”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر

محمد راشد فرہاد معاصر اردو شاعری کے اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے خاموشی، سادگی اور احساس کی گہرائی کے ساتھ اپنی ایک الگ شعری شناخت نہ صرف قائم کی ہے بلکہ کافی ھد تک اسے برقرار رکھنے میں بھی کامیاب و کامران نظر آتے ہیں. ان کا تخلیقی سفر بتدریج آگے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور ان کے پہلے تین شعری مجموعے ”وہ کتنی حسین شام تھی‘‘، ”شب بیت گئی‘‘ اور ”بوند‘‘ ان کے سفرِ سخن کے اہم مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان مجموعوں میں شاعر کے احساسات، مشاہدات اور زندگی کے مختلف تجربات کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اب ان کا چوتھا شعری مجموعہ ”خاموش فضا‘‘ قارئین اور شاعری کا ذوق رکھنے والے اہل. علم کے سامنے ہے جو ان کے فکری اور شعری ارتقاء کی ایک پختہ اور متوازن شکل کا حامل ہے۔ اس مجموعے کا عنوان ہی ایک ایسی داخلی فضا کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں خاموشی، یاد، تنہائی اور محبت کے مختلف النوع رنگ ایک لطیف انداز میں ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف شاعر کے جذباتی تجربات کی عکاس ہے بلکہ اس میں انسانی زندگی کی دیگر کیفیات کو بھی بڑی نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
”خاموش فضا‘‘ بنیادی طور پر غزلیات پر مشتمل مجموعہ ہے، تاہم اس میں نظمیں اور قطعات بھی شامل ہیں جو شاعر کے تخلیقی تنوع اور فکری وسعت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ محمد راشد فرہاد کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف ان کی سادگی اور خلوص ہے۔ وہ اپنے احساسات کو مشکل تراکیب اور پیچیدہ علامتوں کے بجائے سادہ اور رواں الفاظ میں بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اشعار براہِ راست قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی داخلی صداقت محسوس ہوتی ہے جو تصنع سے بالکل پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں زندگی کے عام تجربات بھی ایک خاص معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ایک غزل کے اشعار دیکھیے:

وہ مجھ سے جدا ضرور ہے
مگر مجھ سے ملا ضرور ہے
کوئی تو بات ایسی تھی
جس سے وہ خفا ضرور ہے
چند دن تو گزارے تھے اس نے
اس کو کوئی نہ کوئی ملی سزا ضرور ہے

ان کی غزلوں میں محبت، ہجر، یاد، تنہائی کرب اور انسانی رشتوں کی نزاکتیں بڑے لطیف اور پراثر انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ وہ محبت کو محض ایک رومانوی جذبے کے طور پر نہیں بلکہ ایک گہری انسانی کیفیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں امید بھی ہے، محرومی بھی اور یادوں کی ایک نرم سی اداسی بھی۔ ان کی ایک غزل کا مطلع ہے:

دو چار قدم ساتھ چلا کرے کوئی
پھر نہ ایسی خطا کرے کوئی

ان کی غزلوں میں جذبوں کی سچائی اور بیان کی سادگی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

میں نے دیکھا ہے سمندر کے اس پار
وہ ملا ہے مجھے سمندر کے اس پار

اسی طرح ایک غزل کے یہ اشعار:

آنکھوں میں نیند ہے مگر خواب نہیں
آپ کا بھی کوئی جواب نہیں

انسانی دل کی اُس کیفیت کو بیان کرتے ہیں جس میں بظاہر سکون موجود ہوتا ہے مگر اندر ایک خلا اور بے چینی چھپی ہوتی ہے۔ محمد راشد فرہاد کی غزلوں میں یہی داخلی کشمکش اور جذباتی گہرائی و گیرائی بار بار سامنے آتی ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے باوجود ایک لطیف سی معنویت کار فرما ہے جو قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح ایک اور غزل میں وہ تقدیر اور اتفاقی ملاقات کے لمحے کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

ایک ہی شخص تھا کیا اس افسانے میں
انجان شخص ملا مجھے انجانے میں

غزل کا یہ مطلع نہ صرف ایک واقعے کی طرف اشارہ کررہا ہے بلکہ انسانی زندگی کے اُس عجیب اور پراسرار پہلو کو بھی ظاہر کرتا محسوس ہوتا ہے جس میں بعض ملاقاتیں غیر متوقع ہوتے ہوئے بھی دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کی غزلوں میں یہی سادگی، روانی اور جذبات کی صداقت ان کی شاعری کو دلنشیں بناتی ہے۔

اس مجموعے میں شامل نظمیں بھی اپنی ایک الگ اہمیت رکھتی ہیں۔ محمد راشد فرہاد کی نظموں میں منظر نگاری اور داخلی و خارجی کیفیات کا امتزاج بہت خوبصورتی سے نظر آتا ہے۔ نظم ”محبت‘‘ میں شاعر نے محبت کو کسی پیچیدہ فلسفیانہ تعریف کے بجائے چند سادہ مگر معنی خیز علامتوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ چاند کی ٹھنڈک، دسمبر کی سردی اور اداس شام کا منظر دراصل محبت کی اُس کیفیت کی علامتیں ہیں جو دل میں ایک نرم اور خاموش احساس کے طور پر جنم لیتی ہے۔ اس نظم میں شاعر محبت کو خوشی اور غم دونوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس میں مسرت اور اداسی دونوں پہلو ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح نظم “دسمبر” میں شاعر نے موسمِ سرما کی فضا کو انسانی احساسات کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا ہے کہ سرد راتیں، زرد پتّے، اداس پھول اور دھندلی یادیں سب مل کر ایک ایسی اثر انگیز کیفیت پیدا کرتے ہیں جو تنہائی اور یادوں کی شدت کے احساسات کی گہرائیوں کا احساس دلاتی ہے۔ اس نظم میں دسمبر محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک جذباتی استعارہ بن کر ابھر آتا ہے جس میں ماضی کی یادیں، خاموش لمحے اور دل کی اداسی ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ محمد راشد فرہاد کی نظموں کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ کم الفاظ میں ایک مکمل فضا قائم کر دیتے ہیں یہ کفایت لفظی کچھ اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ قاری خود کو اس فضا کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح اس مجموعے میں شامل قطعات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ قطعات مختصر ہونے کے باوجود شاعر کی فکری گہرائی اور تجربے کی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک قطعہ غور طلب ہے:

مجھ سے ہاتھ اور غیروں سے نظر ملاتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں رواداریاں نبھاتے ہوئے
میرے دکھوں کا کسی کو اندازہ نہیں ہے
میں پھر بھی ملتا ہوں لوگوں سے مسکراتے ہوئے

قطعے میں محمد ارشد فرہاد زندگی کے تلخ تجربات کے باوجود اپنے حوصلے اور برداشت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے رویے اور زمانے کی سختیاں اسے توڑ نہیں سکتیں اور وہ اب بھی مسکراتے ہوئے لوگوں سے ملتے ہیں۔ اس قطعے میں انسان کی اندرونی مضبوطی اور صبر کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی گئی ہے۔ ایک اور قطعے میں شاعر تنہائی اور خود سے وابستگی کے احساس کو بیان کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کبھی کبھی انسان دنیا کی ہنگامہ خیزی سے دور رہ کر اپنی ذات میں سکون تلاش کرتا ہے اور اکیلا رہنا اس کی عادت بن جاتا ہے۔ اس قطعے میں انسانی نفسیات کی ایک گہری کیفیت کو نہایت سادہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ محمد راشد فرہاد کے قطعات کی یہی خصوصیت ہے کہ وہ مختصر ہوتے ہوئے بھی فکر اور معنی کی ایک وسیع دنیا اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ”خاموش فضا‘‘ محمد راشد فرہاد کی شعری بصیرت، فکری پختگی اور احساس کی لطافت کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اس مجموعے میں شامل غزلیں، نظمیں اور قطعات مل کر ایک ایسی شعری فضا قائم کرتے ہیں جس میں محبت، یاد، تنہائی اور زندگی کے مختلف تجربات ایک ہم آہنگ انداز میں جلوہ نما ہوتے ہیں۔ شاعر کی زبان سادہ ہے مگر اس سادگی میں ایک دلکش تاثیر پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار قاری کے دل میں دیر تک گونجتے رہتے ہیں۔ محمد راشد فرہاد کی شاعری میں نہ تو بناوٹ ہے اور نہ ہی غیر ضروری الجھاؤ یا پیچیدگی، بلکہ ایک صاف اور سچا کھرا احساس ہے جو ان کے ہر شعر اور ہر نظم میں جھلکتا ہے۔ ان کی یہی خصوصیت انہیں معاصر اردو شاعری میں ایک قابلِ قدر مقام عطا کرتی ہے۔
”خاموش فضا‘‘ صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک داخلیت کی دنیا کا وہ آئینہ ہے جس میں انسانی جذبات، یادوں کی دھند، محبت کی نرمی اور تنہائی کی خاموشی ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہ مجموعہ محمد راشد فرہاد کے تخلیقی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے اور امید ہے کہ یہ کتاب اردو شاعری کے قارئین میں اپنی ایک مستقل جگہ بنائے گی اور شاعر کے ادبی مقام کو مزید استحکام سے آشنا کرے گی۔