عید کارڈ – عمارہ خان

گیارہ سال پرانی ماضی کی خوبصورت یادیں…
سکول کے زمانے میں دوستوں کی طرف سے دئیے گئے عید کارڈز جو میں نے آج تک بہت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں. اب عید کارڈ دینے کی روایت ہی دم توڑ چکی ہے. آج لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنی فائل سے پرانے کارڈز نکال کر دیکھے اور کھول کر ان کے پیغامات اور اشعار پڑھے، سکول کے زمانہ طالب علمی کی یادیں تازہ ہوگئیں… اور دوستوں کی باتیں، معصومیت، ہنسی مذاق سب ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آگیا.

عید کارڈ کا دور ختم ہو گیا
لیکن
عید جوں جوں قریب آتی جاتی ہے
وہ یادیں وہ شعر اب بھی یوں ذہن میں گردش کرتے ہیں جیسے کل کی بات ہو.
رمضان میں اگر سموسے پکوڑے کے سٹال کے بعد سب سے زیادہ رَش ہوتا تھا تو وہ تھے عید کارڈ کے سٹال…
ایک روپے کے چار کارڈ سے لے کر پانچ سو روپے تک کے کارڈ اتنی نفاست سے سجے ہوتے تھے کہ دل کرتا تھا یہ بھی خرید لوں وہ بھی خرید لوں، بلکہ سارے ہی خرید لوں.

اس دور کے چند مشہور اشعار💕

میٹھی ہے چینی، کڑوے ہیں بادام
عید کارڈ کھولنے والے کو میرا سلام

ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
میرا دوست لاکھوں میں ایک

چاول چنتے چنتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
تم سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

عید آئی زمانے میں
ارویل گر گیا غسل خانے میں

سویاں پکی ہیں، سب نے چکھی ہیں
تم کیوں روتے ہو تمہارے لیے بھی رکھی ہیں

وہ وقت بہت حسین تھا جب ٹوٹی ہوئی دوستی چھنگلی یا چیچی انگلی مل جانے سے جُڑ جاتی تھی، اور عید کارڈ اسے پختگی بخشنے کی ضمانت ہوتے تھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں