’’ایک کلومیٹر کی سڑک کے لئے پچیس کروڑ کا بجٹ ہے۔
مجھے کتنا کمیشن دو گے؟
سڑک کتنے میں بناؤ گے؟‘‘
میں نے ٹھیکے دار سے پوچھا۔
اس نے کاغذ پر کچھ حساب کتاب کیا۔
’’کنکریٹ کی چوڑی سڑک دس کروڑ میں بنے گی۔
کم از کم دس سال چلے گی۔
آٹھ کروڑ لگائیں گے تو آٹھ سال میں ٹوٹ جائے گی۔
سڑک پانچ کروڑ میں بھی بن سکتی ہے،
لیکن چار پانچ سال میں بیٹھ جائے گی۔‘‘
ٹھیکے دار نے بتایا۔
میں نے کہا،
’’الیکشن میں ایک سال باقی ہے۔
بس اتنا مال لگاؤ کہ الیکشن تک چل جائے۔‘‘
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











