مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں – نورین تبسم

نکلے تِری تلاش میں “پہلی کتاب۔۔۔ پہلا صفحہ۔۔- پہلے لفظ-۔۔‘‘
تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسی جگہ ہے جس کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت ہیں، اور درمیان میں ایک راستہ سا بن گیا ہے، میں اس راستے کے آخر تک جانا چاہتا ہوں۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسا جزیرہ ہے، دودھیا رنگ کا جس میں سُنہری گھاس کے تکونے میدان ہیں اور وہاں ایسی مورتیاں کھڑی ہیں جن کی بناوٹ اور دائرے بےکل ہیں. میں اُن مورتیوں کو چھونا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ
وہ راستہ اور وہ جزیرہ میرے ہیں
پہلا سرورق: عبدالرحمٰن چغتائی
دوسرا سرورق: صادقین

اپنی پہلی کتاب کے صفحہ اول پر جناب مستنصرحسین تارڑ کے وہ پہلے الفاظ، پہلی خودکلامی۔۔۔ جو چند جملوں میں آغازِسفرِ سے آج تک کی سوچ کہانی کہتی ہے۔۔۔ ان کی روح کے بھید کھولتی ہے۔ وہ روح جو جسم کی خواہشات اور ضروریات کے سامنے کہیں چھپ جاتی ۔ جسم کی جبلتوں کو مانتے مناتے اگر تھکنے بھی لگتی تو اپنی پیاس اپنی طلب سے کبھی غافل نہ رہی۔۔۔ وہ طلب جو دیکھنے والے آنکھ کے لیے محض دیوانے کی بڑ یا سستی شہرت کے لیے قلم کی روانی ٹھہری ۔ استہزاء اور عقیدت کے ان پرپیچ راستوں میں سے بچ بچا کر نکلتے ہوئے سفر آج بھی جاری ہے… اپنی اسی پہلی سوچ پر یقین کے ساتھ کہ….”وہ راستہ اور وہ جزیرہ میرے ہیں‘‘
بےشک کسی کو اپنانے پر یقین کی یہ کیفیت انسان پر اس کے رب کا عظیم فضل ہے۔۔۔ کہ یہی کیفیتِ مجازی کیفیتِ حقیقی کی راہ کا پہلا قدم بھی ہے اور جب بات فطرت اورقدرت سے قربت کی ہو تو تلاش کا سفر ہزار صعوبتوں کے باوجود تھکن کا احساس مٹا دیتا ہے۔
اللہ جناب تارڑ کو ذہنی اور جسمانی صحت والی زندگی کے ساتھ اس سفر پر رواں رکھے، آمین۔

شائع ہونے والی تمام کتابوں کا تعارف:

سفرنامے:

1) نکلے تِری تلاش میں
(افغانستان، ترکی، ایران، یورپ)
سفر: جون، جولائی 1969ء
اشاعت: 1971ء

2) اَندَلُس میں اجنبی
(سپین)
سفر: 1968ء
اشاعت: 1972ء

3) خانہ بدوش
(لبنان و یورپ)
سفر: 1975ء
اشاعت: 1983ء

4) ہُنزہ داستان
سفر: 1984ء
اشاعت: 1985ء

5) نانگا پربت
(بلتستان داستان)
سفر: 1986ء، 1989ء
اشاعت: 1991ء

6) سفر شمال کے
سفر: 1988ء
اشاعت: 1991ء

7) کےٹو کہانی
سفر: 1993ء
اشاعت: 1994ء

8) یاک سرائے
سفر: 1987ء، 1995ء
اشاعت: 1997ء

9) سنولیک
( بیافو ہسپر دنیا کے طویل ترین برفانی راستے پر سفر کی داستان)
سفر: 1996ء
اشاعت: 2000ء

10) چترال داستان
(گلگت، وادی گوپس، وادی بھنڈر، درۂ شندور، چترال، کافرستان)
سفر: 1994ء
اشاعت: 2004ء

11) کالاش
(وادی کافرستان کا ڈرامائی سفر نامہ)
اشاعت: 2015ء

12) نیپال نگری
سفر: مارچ 1998ء
اشاعت: 1999ء

13) برفیلی بلندیاں
(تلتر جھیل، پگوڈا ٹریک، درۂ گندگورو، لیلیٰ پیک ٹریک)
سفر: 2000ء
اشاعت: 2001ء

14) شمشال بےمثال
(سوات وخنجراب)
سفر: 1998ء
اشاعت: 2002ء

15) دیوسائی
سفر: 1997ء
اشاعت: 2003ء

16) پتلی پیکنگ کی
سفر: 2003ء
اشاعت: 2009ء

17) سنہری الو کا شہر
( ہندوستان)
سفر: 1965ء، 2004ء
اشاعت: 2005

18) رتی گلی
سفر: 1956ء، 1963ء، 2003ء
اشاعت: 2005ء

19) منہ ول کعبہ شریف
(حجاز نامہ)
سفر: 2003ء
اشاعت: 2006ء

20) غارِحرا میں ایک رات
(حجاز نامہ)
سفر: ستمبر 2004ء
اشاعت: 2006ء

21) نیویارک کے سو رنگ
سفر: 2005ء
اشاعت: 2013ء

22) الاسکا ہائی وے
سفر: ستمبر 2006ء
اشاعت: 2011ء

23) شترمرغ ریاست
اشاعت: 2007ء

24) ماسکو کی سفید راتیں
سفر: 1957ء، مئی 2007ء
اشاعت: 2009ء

25) ہیلو ہالینڈ
سفر: 1956ء، 1969ء، نومبر2010ء
اشاعت: 2011ء

26) لاہور سے یارقند تک
(سنکیانگ، چین)
سفر: 2013ء
اشاعت: 2014ء

27) امریکہ کے سو رنگ
سفر: 2012ء
اشاعت: اگست، 2015ء

28) آسٹریلیا آوارگی
سفر: اپریل، 2014ء
اشاعت: اگست، 2015ء

29) راکاپوشی نگر
سفر: 2014ء
اشاعت: اگست، 2015ء

30) اور سندھ بہتا رہا
سفر: 2015ء
اشاعت: جولائی، 2016ء

31) لاہور آوارگی
اشاعت: جنوری، 2017ء

32) پیار کا پہلا پنجاب
(نودن پنجاب کے)
اشاعت: جنوری، 2017ء

33) حراموش، ناقابلِ فراموش
اشاعت: 2017ء

ناول

1) پیار کا پہلا شہر
آخری صفحے کے آخری لفظ۔ یکم مارچ، 1972ء
پہلی اشاعت: 1975ء، اگلی اشاعت: 1983ء

2) پرندے
اشاعت: 1984
(دو ناولٹ کا مجموعہ)
1) پکھیرو (بنجابی ناول کا اُردو ترجمہ)
2) فاختہ (پہلی اشاعت: 1974ء)

3) جپسی
(سفری ناول)
اشاعت: 1987ء

4) بہاؤ
اشاعت: 1990ء

5) راکھ
(ایوارڈ: 1997ء)

6) پکھیرو
(پنجابی ناول)
اشاعت: 1976ء

7) قربت مرگ میں محبت
اشاعت: 2008ء

8) خس وخاشاک زمانے
اشاعت: 2010ء

9) دیس ہوئے پردیس
اشاعت: 2010ء

10) قلعہ جنگی
اشاعت: 2008ء

11) اےغزال شب
اشاعت: 2013ء

12) ڈاکیا اور جولاہا
اشاعت: 2012ء

13) Lenin for Sale
(ترجمہ: اےغزال شب)
اشاعت: 2017ء

طنز ومزاح، کالم:

1) گزارا نہیں ہوتا
(روزنامہ مشرق میں شائع ہونے والے فکاہیہ کالمز کا مجموعہ)
اشاعت: 1987ء

2) چِک چُک
اشاعت: 2003ء

3) اُلو ہمارے بھائی ہیں
اشاعت: 2007ء

4) ہزاروں ہیں شکوے
اشاعت: 1998ء

5) کارواں سرائے
اشاعت: 1998ء

6) تارڑ نامہ
اشاعت: 2009ء

7) تارڑ نامہ(1)
اشاعت: 2010ء

8) تارڑ نامہ (2)
اشاعت: 2012ء

9) تارڑ نامہ (3)
اشاعت: 2012ء

10) تارڑ نامہ (4)
اشاعت: 2014ء

11) تارڑ نامہ (5)
اشاعت: 2014ء

12) گدھے ہمارے بھائی ہیں
اشاعت: 2014ء

13) بےعزتی خراب
اشاعت: 2014

14) خطوط
(شفیق الرحمٰن، کرنل محمد خان، محمد خالداختر سے خط و کتابت)
اشاعت: 2012ء

15) Diary of a Vagabond
اشاعت: 2018ء

افسانے اور کہانیاں:

1) سیاہ آنکھ میں تصویر
اشاعت: 2009ء

2) پندرہ کہانیاں
اشاعت: اپریل 2015ء

ڈرامے، ٹیلی کہانیاں:

1) کیلاش

2) شہپر
(ٹیلی کہانی)
اشاعت: 2007ء

3) مورت

4) سورج کے ساتھ ساتھ

5) فریب

6) صاحب سرکار

7) ہزاروں راستے

8) پرواز

شائع شدہ کتب کی کُل تعداد: 69

جناب مستنصرحسین تارڑ کے ایک کالم کا عنوان اور حرفِ آخر میری طرف سے:
اپنے محسنوں کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔۔۔۔ (کالم: مستنصرحسین تارڑ، اشاعت: یکم فروری، 2015ء)
حرفِ آخر۔–
“جو اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، وہی نہ صرف دلوں میں بلکہ تاریخ کے اوراق میں بھی یاد رہتے ہیں”۔

مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں – نورین تبسم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں