہاں بھی عورت بک رہی ہے. جہاں نہ شرم ہے نہ حیا، نہ عورت مرد سے جسمانی ضرورت پوری کرے یا مرد مرد سے یا عورت عورت سے، سب جائز ہے. جہاں کپڑے پہننا بھی ایسے ہے جیسے برہنہ ہونا. عجیب ملک ہے. ایک طرف ترقی اتنی کے دنیا پر رعب حکمرانی ہے تو دوسری طرف تہذیب میں اتنا گرا ہوا ہے کہ کیچڑ کو بھی شرم آئے.
بہرحال حسنین نازشؔ صاحب کے سفر نامے سے اندازہ ہوا کہ ہر تفریحی اور سیاحتی مقام پر تلاشی لی جاتی ہے. پارکوں میں اچھا خاصا ٹکٹ ہے. وہاں کسی کی بات پر آنکھیں بند کر کے بلکہ کھلی آنکھوں سے بھی یقین نہیں کرنا کہ جب تک تحقیق نہ کر لیں اور دیارِغیر میں جہاں ایک سے بڑھ کر ایک حسینائیں اپنے حسن کی رعنائیاں بکھیر رہی ہوں وہاں تو اپنی بیگم ساتھ لے کر ضرور جائیں تاکہ نیم برہنا عورتوں سے اپنا ایمان بچا سکیں.
وائٹ ہاؤس میں جن بھوت ہونے پر بھی ہنسی آئی کہ کیا ان لوگوں کے ہوتے ہوئے، جو رات کی تاریکی میں میوزک پر شیطان کا روپ دھارے رقصں میں گم رہتے ہیں، کس کو کسی کی عزت کی پرواہ نہیں، کس کی بیوی کس کے ساتھ جائے… یہاں بھی کسی بھوت یا بھوتنی کی ضرورت ہے؟
پتہ چلا کہ امریکہ میں بھی جیب گرم ہو تو بندہ انجوائے کر سکتا ہے، جہاں کھانا تو ایک طرف، پانی بھی خرید کر پینا ہے. مفت میں ہوا ہے…
پس کتاب پڑھ کر بہت اچھا لگا کیوں کہ حسنین نازشؔ نے ہر جگہ کا حال بھی بتایا ہے اور اسے تاریخی پسِ منظر میں بھی بیان کیا ہے.
بس اب ویزا لگنے کی دیر ہے، میں بھی سیریں کروں گی. تمام مقامات کا کتاب میں پہلے ہی حوالہ موجود ہے، تلاش کرنے اور سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ کہاں جایا جائے؟ اور جہاں جانا ہے وہ مقام کہاں ہے؟ وہاں کیا کیا معاملہ درپیش ہو سکتا ہے. اتنی معلومات کے لیے حسنین نازشؔ صاحب آپ کے تحفے کا بہت شکریہ، بہت دعائیں، سلامتی ہو.

اپنا تبصرہ بھیجیں