’’آج مجھے تعلیم سے متعلق سیمینار میں جانا ہے۔‘‘
انکل نے بتایا۔
’’لیکن آپ تو ماہرِ تعلیم نہیں ہیں۔‘‘
میں نے اعتراض کیا۔’’ہاں لیکن رکنِ اسمبلی تو ہوں۔‘‘
انکل مسکرائے۔ پھر کہا،
’’کل ایک کتاب کی تقریبِ اجرا میں جانا ہے۔‘‘
’’لیکن آپ تو ادیب نہیں ہیں۔‘‘
میں نے اعتراض کیا۔
’’ہاں لیکن رکنِ اسمبلی تو ہوں۔‘‘
انکل مسکرائے۔ پھر کہا،
’’پرسوں ایک ڈسپنسری کے افتتاح میں جانا ہے۔‘‘
’’لیکن آپ تو ڈاکٹر نہیں ہیں۔‘‘
’’ہاں لیکن رکنِ اسمبلی تو ہوں۔‘‘ انکل مسکرائے۔
میں نے ہولے سے کہا،
’’ہاں آپ رکنِ اسمبلی ہیں۔
کبھی اسمبلی بھی چلے جایا کریں۔‘‘
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











