چلتے ہو تو کمراٹ جہازبانڈہ (دیر کوہستان) کو چلیے – ذیشان رشید

دیر کوہستان (وادی پنجکوڑہ) چاروں طرف سے آسمان سے سرگوشیاں کرتے ہوئے سر سبز وشاداب پہاڑوں میں گھری‘ دلکش و حسین‘ مہکتی ہوئی وادی ہے، برف سے ڈھکے پہاڑ اور ان کی چوٹیوں پر اُڑنے والے سفید و سیاہ بادل‘ ایک طلسماتی منظر تخلیق کرتے دکھائی دیتے ہیں، دیر کوہستان برف پوش چوٹیوں اَن گِنت جھرنوں گلیشیئرز، پانی کے جھرنوں، چراگاہوں، گھنے جنگلات، قدرتی پارکوں، شفاف پانی کے چشموں اور جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کے گھنے جنگلات میں صنوبر، کائل دیار اور کنڈل وغیرہ کے درخت پائے جاتے ہیں۔

دیر کوہستان (وادی پنجکوڑہ) بنیادی طور پر چھ (6) گاؤں اور بے شمار وادیوں جسے گوالدئی، شیٹاک، کینگل، سبرو، جبڑئی، جنکئی یا جونکئی، دراگ، جندرئی، کمراٹ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ وادی پنجکوڑہ یا دیر کوہستان کا پہلا گاؤں پاتراک ہے، جسے مقامی کوہستانی زبان میں راجکوٹ بھی کہتے ہے، راجکوٹ وادی پنجکوڑہ کا دروازہ کہلاتا ہے، اور دیر کوہستان کا پہلا اور سب سے بڑا گاؤں ہے، دریائے پنجکوڑہ کے کنارے واقع اس گاؤں میں راج مور، رام مور وغیرہ کوہستانی قبائل آباد ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پشتون گوجر بھی آباد ہیں۔
بیاڑ دیر کوہستان کا دوسرا گاؤں ہے، یہاں جونور ملا نور (ملا خیل) وغیرہ کوہستانی قبائل آباد ہیں۔ گوجر اور پشتون بھی بڑی تعداد میں یہاں رہتے ہیں. بریکوٹ جس کا کوہستانی زبان میں نام بیود ہے، دیر کوہستان کا ایک اہم گاؤں ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر سرکاری نوکر پیشہ ہیں۔
کلکوٹ وادی پنجکوڑہ کا ایک خوبصورت گاؤں ہے۔ تحصیل کلکوٹ دیر کوہستان کا صدر مقام ہے، یہاں ٹی ایم اے (تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن) کے دفاتربھی واقع ہیں۔ اس کے علاوہ ممبر صوبائی اسمبلی محمد علی کا تعلق بھی کلکوٹ سے ہے۔ تیمر گرہ سے تھل جاتے ہوئے جگہ جگہ محمد علی صاحب کے نام کا ذکر مختلف ترقیاتی منصوبوں کے معلوماتی بورڈز اور پتھروں پر روغن کرکے نمایا ں کیا گیا ہے۔ کلکؤٹ دیر کوہستان کا ایک منفرد گاؤں ہے جہاں بیک وقت دو زبانیں بولی جاتی ہیں؛ گاوری اور کلکوٹی۔ کلکوٹی کا تعلق دردک گروپ کی شینا شاخ سے ہے، اور گاوری کا تعلق کوہستانی شاخ سے ہے۔

کلکوٹ میں وزیرور، جونور، دراگی ، چھوداخیل، ملانور وغیرہ کوہستانی قبائل آباد ہیں۔ کلکوٹ کے بعد لاموتی یا کینہ لام دیر کوہستان کا پانچواں گاؤں ہے۔ یہاں جونور، جنگی رور، دو کھو نور، ملا نور وغیرہ کوہستانی قبائل آباد ہیں۔ گوجر اور پشتون یہاں بھی آباد ہیں۔
دیر کوہستان کا آخری گاؤں تھل ہے، جو کہ دیر کوہستان کا دل کہلاتا ہے۔ تھل کو اگرجادوئی وادی کمراٹ کا بیس کیمپ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تھل اپنی تاریخی مسجد کے پہلو میں دریائے پنجکوڑہ کے کنارے صدیوں سے آباد ہے۔ یہاں گوجر اور پشتونوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیلور چترور اور میرور وغیرہ کوہستانی قبائل آباد ہیں۔ باٹا وار بنال، سالیٹ بنال، آسپا وان، چروٹ بنال، تکی شاہ بانال، کوش بنال، ریوشئی، بتوڑ بنال، کونڈل بنال، گورشئی بنال، ایزگلو بنال، خزان کوٹ، جہاز بانڈہ، کٹورہ جھیل وغیرہ دیر کوہستان کے اہم مقامات ہیں۔
یہاں ایسے آثار اور روایات بھی موجود ہیں جن سے زرتشت مذہب، بُدھ مذہب اور آریا مت (ہندو) کے متعلق گراں قدر معلومات ہاتھ آسکتی ہیں۔
یہاں پرگھاس سے بھرے میدانوں، لذت سے بھر پور ٹراﺅٹ، اپنی جڑوں میں خوفناک سانپ لیے رات کو جگنو کی طرح چمکنے والا پودا، ”بنگ سادپونڈ“، ”سوما‘‘ (اسے باٹنی میں اِفیڈرا پلانٹ کہا جاتاہے اور اس سے ایفیڈرین نامی دوائی کشید کی جاتی ہے) نامی پودا بھی پایا جاتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر قسم کی جسمانی قوت کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رِگ وید کے مطابق یہ پودا بہت قوت بخش ہے اور قدیم زمانے میں یہ روحانی قوت بڑھانے کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم کتابوں میں اس پودے کے حیرت انگیز کرشمے بیان کئے گئے ہیں۔ اس پودے سے ’’سوم رس‘‘ نامی شراب بھی نکالی جاتی تھی، جس کا ذکر سوم رس کے نام سے ہندؤں کی قدیم متبرک کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔

مارخور، برفانی ہمالیاتی چیتے، چکور، مرغ زریں اور بہت سارے دوسرے اقسام کے نایاب پرندوں کا مسکن یہ وادی سیاحوں کے لیے ابھی تک سر بستہ راز کی حیثیت رکھتی ہے۔
دریائے پنجگوڑہ میں ٹراﺅٹ مچھلی کی بہتات ہے لیکن اس برفیلے اور تند رفتار پانی میں مچھلی کا شکار نہایت مشکل ہے۔ بغیر مقامی تجربہ کاروں کی مدد کے یہ کام بہت خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ قدرتی چشموں اور جگہ جگہ رواں شفاف پانی کے باعث اس علاقے کو پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں بآسانی شامل کیا جا سکتا ہے۔ چاہے مختصر تفریحی دورہ ہو یا کیمپنگ کا ذوق رکھنے والوں کا تفصیلی سفر، وادی پنجکوڑہ ہر طرح کے لوگوں کے لیے ایک جنت سے کم نہیں۔

کمراٹ کے ارد گرد موجود بڑی آبشاریں بھی اس کی انفرادیت کو چار چاند لگاتی ہیں۔ ان آبشاروں تک پہنچنے کے لیے کچھ بلندی تک چلنا پڑتا ہے لیکن کمراٹ جا کر ان آبشاروں کا قریب سے مشاہدہ نا کرنا بدذوقی ہی کہی جا سکتی ہے۔ دیر کوہستان کےتمام علاقوں کے لوگ اپنی قدیم تہذیب میں رنگے ہوئے ہیں۔
دیر کوہستان کے لیے ایک راستہ ضلع سوات سے بھی ممکن ہے۔ کالام اور اتروڑ سے ہوتا ہوا یہ راستہ ایک دشوار، نہایت بلند لیکن انتہائی گھنے جنگلات میں سے گزرتا ہے۔ اس راستے سےسفر اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد سفر ہے۔ اس سفر کے لیے چھوٹی جیپ اور چاک و چوبند ڈرائیور کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ دریائے پنجکوڑہ کے کنارے واقع یہ خوب صورت مقام دلوں میں نئی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس وادی کا رُخ کرتے ہیں یہاں کے دل فریب مناظر میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ وادی پنجکوڑہ کی خوب صورتی اور حسین مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پختہ سڑک کی غیر موجودگی نے اس خوبصورت وادی کو سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہواہے۔
دیر کوہستان کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی، مویشی پالنا، اور کچھ دوسرے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں، اب گزشتہ چند سالوں سے دیر کوہستان کے نوجوان باہر ملکوں میں (سعودی عرب، دبئی، قطر اور افریقہ) میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔
دیر کوہستان میں تعلیم کے حد سے زیادہ کمی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہاں پر نوابوں کی حکمرانی ہے کیوں‌کہ انہوں نے لوگوں کو تعلیم کے بجائے اندھیروں میں رکھا اور اپنے کام کاج کے لیے (بیگار) لیتے تھے، اس لیے 1960ء تک پوری ریاست دیر میں ایک یا دو میٹرک پاس لوگ تھے جنہوں نے بھی چھپے چھپے پشاور یا دوسری جگہوں سے تعلیم حاصل کی تھی۔
نوابوں کے دور میں کسی کو بھی سفید رنگ کی کپڑے کی پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ نواب دیر نے اپنے لیے مختلف علاقوں میں ”ملک‘‘ رکھے ہوئے تھے اور ان کے مدد سے لوگوں سے سالانہ ٹیکس (قلنگ) لیتا تھا. اگر کوئی ملک یا شخص حکم ماننے سے انکار کر دیتا تو اس کو علاقہ بدر کیا جاتا تھا۔ 1960ء تک کوئی تعلیمی نظام نہیں تھا، کوئی ہاسپٹل نہیں تھا. اگر کوئی بیمار ہوتا تو گهریلو جڑی بوٹیوں سے اس کا علاج کیا جاتا تھا۔
13 اگست کی رات 8 بجے کے قریب ”مسافرانِ شوق‘‘ کا قافلہ اس جادوئی وادی کی سیر کو روانہ ہوا۔ سفر طویل تھا لیکن شوق جب رہنما ہو تو سفر کی طوالت باعث زحمت نہیں ہوتی۔ ہم اسلام آباد سے ہوتے ہوئے مردان، چکدرہ، تیمر گرہ اور شرینگل سے ہوتے ہوئے تھل کی جانب رواں دواں تھے۔ رینگل ایک خوبصورت اور سہولیات سے آراستہ جگہ ہے، جہاں شہید بے نظیر یونیورسٹی، علاقے کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تیمر گرہ میں بھی تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ یہ ایک اچھی اور با رونق جگہ ہے۔ یہاں تک سڑک کی حالت بھی بہت اچھی ہے۔ سوات موٹروے بننے کی وجہ سے یقیناً اس طرف آنے والے سیاحوں کو کافی سہولت اور آسانی ہو جائے گی۔

16 گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہم دوپہر کے قریب تھل پہنچے تو موسم کچھ زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ عمومی طور پہ پہاڑی علاقوں کے تصور کے ساتھ ہی خنکی اور ٹھنڈک کا احساس ذہن میں جاگ اٹھتا ہے مگر تھل میں یہ خنکی اور ٹھنڈک مفقود تھی۔
طعام اور مختصر قیام سے فارغ ہو کرہماری اگلی منزل ”تکی بانڈہ‘‘ تھی جہاں سے آگے ہمیں جہاز بانڈہ کی طرف سفر کرنا تھا۔ تھل سے جیپ کے ذریعے تقریباً 2 گھنٹے میں نسبتاً دشوار گزار راستے سے ہوتے ہوئے ہم تکی بانڈہ پہنچ سکتے ہیں۔ گاڑی یہاں سے آگے نہیں جاتی۔ یہاں سے جہاز بانڈہ کی طرف پیدل سفر کیا جاتا ہے۔ نارمل سپیڈ سے چلتے ہوئے یہاں سے جہاز بانڈہ تک تقریباً 4 گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم چوں کہ اپنے طے شدہ وقت سے لیٹ یہاں پہنچے تھے اس لیے پارکنگ سے جہاز بانڈہ ٹریک کے بیس کیمپ تک آتے آتے رات کا اندھیرا چھا گیا اور مزید سفر روک دیا گیا. خیمہ بستی آباد ہوئی اور ہم سب اپنی اپنی مصروفیات میں مبتلا ہو گئے۔ کہیں خیمہ لگانے کی مشق شروع ہوئی، کہیں کھانا پکنے لگا، کہیں بون فائر کے لیے لکڑیاں اکٹھی ہونا شروع ہو گئیں۔ رات دیر گئے تک یہ سب معاملات چلتے رہے اور اس کے بعد ہم اپنے ”نیلے خیمے‘‘ میں پناہ گزین ہو گئے۔
پروین شاکر یاد آ گئیں:
”رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی
میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی
تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے
تیری بانہیں، ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے
سب سے بڑھ کر، مری جاں! تو ہے ابھی میرے لیے
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی
آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!
آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا
عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا
میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!
آج کی شب تو بہت کچھ ہے، مگر کل کے لیے
ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد
رنگِ اُمید کھِلے گا کہ بکھر جائے گا!
وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!
جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا
خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا‘‘

اسی ادھیڑ بن میں رات کے آخری پہر بارش نے آ لیا۔ ڈگری بنگلے کے خوفناک تجربے کے بعد اب کی بار ہم واٹر پروف کیمپ ساتھ لائے تھے سو یہ بے فکری تھی کہ انشاء اللہ بارش پریشان نہیں کرے گی۔ بارش نے بھی ہمارا زیادہ امتحان نہیں لیا۔ صبح جب خیمے کا پر دہ اٹھا تو ماحول میں کوئی خاص رومانیت تو نہ تھی البتہ ایک سکون آور کیفیت ضرور تھی۔ ہلکے پھلکے ناشتے سے فراغت کے بعد ہماری اگلی منزل جہاز بانڈہ تھی۔ جہاز بانڈہ سطح سمندر سے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ تکی بانڈہ سے جہاز بانڈہ تک کا سفر کافی چڑھائی والا سفر ہے۔ راستے میں خوبصورت چشمے، جنگل اور ایک خوبصورت سا میدان بھی آتا ہے جہاں ایک زیر تعمیر مسجد نے بہت دل ربائی کی۔ میرے ساتھ میرا منجھلا بیٹا یحییٰ ذیشان تھا جس کی دھیمی رفتار مجھے اردگرد کے مناظر کو اپنے اند سمونے کا بھرپور موقع فراہم کر رہی تھی۔ ہم دونوں باپ بیٹا وقت اور زمانے کی رفتار سے بے نیاز اپنی دھن میں مست مگن ہو کے دھیرے دھیرے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ چمکتے ہوئے دن کی دودھیا روشنی میں ہر منظر نمایاں تھا۔ لوگوں کا آنا جانا بھی مسلسل جاری تھا۔ ہم بتدریج آگے بڑھتے رہے اور بالآخر جہاز بانڈہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ جہاز بانڈہ میں سیاحوں کے قیام و طعام کے لیے گرمی کے سیزن میں عارضی ہوٹلز اور ریسٹورینٹ بھی موجود ہوتے ہیں۔ جہاز بانڈہ سے تقریباً 3 گھنٹے کی مسافت پہ یہاں کی سب سے خوبصورت جھیل ”کٹورہ‘‘ جھیل موجود ہے جسے مقامی زبان میں گھان سر بھی کہتے ہیں۔ یہ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پہ واقع ہے۔ بوجوہ میں کٹورہ جھیل کا ٹریک نہیں کر سکا اور جہاز بانڈہ سے ہی واپس آنا پڑا۔

واپسی پہ ڈاکٹر کاشف علی صاحب، عمران احسان صاحب اور میرے دونوں بیٹے مجتبیٰ اور یحییٰ بھی میرے ہم راہ تھے۔ نہایت دھیمی رفتار سے چلتے چلتے ہم واپسی پہ پکوڑے کھاتے، چائے پیتے، فوٹو گرافی کرتے تکی بانڈہ پہنچے جہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر ہمیں راتوں رات کمراٹ پہنچنا تھا. تھکاوٹ اور نیند سے بے حال ہونے کے باوجود کمراٹ پہنچنے کا شوق سر پہ سوار تھا۔ تکی بانڈہ سے ڈیڑھ گھنٹے میں ہم نیچے تھل پہنچے اور وہاں سے اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں ہم کمراٹ پہنچے جہاں ایستادہ خیمہ بستی ہماری منتظر تھی۔ کمراٹ پہنچتے ہی گرما گرم کھانا ہمارا منتظر تھا۔ کھانا کھایا، ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی اور پھر رات طاری ہو گئی۔
اگلی صبح ہماری منزل کمراٹ آبشار تھی جسے کچھ لوگ ”سراج آبشار‘‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق صاحب سب سے پہلے تشریف لائے تھے اس لیے ان کے نام کی مناسبت سے اسے سراج آبشار کہا جاتا ہے۔ یہ آبشار تقریباً 150 فٹ بلند ہے اور بہت زیادہ زور آور نہیں ہے اس لیے لوگ اس کے گرتے پانی تلے آسانی سے پہنچ کر نہاتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ وادی کمراٹ 20 سے 35 کلومیٹر کے درمیان پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں دیکھنے لائق 4 اہم مقامات ہیں جن میں کمراٹ کا جنگل، آبشار، کالا چشمہ اور دو جنگہ جیسے مقامات ہیں۔ دو جنگہ سے آگے ایک خوبصورت جھیل شہ زور بھی ہے جو غالباً اس وادی کی سب سے بلند جھیل ہے لیکن یہاں تک پہنچنا بہت دشوار گزار اور طویل سفر کا متقاضی ہے۔ کمراٹ کی خوبصورتی وہاں کا بہتا پانی ہے جسے دریائے پنجگوڑا کہا جاتا ہے۔ دریا کنارے خیمہ گاڑے بیٹھیں رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔

اب چند مسائل اور تجاویز کا تذکرہ کیے لیتا ہوں جو وادی کمراٹ کی سیر کے دوران توجہ طلب ہیں:
1۔ وادی میں سڑکوں کی حالت زیادہ بہتر نہیں ہے جس کی وجہ سے سفر کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔
2۔ جا بجا ہوٹلوں کی بہتات اور عارضی خیموں کے قیام کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی جس سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
3۔ علاقے میں صفائی ستھرائی کا بھرپور فقدان ہے۔ سیاحوں کی زیادہ تعداد میں ان علاقوں میں آمد کے نتیجے میں یہ مسائل اور گھمبیر ہوں گے۔
4۔ علاقے کے لوگ ابھی سیاحت کے مروجہ طور طریقوں سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ ان کی تربیت کے لیے حکومتی سطح پہ فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
5۔ ان علاقوں میں جانے والے سیاحوں کو بھی نظم و ضبط کا پابند بنانا بڑا ضروری ہے ورنہ علاقے کی خوبصورتی کو متاثر کرنے والے عوامل اختیار سے باہر ہو جائیں گے۔
6۔ سیاحتی معاملات کو اصول اور ضابطے کے مطابق نمٹانے کے لیے فوری طور پہ حکومتی لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
7۔ علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے۔
8۔ کمراٹ میں خاص طور پہ اور وادی کے بقیہ سیاحتی مقامات پہ بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ہنگامی امداد کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ ہے، اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
9۔ علاقے میں رابطے کی آسانی کے لیے ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں کو اپنی خدمات بڑھانے کی ضرورت ہے۔
10۔ بینک اور اے ٹی ایم مشینیں زیادہ تعداد میں لگائی جائیں تاکہ رقم کی ادائیگیوں کا سلسلہ آسان ہو سکے۔
11۔ گاڑیوں کی حالت کو بہتر بنانے اور کسی حادثے سے بچنے کے لیے ان کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔
12۔ گھوڑے والوں کو ٹریک کے اوپر لوگوں کو گھوڑے پہ بٹھا کے گھوڑا چلانے کی بھرپور تربیت کی ضرورت ہے ورنہ کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
13۔ مزید ہوٹلوں کے قیام اور کھانے پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی فراہمی کے لیے بہتر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
14- کمراٹ اور جہاز بانڈہ کو مزید پر کشش بنانے کے لیے فوری طور پہ ان معاملات پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(مسافرِ شوق)

(نوٹ: علاقے کی بنیادی معلومات و تاریخ پہ مبنی بیانیہ عمران خان آزاد المعروف گمنام کوہستانی سے مستعار لیا گیا ہے۔)

2 تبصرے “چلتے ہو تو کمراٹ جہازبانڈہ (دیر کوہستان) کو چلیے – ذیشان رشید

اپنا تبصرہ بھیجیں