پاکستان کے نامور محقق اور ادیب ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری کی پہلی کتاب ”شاہنامہ‘‘

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”شاہنامہ‘‘ پاکستان کے نامور محقق اور ادیب ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری کی پہلی تصنیف ہے جو تاریخ اور سیاحت و ثقافت جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے. اس کتاب میں ان کے وہ اضافہ شدہ مضامین شامل ہیں جو ایکسپریس سنڈے میگزین میں وقفے وقفے سے شائع ہو چکے ہیں۔ ”شاہنامہ‘‘ میں کل 15 مضامین ہیں جن میں سے 13 پاکستان اور 2 دیگر ممالک کے متعلق ہیں۔ پاکستان سے متعلق مضامین متنوع موضوعات کے حامل ہیں جن میں ہر صوبے اور خطے کو نمائندگی دی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کی موسیقی، وہاں کے ساز، دھنوں اور کھانوں پر بہترین مواد اس کتاب میں شامل ہے . علاوہ ازیں پاکستان بھر میں پھیلے مشہور اور غیر معروف قلعوں کے ذکر کےعلاوہ بدھ مذہب کی تاریخ، وطن عزیز میں واقع ان کی خانقاہوں، سٹوپوں اور عجائب گھروں کی مکمل تفصیل بھی کتاب کا حصہ ہے۔
زبانوں سے متعلق مضمون میں ان تمام زبانوں کا مفصل ذکر شامل ہے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور جن کہ بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ان میں بلوچستان و خیبر پختونخواہ کی بہت سی چھوٹی زبانیں بھی شامل ہیں۔
کتاب ”شاہنامہ‘‘ میں چنیوٹ کے مشہور گلزار محل کا قصہ جوآسیبی مشہور ہے، وبا کے دنوں میں لاہور شہر کی حالت زار اور پاک فوج میں اقلیتوں کے کردار کے حوالے سے بھی تحقیق شدہ مواد شامل ہے۔
جہلم داستان کے نام سے دریاٸے جہلم کی تاریخ، اس کا بہاٶ، راستے میں پڑنے والے مقامات و تعارف اور اس پر باندھے گئے بند، ان سب کا بیان کہانی کے انداز میں پیش کیا گیا ہے جو بڑوں کے ساتھ بچوں کے لیے بھی مفید ہے۔
پاکستان کی سرحدوں پر ایک مفصل مضمون پہلی بار لکھا گیا ہے۔ کہاں کون سی سرحد کس حال میں موجود ہے اور پاکستان کے لیے سیاسی و معاشی لحاظ سے کتنی اہم ہے، یہ سب آپ جان سکیں گے اس کتاب میں۔
مزید یہ کہ پاکستان کے تمام قومی پارک اور وہاں پائے جانے والی جنگلی حیات، نوروز کا تہوار اور اسکے لوازمات، نہر سویز کی تاریخ اور اہمیت، دنیا کے منفرد اور انوکھے خطوں کا احوال۔۔۔ یہ سب آپ جان سکیں گے آپ کتاب ”شاہنامہ‘‘ میں۔
یہ کتاب سی-ایس-ایس اور پی-پی-ایس-سی کی تیاری کرنے والے طلبا، سیاحوں، تاریخ دانوں اور اساتذہ کرام، سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ مختلف مقامات کی اہمیت کو واضح کرنےکے لیے کتاب میں چار صفحات پر 39 تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔
127 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو علی میاں پبلیکیشنز، لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 500 روپے مقرر کی گئی ہے.
یہ کتاب سنرجی بک سٹور (آن لائن) سے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہے:
0330-2244374


ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری کا تعلق ضلع رحیم یار خان کے تاریخی شہر خان پور سے ہےلیکن آپ گزشتہ نو سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ موصوف کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے۔ والد بینکر اور والدہ معلمہ رہ چکی ہیں۔ ادب سے لگاٶ اور لکھنے کا شوق بچپن سے ہی ساتھ ہے۔ ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد آج کل شیخ زید ہسپتال سے سپیشلائزیشن کر رہے ہیں۔ پیشے سے تو ڈاکٹر ہیں لیکن جہاں گرد مشہور ہیں۔ اپنے شہر میں ایک چھوٹے سے نجی عجائب گھر و لائبریری کے قیام کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
موصوف نے شروع میں کچھ عرصہ بچوں کے ماہناموں میں لکھ کہ شوق پورا کیا۔ لڑکپن میں ”سرگزشت ڈائجسٹ‘‘ میں بطور تبصرہ نگار قلم آزمائی کی۔ میڈیکل کالج میں آئے تو یہاں کے سالانہ میگزین ”الیگزیر‘‘ کے مدیر اور مدیرِ اعلیٰ کے طور پہ بہترین کام کیا۔ یہیں سے لکھنے کے شوق کو تقویت ملی۔
سیاح اور آوارہ گرد تو تھے ہی 2018ء میں جب باقاعدہ سفرنامے لکھنا شروع کیے تو ان سفرناموں کو ”ایکسپریس میڈیا گروپ‘‘ کی جانب سے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ تب سے آپ روزنامہ ایکسپریس کے ساتھ بطور فیچر رائٹر و کالم نگار منسلک ہیں اور سیاحت، آثارِ قدیمہ، ثقافت، تاریخ و انٹرویو سمیت کئی وسیع موضوعات پر قلم آزمائی کر چکے ہیں۔
سیاحت کے ادارے، ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کے ماہنامے ”ایکسپلور پنجاب میگزین‘‘ کے لیے بھی لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب کی تحریریں ایکسپلور پاکستان ٹائمز، سحر ڈائجسٹ، پاکستان ٹائمز و دیگر مقامی اخبارات و جرائد میں بھی چھپ چکی ہیں۔
تین سال پہلے آپ نے اپنی تحقیق، تحاریر اور تصاویر کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ”شاہنامہ‘‘ کے نام سے ایک فیس بک پیج بنایا تھا، یہی نام آگے چل کہ آپ کی پہچان بنا اور پہلی کتاب کے عنوان کا حقدار ٹھہرا۔
جنوبی پنجاب میں نئی جگہوں کی کھوج اور ان کو عوام کے سامنے لے کر آنے پہ آپ کو سراہتے ہوئے ”قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن‘‘ نے آپ کا ایک تفصیلی انٹرویو بھی کیا۔ موصوف سیاحت، ثقافت و تاریخ، سماجی خدمت اور آثار قدیمہ کی مختلف تنظیموں کے رکن بھی ہیں جن میں کراس روٹ انٹرنیشنل بائیکر کلب، پاکستان آرٹسٹس بلاگرز رائٹرز ریڈرز اینڈ پوئیٹس، تابناک ، بخاری ویلفیئر اور وسیب ایکسپلورر شامل ہیں۔
ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری مختلف پلیٹ فارمز پر بہترین لکھاری کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
اپنے قارئین کی پر زور فرمائش پر بخاری صاحب کی اشاعت شدہ کچھ تحریروں کو ہی آپ کی پہلی کتاب ”شاہنامہ‘‘ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے لیکن حکمِ ربی سے یہی قطرہ آگے چل کر موسلا دھار بارش کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ انشاء اللہ
ادارہ ”کتاب نامہ‘‘، ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری کی ترقی اور کامیابی کے لیے دعا گو ہے.


اپنا تبصرہ بھیجیں