ممتاز شاعر طاہر حنفی 65 برس کے ہو گئے، سالگرہ کی تقریب کی رُوداد

گزشتہ شام ہمیں شہرِ علم و عرفان، ملک کے ممتاز ادیب، دانشور، محقق، کالم نگار، مؤرخ، شاعر، ادیب سینئر صحافی، 21 کتابوں کے مصنف محترم جناب جبار مزا کے عشرت خانہ پر ان سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ انھوں نے بہت شفقت و محبت کا مظاہرہ کیا اور خوب آؤ بھگت کی۔ اس دوران ہم ان کی دلچسپ، معلوماتی اور پرمغز گفتگو سے بھی مستفید ہوتے رہے۔ غیرت کے نام قتل پر محترم جبار مرزا صاحب کا یہ پنجابی شعر مجھے بہت پسند ہے۔

پَگاں اُچیاں کَر گَئیاں نے
کِنیاں کُڑیاں مَر گَئیاں نے
جبار مرزا

صبحِ غزل، خراج، آن دا ریکارڑ، چھوٹے لوگ، مرحلے، فاصلے، اور نشان امتیاز جیسی کتب کے مصنف کے ساتھ کافی دیر تک یہ نشست جاری رہی، محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان سے متعلق 34 برس کی یاد داشتیں نشانِ امتیاز میں موجود ہیں۔
”پہل اس نے کی تھی‘‘ ان کی آخری کتاب جو انھوں نے بہت محبت سے مجھے عنایت کی۔ جناب جبار مرزا صاحب جہاں ایک خوبصورت نثر نگار اور شاعر ہیں وہاں وہ ایک باخبر اور سینئیر صحافی اورایک کالم نگا رہونے کے ساتھ ایک ایسے محقق اور مؤرخ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں جنہیں بہت سے قومی معاملات و واقعات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور وہ انہیں اپنے صحیح تناظر اور تاریخی پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ اس یادگار اور شاندار نشست کے اختتام پر محترم جبار مرزا صاحب نے ہمیں نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ بہت پرخلوص انداز میں گھر سے باہر تک آکے الوداع کیا۔ میں ان کی اعلیٰ ظرفی، خندہ پیشانی اور مہمان نوازی کے لیے ان کا بےحد شکرگزار ہوں۔ اللہ پاک انھیں سلامت اور توانا رکھے۔ آمین۔

ذیل میں ممتاز شاعر جناب طاہر حنفی کی سالگرہ اس تقریب کے حوالے سے مختلف ادیبوں کے رائے پیش کی جا رہی ہے.


بڑا مزہ آیا – جبار مرزا
ممتاز شاعر جناب طاہر حنفی 65 برس کے ہو گئے…
ہمارا ان کا 47/48 برسوں کا ساتھ ھے، نوجوان دنوں کی یاد اللہ ھے، گزشتہ روز فون کیا اور کہا کہ ’’یار جبار آپ سے ملنے اور آپ کے پاس بیٹھنے کو دل کر رہا ھے، یار 2 مارچ سال رواں جب میرے دوسرے مجموعۂ کلام ’’گونگی ہجرت‘‘ کی تعارفی تقریب تھی تو عین اسی وقت ہماری بھابی اور آپ کی رانی کا بازو کندھے سے ٹوٹا تھا، باوجود اس کرب اور دکھ کے، رانی نے اسی کیفیت میں آپ کو میری تقریب میں شرکت کے لیے بھیج دیا تھا، یار جبار میں خراج تحسین کے طور بھی آپ کے ہاں اپنی 65 ویں سالگرہ کا کیک کاٹنا چاہتا ہوں، اگر آنے کی اجازت ہو تو میں محمودہ غازیہ اور سبین یونس صاحبہ کو اطلاع کردوں ؟‘‘
ہم نے منہ پکا کر کے مغل شہنشاہوں کی طرح کہا کہ ’’اجازت ھے!‘‘
اور پھر ہم نے جناب راج بیگ، ڈاکٹر فرحت عباس، جناب نسیم سحر اور جناب حسنین نازش کو بھی مطلع کر دیا، قیوم طاہر صاحب کی بیگم کی طبعیت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے روحانی طور سے تقریب میں شرکت کی.

جناب طاہر حنفی کی سالگرہ کا منفرد پہلو یہ تھا کہ اس تقریب میں اتنی باتیں نہیں ہوئیں جتنا کتابیات کا تبادلہ اور دور چلا ، محترمہ سبین یونس نے ”منزل سے زرا دور‘‘ اور ”دھوپ آنگن میں خواب‘‘ تحفہ کیں، محترمہ محمودہ غازیہ ، جناب نسیم سحر نے ظفر اقبال انجم کی کتاب ”سیرت سید کونین دی‘‘، طاہر حنفی نے اپنا تیسرا مجموعۂ کلام ”خانہ بدوش آنکھیں‘‘ اور جناب حسنین نازش نے اپنی تین کتابیں دیں جن میں سفر نامہ ”دیوار چین کے سائے تلے‘‘، ”قاردش، سفرنامہ ترکیہ‘‘ اور سفر نامہ ”امریکہ میرے آگے‘‘
چوں کہ ڈاکٹر فرحت عباس اپنی کتابیں ہمراہ نہ لا سکے تھے اس لیے کتابیں بانٹنے اور پھر ان پر نام لکھنے کا وقت انہوں نے فوٹو گرافی پر صرف کیا، طاہر حنفی اپنے تیسرے مجموعے ”خانہ بدوش آنکھیں‘‘ کے بہت سارے اضافی نسخے بھی تحفہ کر گئے، الغرض سارا ماحول کتابو کتاب ہوا رہا،
”بڑا مزہ آیا‘‘


ہمدم دیرینہ طاہر حنفی کی سالگرہ – نسیمِ سحر

ہمدم دیرینہ طاہر حنفی کی… ویں سالگرہ کی شاندار تقریب آج جناب جبار مرزا کے ”آستانے‘‘ پر شاندار طریقے سے منعقد ہوئی. اس میں خصوصی دعوت پر جن اصحاب و خواتین قرطاس وقلم. نے شرکت کی ان میں محترمہ محمودہ غازیہَ، محترمہ سبین. یونس، صاحبِ سالگرہ جناب طاہر حنفی، جناب بیگ راج، جناب حسنین نازش، ڈاکٹر فرحت عباس اور یہ خاکسار شامل تھے. جناب. طاہر حنفی نے جو ”ضخیم‘‘ کیک بنوایا تھا اس کی. خاص بات یہ تھی. کہ اس پر گُل بوٹوں کی جگہ حنفی صاحب کی کتابوں کے عنوانات چاکلیٹ اور کریم سے لکھے گئے تھے، کیک. کے علاوہ میزبان جناب جبار مرزا نے تو اپنی روایات کے مطابق ڈائیننگ ٹیبل کو وسعت دے کر ایک شاہی دسترخوان. کی صورت دے دی تھی جس میں فواکہات کے علاوہ دہی بھلے، بسکٹ کیک رس، چاٹ، گرم گرم. پکوڑوں کے علاوہ کئی دیگر اشیائے خورونوش شامل تھیں.
تالیوں اور ہیپی برتھ ڈے کی گونج میں طاہر حنفی نے کیک. کو ”ذبح‘‘ کیا اور پھر سب نے بڑے ہی خوش گوار ماحول. میں ڈائننگ ٹیبل سے پورا پورا انصاف کیا اور میزبان کے اہلِ خانہ. کو خوب خوب داد دی. باقی لوگوں نے تو کرسیوں پر بیٹھ کر تمام ڈشوں سے انصاف کیا مگر ڈاکٹر فرحت عباس نے یہ کام وہاں پڑے ہوئے کرسی نما جھولے پر بیٹھ اور جھول کر دکھایا. جب کہ جبار مرزا کی صاحبزادی میزبانی کے فرائض نبھانے کے ساتھ ساتھ مسلسل تصویر کشی میں بھی مصروف تھیں.

اس موقع پر طاہر حنفی نے اپنا تازہ شعری مجموعہ ”خانہ بدوش آنکھیں‘‘ اور اس خاکسار نے اپنا تیسرا حمد و نعت کا مجموعہ ”محورِ دو جہاں‘‘ سب دوستوں کی نذر کیا اور یوں تمام. مہمان ”کتابو کتاب‘‘ ہو کر آستانہء جباریہ سے واپس آئے.

ممتاز شاعر طاہر حنفی 65 برس کے ہو گئے، سالگرہ کی تقریب کی رُوداد” ایک تبصرہ

  1. السلام و علیکم : ممتاز حنفی صاحب کو 65 ویں جنم دن کی شب کامنائیں ۔ اردو ادب کی شمع جلاۓ رکھنے والی تمام عظیم ہستیوں کی خدمت میں” علامہ افتخار ” کا مودبانہ و عاجزانہ سلام اور انگنت دعا ئیں ❤🌹🙏

اپنا تبصرہ بھیجیں