”کوئی ہے‘‘ شیر افگن خان کا مجموعہ کلام – محمد اکبر خان اکبر

جناب شیر افگن خان جوہر کا شعری مجموعہ ”کوئی ہے‘‘ جدید اردو غزل اور نظم کے افق پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند چمک رہا ہے. یہ مجموعہ کلام اپنی رعنائی اور معنوعی گہرائی سے قاری کے دل و دماغ پر گہرا تاثر قائم کرتا محسوس ہوتا ہے۔ شاعری کے بارے میں مشہور انگریز شاعر ورڈز ورتھ کا قول ہے کہ ”شاعری تمام علم کا جذباتی طور پر ظہور ہے.‘‘
جب کہ میر تقی میر کے نزدیک ”شاعری یہ ہے کہ کہے سے معنی نکلے‘‘
یہی سب خوبیاں شیر افگن جوہر کے کلام میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ملتان کی صوفیانہ روایات سے فیض یاب ہونے والے اس شاعر کے ہاں شہر کے تہذیبی ورثے کی نرمی، لطافت اور دردمندی کے ساتھ ساتھ جدید حسیت کی چمک دمک بھی موجود ہے۔
ان کے لب و لہجے میں ایک خاص قسم کی شگفتگی اور ہمدردی کا احساس پایا جاتا ہے، جہاں جذبات کی شدت کو نرم اور پُر سوز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کیفیت ان کے اس شعر میں صاف نظر آتی ہے:

سکوں تو موت جیسا ہے تیری بانہوں کے حلقے میں
نہیں ہوں میں ٹھہر جانے کا خوگر کس طرح آؤں

ان کی شاعری موضوعاتی تنوع کا بھی عمدہ نمونہ پیش کرتی ہے، جس میں محبت کی نزاکتوں سے لے کر زندگی کے فلسفیانہ پہلو، وقت کے ساتھ سفر کی داستانیں، یادیں اور حمدیہ کلام تک سب کچھ شامل ہے۔
اس مجموعے کی خاصیت اس کی مترنم بحریں، غنائیت اور موسیقیت ہیں جو ہر شعر میں ایک خاص لے پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے سہل ممتنع کے اصول کو برتتے ہوئے گہرے خیالات کو انتہائی رواں اور سلیس انداز میں پیش کیا ہے، جیسے ایک شعر میں کہتے ہیں کہ:

یونہی چلیں گے تو منزل رسید ٹھہریں گے
چلو کہ ساتھ کسی راہنما کے چلتے ہیں

ان کے شاعری میں جمالیاتی حسن کی موجودگی بھی قابل ذکر ہے، جہاں ”ماہ و سال کی وحشت‘‘ جیسے تخلیقی تصورات کے ذریعے وقت کی بیقراری کو نئے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ندرت خیال اور فکری گہرائی ان کی شاعری کا اہم ترین وصف ہے، جس کا اندازہ ان کی ایک غزل کے مطلع سے ہوتا ہے:

جشن شب وقت شام کیوں آخر
اس قدر اہتمام کیوں آخر

یہاں ایک معمولی واقعے کو نئے مفہوم و معنی سے ہمکنار کیا گیا ہے۔ ان کے حمدیہ کلام میں بھی یہی فکری بلندی جلوہ گر ہے، جہاں وہ “مشرقین و مغربین” جیسے قرآنی تصور کو جدید شاعرانہ انداز میں پیش کرتے ہیں:

تیرے ہی تیرے ہیں قے رب مشرقین و مغربین
جو مصروف تناسب مشرقین و مغربین

مجموعی طور پر یہ مجموعہ کلام ”کوئی ہے‘‘ روایت اور جدت کا حسین امتزاج پیش کرتا معلوم ہوتا ہے، جس میں شیر افگن جوہر کا تخلیقی جوہر، اسلوب سخن کی ندرت اور فکری گہرائی نے مل کر اردو غزل کے دامن کو ایک نادر مجموعے سے سرفراز کیا ہے۔ ان کی غزلیات میں مضامین کا تنوع، بلند خیالی اور معنی آفرینی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے. ان کی غزلیات میں سوز وکرب، درد ،رنج و الم کی کیفیات بھی دکھائی دیتی ہیں. ایک غزل کا مقطع ہے:

بہت ہی ٹھوکریں کھائی ہیں اس نے
مگر جوہر کو چلنا آگیا ہے

ایک اور غزل کا شعر دیکھیں:

جس شخص کے پاس ایک بھی مخلص نہ ہو ساتھی
ایسا بھی یہاں مفلس و نادار کوئی ہے

ان کی شاعری ان کے فکری رجحانات کا آئینہ ہے. جابجا ایسے اشعار دیکھے جاسکتے ہیں جو انقلاب، رجائیت اور ان کے بلند حوصلے کے عکاس ہیں:

قوتِ بازو سے لا اپنے وطن میں انقلاب
شور بڑھتا جائے گا تجھ پر کڑی تنقید کا

بلا شبہ یہ مجموعہ نہ صرف ان کے فن کی بلندی کا ثبوت ہے بلکہ عصری اردو شاعری میں ایک اہم اور نمایاں اضافہ بھی ہے.