ڈاکٹر اکرم خاور ایک مدت سے علم و دانش کے میدان میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں.
وہ بے یک وقت شاعر، محقق، مورخ، کہانی کار اور متعدد طبی کتابوں کے خالق ہیں. ان کی زیر بحث تحقیقی تصنیف ”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘ اس تاریخی خطے کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل فضل الرحمن قاضی کی ایک مختصر سی تصنیف اس اہم موضوع پر موجود ہے ڈاکٹر اکرم خاور نے اپنی تحقیقی کاوش سامنے لاکر کافی حد تک اس موضوع پر پائے جانے والی تشنگی کو دور کر دیا ہے.
یہ تحقیقی کتاب ایک نادر دستاویز ہے یہ تحقیق بلوچستان کے بیابانوں،دشت اور صحراؤں میں اسٹیج ڈرامہ کی آبیاری کرنے والوں کی محنت کا ایک جامع احاطہ اور ان کی خدمات کو ایک ماہر لکھاری کا خراج تحسین ہے. مصنف نے اپنے وسیع تر مطالعے کو بروئے کار لاکر اس اہم موضوع کے نئے نئے زاویے اور فکر و خیال کے خوشنما شگوفے تخلیق کیے ہیں جو اس وقت ایک اعلی تحقیقی فن پارے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے.
بلوچستان کی ادبی تاریخ میں ڈرامہ نگاری اور اسٹیج کی پیشکش کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جو دیگر شعبہ ہائے فن کے حصے میں آئی۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ڈاکٹر اکرم خاور کی یہ کتاب ایک روشن مینار ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے جس عرق ریزی سے بلوچستان میں اسٹیج ڈرامے کے ارتقاء کو پانچ ابواب میں سمویا ہے، وہ ان کے علمی قدوقامت اور علم و فن سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کتاب کی بات کی جائے تو وہ منطقی ترتیب اور تحقیقی تسلسل کا بہترین نمونہ معلوم ہوتی ہے.
کتاب کے پہلے باب میں ڈرامے کے بنیادی نقوش اور اس کے تسلسل پر بحث کر کے ڈاکٹر صاحب نے ایک ٹھوس بنیاد قائم کی ہے۔
دوسرے سے چوتھے ابواب تک، مصنف نے ڈرامے کو تین مختلف ادوار میں تقسیم کر کے صوبہ بلوچستان میں اس کے ارتقائی سفر کو علمیت اور تابندگی سے واضح کیا ہے۔ خاص طور پر معاشرتی مسائل کو ڈرامے کے پس منظر کے طور پر پیش کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچستان کا اسٹیج کبھی بھی سماج سے کٹا ہوا نہیں رہا۔اس خطے کے ڈرامہ نگاروں نے سماجی استفادے سے کام لے کر اعلی ،سبق آموز اور موثر اسٹیج ڈرامے تخلیق کیے ہیں.
کتاب کا پانچواں باب اسٹیج ڈرامے میں تبدیلی کے رجحانات پر مبنی ہے، جس کا مطالعہ یہ آشکار کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے اس خطے میں تخلیق کاروں نے اسٹیج ڈرامہ نگاری کے موضوعات اور تکنیک میں کس طرح جدت پسندی کو اپنایا ہے.
ڈاکٹر اکرم خاور کا اسلوبِ تحقیق سائنسی اور معروضی ہے۔ ان کی تحقیق کی چند نمایاں خصوصیات میں جامعیت خاص طور پر سر فہرست ہے انہوں نے صرف کتابی مواد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ متعدد سینئر اسٹیج اداکاروں کے انٹرویوز کتاب میں شامل کرکے زندہ جاوید کرداروں اور فنکاروں کے تجربات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے جو اس تحقیق کو “بنیادی ماخذ” کا درجہ دے دیتا ہے۔
وہ صرف واقعات ہی بیان نہیں کرتے بلکہ نتائج پر بحث کے ذریعے ان عوامل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جنہوں نے اسٹیج ڈرامے کو متاثر کیا۔
سفارشات اور تحقیق کی افادیت کتاب کا وہ حصہ ہے جو اس اہم تحقیق کو محض ماضی کا قصہ نہیں رہنے دیتا بلکہ مستقبل کے محققین اور ڈرامہ نگاروں کے لیے ایک “روڈ میپ” فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر اکرم خاور کی تحریر میں ایک خاص قسم کا وقار اور شگفتگی ہے۔ ان کی تحریر میں سادگی و سلاست نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ پیچیدہ فنی اصطلاحات کو اس قدر سادہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ ایک عام قاری بھی بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ کی تاریخ سے جڑ جاتا ہے۔
جب وہ ڈراموں کے ادوار اور معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں، تو ان کی تحریر میں ایک بصری کیفیت (Visual Quality) پیدا ہو جاتی ہے، گویا قاری خود اس دور کے اسٹیج کا مشاہدہ کر رہا ہو۔
اچھے محققین کی سب سے بڑی خوبی غیر جانبداری ہے بحیثیت محقق و مصنف ڈاکٹر اکرم خاور نے کہیں بھی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا، بلکہ فنکارانہ دیانت داری کے ساتھ خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔
مجموعی طور پر، “بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ بلوچستان کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم باب ہے جو ادبی محاسن اور مصنف کی تخلیقی رعنائیوں کا ایک دلنشین مرقع ہے ۔ ڈاکٹر اکرم خاور نے بکھرے ہوئے حقائق کو یکجا کر کے اس فن کو وہ وقار بخشا ہے جس کا یہ حقدار تھا۔ یہ کتاب ہر اس طالب علم اور محقق کے لیے ناگزیر ہے جو اردو ڈرامے اور بالخصوص بلوچستان کی تہذیبی تاریخ کو سمجھنا چاہتا ہے.
میں انھیں اس اہم کارنامے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں.











